Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی علاقے گولن ہائٹس پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرنے کی دستاویز پر دستخط کردیے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں گولن ہائٹس پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ اس کام میں بہت عرصہ لگ گیا حالانکہ یہ کام عشروں پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج وہ اس اعلان پر دستخط کر رہے ہیں جس کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوجائے گا، اسرائیل نے اپنے دفاع کو مضبوط کرنے اوربیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے 1967 میں گولن ہائٹس پر قبضہ کیا تھا ۔


امریکی صدر نے کہا کہ لوگ باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ ہم نے نہ صرف یروشلم میں سفارتخانہ میں منتقل کیا بلکہ ایک ارب ڈالر خرچ کرکے اس کی تعمیر بھی کی۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکی صدر نے اسرائیل کیلئے ناقابل یقین حمایت دکھائی ہے، انہوں نے اسرائیل کے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کی اور جب بھی ہم نے اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھایا تو ٹرمپ نے کبھی ہمیں نہیں ٹوکا۔


دستخط کی تقریب کے اختتام پر اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شراب کا تحفہ بھی پیش کیا اور کہا ’ میں آپ کیلئے عمدہ شراب کا تحفہ لے کر آیا ہوں لیکن مجھے پتا ہے کہ آپ زیادہ شراب نہیں پیتے اس لیے کیا میں یہ آپ کے سٹاف کو اس امید کے ساتھ دے سکتا ہوں کہ وہ اس کی تحقیقات شروع نہیں کریں گے؟‘۔


خیال رہے کہ گولن ہائٹس شام کا حصہ ہیں جس پر اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا اسے شام کا حصہ تسلیم کرتی ہے ۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.