Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکپتن کے مزدور میٹرک پاس نوجوان فیاض نے اپنی زمین بیچ کر اپنا جہاز بنایا تو پولیس نے اسکے ساتھ کیا سلوک کیا؟


پاکپتن کا میٹرک پاس نوجوان فیاض جو دن میں پاپ کارن بیچتا اور رات کو پرائیویٹ یونیورسٹی میں چوکیداری کرتا تھا اس نے اپنی مدد آپ کے تحت جہاز تیار کرلیا لیکن جب اس نے ٹیسٹ فلائٹ کی تو پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

پاکپتن کی تحصیل عارفوالا کے علاقے محمد نگر کے گاﺅں 50 ای بی کے نوجوان فیاض نے اپنی مدد آپ کے تحت جہاز تیار کرلیا۔ فیاض نے یہ جہاز تیار کرنے کیلئے دن رات محنت کی اور اپنی زمین تک بیچ دی۔ فیاض کے والد کا انتقال ہوگیا تھا جس کے باعث وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اورمیٹرک کے بعد ہی حصول روزگار کی تگ و دو میں مصروف ہوگیا۔ فیاض دن کے وقت پاپ کارن بیچتا ہے جبکہ رات کو ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں چوکیدار کی ملازمت کرتا ہے۔
نوجوان نے اپنی 4 کنال زمین فروخت کرکے جہاز بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہوسکی ۔ اس نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور بینک سے 50 ہزار روپے قرض لے کر فیصل آباد سے بڑا انجن خرید کر لایا اور دوبارہ جہاز تیار کیا۔ اب کی بار اس نے اپنے گاﺅں والوں کے سامنے جہاز اڑانے کا مظاہرہ کرنا تھا لیکن اس سے پہلے کہ اسے اپنے تجربے میں کامیابی حاصل ہوتی کسی نے تھانہ رنگ شاہ پولیس کو اطلاع کردی جس نے نوجوان کو گرفتار کرکے اس کا جہاز ضبط کرلیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے اہلکار فیاض کے جہاز کو ٹریکٹر ٹرالی میں لاد کر تھانے لے کر گئے۔



تھانہ رنگ شاہ کے ایس ایچ او نثار بھٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیاض کو حفاظتی نقطہ نظر کے تحت حراست میں لیا ہے۔ نوجوان کی ناقابل بھروسہ تخلیق کو ضبط کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچ سکے۔

دوسری جانب نوجوان فیاض کے خلاف قانون کی دفعات 285، 286 اور 287 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اے ایس آئی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نوجوان نے جہاز بغیر پرمٹ کے بنایا اور اس کے خطرناک کرتب بھی دکھائے، جس وقت پولیس موقع پر پہنچی تو جہاز لینڈ کر رہا تھا۔



تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.