Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




مسلم ممالک کی بقا کس میں ہے


اگر آپ ایک انگلی سے کسی کو ماریں گے تو اگلے بندے کو تکلیف پہنچنے کی بجائے آپکی انگلی ٹوٹ جانے کا اندیشہ زیادہ ہے، لیکن اگر آپ ساری انگلیوں کی مُٹھی بنا کر ایک مُکا ماریں گے تو دوسرے بندے کو یقیناً تکلیف پہنچے گی اور وہ اکیلی انگلی والے کی نسبت مُکے والے سے محتاط رہے گا۔ یہ مثال اکیلے انسان کیلئے بھی ہے، ایک خاندان، قوم، یا مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی ہے، اور خاص طور پر ساری دنیا میں تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے مسلمان ممالک اور انکے اندر رہنے والے فرقہ پرستی، اور قوم پرستی میں غرق انفرادی مسلمانوں کیلئے بھی ہے۔

اسلام نبی صلی اللہ وسلم کی زندگی میں مکہ اور مدینہ جیسے چھوٹے شہروں سے پھیلتا ہوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک تقریباً آدھی دنیا تک پھیل چُکا تھا، غیرمسلم قوموں کے دل میں ڈر تھا اور اسکی وجہ یہی تھی کہ مسلمان اللہ اور نبی کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے متحد تھے، اپنے مجموعی اسلامی مفادات کو اپنے انفرادی مفادات پر ترجیع دیتے تھے، مسلمانوں کی فتوحات اور ترقی کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک مسلمانوں کی اکثریت اللہ اور نبی صلی اللہ وسلم کے احکامات پر متحد ہو کر چلتی رہی، جب ان میں سے اکثریت نے اپنے اسلاف کے نظریے سے انحراف کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو ان پر زوال آنا شروع ہوگیا، لیکن کچھ صدیوں بعد جب تُرکوں نے ایک ہو کر اللہ اور نبی کی باتوں پر عمل کرنا شروع کیا تو اللہ تعالی نے تُرکوں کو خلافت عثمانیہ کی شکل میں وہ عظیم الشان طاقت بخشی کہ وہ آٹھ سو سال تک ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں پر بلا شرکت غیرے حکومت کرتے رہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی عروج ملتا رہا ہے وہ کچھ عرصہ بعد انفرادی مفادات کیلئے تقسیم در تقسیم ہو کر بدترین زوال کا شکار ہوتے رہے ہیں، بیسویں صدی کے اوائل میں جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو تُرکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور جب جرمنی کو شکست ہوئی تو برطانیہ اور فرانس نے مل کر تُرکی کے درجن بھر ٹکڑے کر دیئے برطانیہ نے عراق کے تیل کے کنوں پر قبضہ کر لیا اور فلسطین کے مسلمانوں کو سبز باغ دکھائے کہ وہ انہیں تحفظ دے گا اور مسلمانوں اور یہودیوں کو اکٹھے اس ملک میں رکھے گا لیکن بعد میں برطانوی سامراج نے اپنی روایتی دغابازی دکھاتے ہوئے پہلے فلسطین کو اپنی کالونی بنا لیا اور پھر دوسری جنگ عظیم میں خود کمزور ہونے پر فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا، فرانس نے لبنان اور شام پر قبضہ کر لیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس اور برطانیہ دونوں نے ہر ترکش ٹکڑے پر اپنا کوئی نہ کوئی وفادار مسلمان حکمران بنا کر بٹھا دیا، وہ تُرکی جس کے نام سے غیر مسلم ممالک کانپ جاتے تھے تقسیم کے بعد انتہائی کمزور ہوگیا۔

ترکی کی تقسیم کے بعد بننے والے ممالک تقریباً سو سال تک کسی نہ کسی طرح برقرار رہے ہیں لیکن آخر کار فرقہ پرستی، قوم پرستی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپس کی نفرت کا شکار ہو کر تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں، امریکہ اور برطانیہ نے ساری دنیا کے سامنے عراق پر جھوٹا الزام لگا کر حملہ کیا اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجا دی، کوئی مسلمان ملک اسکی مدد کو نہ آیا، اسکی وجہ صدام حسین کی ہٹ دھرمی تھی اگر صدام ترکی کے ساتھ دوبارہ الحاق کر لیتا تو کبھی مغربی طاقتوں کی اس پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوتی، شام میں بھی جھوٹ کا سہارا لیکر امریکہ روس برطانیہ، ایران اور سعودی عرب نے لاکھوں شامی مار دیئے ہیں، وجہ اس میں بھی شامی صدر بشارالاسد کی ہٹ دھرمی ہے، اب اگلا نمبر ایران کا ہے، ایران نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تمام مسلمان ممالک سے اپنے تعلقات خراب کیئے ہوئے ہیں، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ میں پہلی بار پوری ایرانی فوج کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے جو ملک اس فوج سے لین دین کرے گا وہ بھی دہشت گرد ہوجائے گا، امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔

اگر آج امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرتے ہیں تو سارے مسلمان ممالک یقینی طور پر صرف افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے، ایران پر حملہ جلد یا بدیر ہونا ہی ہے اس سے صرف ایک ہی صورت میں بچا جاسکتا ہے کہ پاکستان، ایران اور ترکی جو ایک لائن میں ہیں اور انکی زمینی سرحدیں بھی ملتی ہیں انکی حکومتیں، فوجیں اور علماء پہلے مل بیٹھ کر “کچھ دو اور کچھ لو” کی بنیاد پر فرقہ ایک کرنے پر متفق ہو جائیں، مشترکہ گائیڈ لائنز بنائی جائیں اور اپنے اپنے ممالک میں ان پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے، جب مکمل طور پر ایسا ہو جائے تو تینوں ممالک کی فوج اور کرنسی کو ایک کر دیا جائے اور تینوں ممالک ایک فیڈریشن میں اکٹھے رہیں، ایسی صورت میں کسی دوسرے ملک کی حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوگی، سعودی عرب سمیت دوسرے عرب ممالک میں چونکہ بادشاہت قائم ہے اور وہ ایسا نہیں کرسکتے لیکن ترکی ایران اور پاکستان ایسا کر سکتے ہیں اگر یہ کامیاب ہوجائیں تو ایک دن عرب ممالک بھی انکے ساتھ مل سکتے ہیں، ایسا کرنے کیلئے ابتداء ایران کو کرنا پڑے گی کیونکہ ایران میں موجود آبادی کے لحاظ سے پاکستان اور ترکی کی نسبت اقلیتی فرقہ ہے جس میں باقیوں کی نسبت زیادہ تبدیلیاں آئیں گی اور سرِ دست خطرہ بھی ایران کو ہی ہے، اگر تینوں ممالک ایسا نہیں کرتے تو یکے بعد دیگرے سب کا نمبر آنے والا ہے، کسی کو کسی بھی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئیے بلکہ عملی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں نہیں کریں گے تو انکا حشر اقبال کے اس تبدیل شدہ شعر کے مطابق ہوجائے گا۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمان ممالک 
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!!! 
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.