Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




سری لنکن دہشت گردی کے اصل محرکات


سری لنکا کے چرچ حملوں میں معصوم لوگوں کی ہلاکت پر جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن ان حملوں کے بعد ہزاروں مسلمان خاندانوں پر بدھوؤں اور ہندوؤں کے حملے بھی قابل مذمت ہیں۔ سری لنکا میں ہزاروں پاکستانی اور افغانی مسلمانوں کے خاندان پرسکون رہ رہے تھے، کہ اچانک ان نام نہاد حملوں کے بعد لوکل غیرمسلموں نے مسلمانوں کے گھروں، دوکانوں اور مسجدوں کو آگ لگانا شروع کردی ہے، خوشحالی کی زندگی گزارتے ہوئے مسلمان اچانک اپنے بیوی بچوں سمیت دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ان واقعات میں پراسرار بات یہ ہے کہ سری لنکن حکومت کو ایسٹر حملوں کی امریکہ اور انڈیا نے پہلے سے ہی وارننگ دے دی تھی، اور انڈین راء نے پلوامہ حملوں کی طرح ایسٹر حملوں کے فوراً بعد ہی بغیر کسی تحقیق کے سری لنکن غیر معروف تنظیم نیشنل توحید جماعت کو ذمہ دار قرار دے دیا تھا، اور سری لنکن حکومت نے بھی انڈین بیانیے کی تائید کردی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے کی اس دہشت گردی میں سی آئی اے کے ساتھ ساتھ انڈین راء کا ہاتھ بھی ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ ان سارے واقعات میں دہشت گرد گروپ آئی ایس آئی ایس کہیں سویا ہوا تھا، اور حملوں کے دو تین دن بعد اسے ہوش آیا اور اس نے بھی  ذمہ داری قبول کرلی، یہ حملے، ان پر الزامات اور ذمہ داریاں سب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلیئے گھڑے جارہے ہیں، ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ نے طالبان بنائے اور پہلے انہیں ہیرو بنا کر روس کے ٹکڑے کروائے اور پھر انہیں دشمن بنا کر افغانستان پر حملہ کردیا اور پہلے سے جنگ زدہ افغانستان کی اینٹ سے انیٹ بجا دی، اس تجربے سے سیکھتے ہوئے امریکہ نے اسرائیل کی مدد سے دہشت گرد گروپ آئی ایس آئی ایس بنایا اور داعش کی داغ بیل ڈالی، انکا مقصد نہ صرف مسلمان ممالک میں تباہی مچا کر انکی اکانومی کا بیڑا غرق کرنا تھا، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کا سوفٹ امیج بھی دنیا کی نظر میں خراب کرنا تھا۔

چاہے طالبان تنظیم ہو، داعش ہو یا آئی ایس آئی ایس ہو، ان سب میں سو فیصد مسلمان کام کرتے ہیں اور انہیں اسلحہ، خودکش حملوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد، معاشی اور لوجسٹک سپورٹ انہیں بنانے والے ممالک دیتے ہیں، اور ان تنظیموں کے اہداف انہیں بنانے والے ممالک کے مخالفین ممالک کی تنصیبات اور مسلمان ممالک کی اکانومی اور حکومتی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہوتا ہے، ان تنظیموں کی جرات نہیں ہے کہ یہ اسرائیل یا امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کرسکیں، کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف انکی فنڈنگ بند ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے، بلکہ انہیں بنانے والے باآسانی انہیں تباہ بھی کرسکتے ہیں۔

میری اس تحریر میں موجود تمام باتیں کوئی خفیہ معلومات نہیں ہیں بلکہ زبان زد عام باتیں ہیں اور بچے بچے کی زبان پر ہیں، درد دلُ رکھنے والے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں کروڑوں غیر مسلم لوگ بھی ان حقائق سے واقف ہیں، اگر کچھ لوگ لاعلم ہیں تو وہ مسلم ممالک کے حکمران ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے افغانستان، لیبیا، یمن، عراق اور شام کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے جبکہ باقی مسلمان ممالک کا یکے بعد دیگرے وقت آنے والا ہے، کاش باقی بچنے والے ممالک کے حکمران جاگ جائیں اور کرپشن اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر ایک ہوجائیں تاکہ بچی کُچی مسلم دنیا کو محفوظ بنایا جاسکے، لیکن بظاہر یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی، اور ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم دہشت گرد تنظیموں کے بنانے والے دماغ کامیاب ہوجائیں گے😢۔

مسلمان ممالک کے حکمران ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں، کہ وہ جتنی مرضی کرپشن کر کے پیسے جوار لیں، امریکہ یورپ میں اپنے اثاثے بنا لیں، اگر معمر قذافی، صدام حسین اور دوسرے لیڈروں کے اثاثے نہیں بچ سکے تو بچیں گے موجودہ حکمرانوں کے بھی نہیں، لحاظہ ابھی وقت ہے ہوش کے ناخن لے لیں اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اجتماعیت کی طرف آ جائیں، اسی میں سب کی نجات ہے، اگر ایسا نہیں کریں گے تو سب ختم ہوجائے گا، اور انہیں پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملے گا😢۔  
  #طارق_محمود
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.