Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




کراچی یونیورسٹی میں پروفیسرز کی طالبات کیساتھ جنسی حراسمنٹ کے واقعات میں اضافہ



کراچی یونیورسٹی کے ماس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ میں زیر تعلیم کچھ طالبات نے اپنے پروفیسرز پر جنسی حراسمنٹ کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بلاوجہ اپنے کمرے میں طلب کیا جاتا ہے، جائیں تو کمرہ بند کرلیا جاتا ہے، ناجائز تعلقات پر مجبور کیا جاتا ہے اور نہ ماننے پر فیل کردیا جاتا ہے، اگر بلانے پر نہ جائیں تو واٹس ایپ پر غیراخلاقی اور نامناسب پیغامات بھیجے جاتے ہیں،اب وہ کلاس میں جانے سے کترانے لگی ہیں، تعلیم کا حصول بے عزتی کا سودا بن گیا ہے۔

طالبات نے ریگولر اسسٹنٹ پروفیسر اور ایک کوآپریٹو ٹیچر پر صرف الزامات نہیں لگائے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ اپنی تحریری شکایت وائس چانسلر اور طلبہ کے معاملات کی نگرانی کرنے والے مشیر ڈاکٹر عاصم کو جمع کرادی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الزامات کی زد میں آنے والے اساتذہ سے بھی رابطہ کیا لیکن وہ مؤقف دینے سے انکار کرتے رہے۔ ان کا اصرار تھا کہ پہلے اُن طالبات کا نام بتائیں جنہوں نے شکایت کی ہے، جب تک طالبات کا نام نہیں بتائیں گے، تب تک مؤقف دینے کا فائدہ نہیں، طالبات کے نام عام کرنے سے انکے خلاف یہی اساتذہ طالبات کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کرسکتے ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.