Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




صحافت گردی


کسی بھی معاملے کی تحقیق اور پھر اسے بصری یا تحریری شکل میں قارعین کی نظر کرنا صحافت کہلاتا ہے اس عمل میں حصہ لینے والے کو صحافی کہا جاتا ہے۔ صحافت میں بنیادی کام عوام تک حکومت سے متعلق اور دیگر معاملات کے معلومات تک رسانی اور مختلف زریعے سے عوام کو باخبر رکھنا ہے۔ 1605ء میں چھپنے والا اخبار، Relation aller Fürnemmen und gedenck würdigen Historien دنیا میں پہلا اخبار شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا انگریزی اخبار جو 1702ء سے 1735ء تک جاری رہا، پہلا مقبول ترین اخبار سمجھا جاتا ہے۔ جدید دور میں، صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور عوامی رائے پر اثرانداز ہوئی ہے۔ عوام کا بڑے پیمانے پر اخباروں پر معلومات کے حصول کے لیے اعتماد صحافت کی کامیابی کی دلیل ہے۔

اب اخباروں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عوام تک رسائی ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور ریڈیو کے ذریعے بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات بارے معلومات کا حصول انتہائی آسان ہو گیا ہےصحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں زیادہ تر صحافی صحافت کے اس تعریف پر پورا نہیں اترتے ہیں بس نام کی صحافت ہے اور صحافی بنے ہوئے ہیں باقی کام دوسرے ہیں، جس سے عوام کا صحافت سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کے کچھ گروپ بنے ہوئے جنہوں نے صحافت جیسے شعبے جسے ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہیں اسے صحافت گردی بنایا ہوا ہے۔ صحافت سے صحافت گردی تک یہ سفر کیسے ممکن ہوا ملاحظہ فرمائیں۔ لاہور کے کمرشل ایریا کا پٹرول پمپ جو نواز شریف کے دور میں مجیب الرحمان شامی کے بیٹے کو سالوں سے 15 ہزار روپے ماہانہ لیز پے ملا ہوا تھا وہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کی سوموٹو ایکشن کیوجہ سے کینسل ہوا اب حکومت پنجاب نے دوبارہ نیلامی کرکے وہی پٹرول پمپ 40 لاکھ ماہانہ لیز پے دیا ہیں۔

سوچیئے مجیب الرحمان شامی صاحب کی جو خصوصی ہمدردی اور محبت شریف فیملی سے تھی اسکی پیچھے کیا چیز کارفرما تھی اب وہ کیسے اس حکومت کے اچھے کام بتائے گا وہ ٹی وی پر یہی بتاتا نظر آئے گا کہ ”جیل سے نواز شریف انقلابی بن کے نکلے گا“ بہت خطرناک بنے گا، مریم اور بلاول مستقبل کے وزیر اعظم بنیں گے مگر کبھی انکے منہ سے یہ سننے کو نہیں ملے گا کہ 22 کڑور عوام میں بھی مریم اور بلاول سے ہزار درجہ بہتر ایسے جوان بھی ہیں جو مستقبل میں وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

ایک یہ والا گروپ تھا جنہیں بلواسطہ یا بلا واسطہ مراعات دی گئی تھی جس سے وہ کڑوروں کے فوائد لے رہے تھے پھر وہی فوائد لینے کے بعد سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا ان کا وطیرہ بن گیا ہے۔ دوسرا مخصوص صحافیوں کا وہ گروپ تھا جو وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب شہاز شریف کے ہیلی کاپٹر کے جھولے لے رہے تھے جہاں بھی وزیر اعظم اور سابق وزیر اعلی پنجاب دورے پر جاتے وہی گروپ ہیلی کاپٹر میں موجود ہوتا تھا۔ تیسرا گروپ کچھ ایسے مخصوص صحافیوں کا تھا جو بیرون ملک نواز شریف کے دوروں میں ساتھ ہوتے تھے انکے تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی اور خفیہ فنڈ کے ذریعے انہیں تحفے تحائف اور بیرون ملک شاپنگ کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔

چوتھا گروپ وہ تھا جنہوں نے ڈمی اخبارات نکالے ہوئے تھے جو کاغذات میں تو تھے مگر مارکیٹ میں نہیں جنہیں لاکھوں کڑوروں کے اشہتارات مل رہے تھے۔ پانچواں گروپ خوش آمدی ٹولے کا تھا جو بڑے نامور فلاسفر دانشور گردانتے جاتے ہیں مگر وہ گروپ مراعات لیکر اپنے کالموں اور دیگر تحاریر کے ذریعے نواز شریف کی جھوٹی خوش آمدی اور چاپلوسی میں حد کرتے تھے جنہیں حکومتی مشیر اور پی ٹی وی میں اعلی عہدے بھی دیئے گیے تھے۔ چھٹا گروپ وہ ہے جنکا ڈائریکٹ مریم صفدر سے رابطہ تھا اور اب بھی ہے باقائدہ ان سے ہدایات لی جاتی ہیں انکے ساتھ خفیہ میٹنگز میں شریک ہوتے ہیں اور واٹس اپ گروپ کے ذریعے ایک مخصوص طریقے سے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور بے بنیاد طریقے سے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

یہ سب بہت ہی منظم طریقے سے ہوتا تھا کس نے کب سنسنی پھیلانی ہے کب کونسی بات آگے پھیلانی ہے اور کونسی بات روکنی ہے یہ سب کچھ باقائدہ مشاورت اور پلان سے ہورہا تھا۔ اب اگر ان صحافیوں کی جس نے پہچان کرنی ہے تو انکے 2018 سے پہلے کی حکومت کے لیے خبریں تجزیے تبصرے اور خیالات دیکھیے اور انکی بیرون ملک دوروں ہیلی کاپٹر کے جھولوں مراعات اور سرکاری اخراجات پر حج اور دیگر سہولیات کا بغور جائزہ لیں اور اب 2019 میں انکے خیالات سوشل میڈیا پر ٹویٹس اور دیگر معاملات دیکھیں ایک ایک کھل کے سامنے آئیں گے کون کس گروپ میں تھا۔

ایسے لوگ صحافت کے لبادے میں صحافت پر بد نما داغ ہیں اور ایسے لوگوں کی موجودگی میں پیشہ ورانہ صحافت ناممکن ہے اور نہ ہی کسی اچھے صحافی کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ صحافتی تنظیموں کو چاہیے وہ میڈیا مالکان کی آلہ کار بننے کی بجائے اپنے شعبے کے ایماندار صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کریں اور جو لوگ صحافت کے لبادے میں بلیک میلنگ اور مراعات لینے میں ملوث رہے ہیں انکو بےنقاب کریں تاکے عوام میں ایک بار پھر صحافتی اقدار بحال ہو۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ دوسرے ممالک کی طرح قانون سازی کرکے جھوٹی خبریں اور جھوٹے پروپیگنڈے میں شریک صحافیوں کو قانون کی گرفت میں لائیں اور کسی بھی صحافی کو کسی بھی باعزت شہری چاہیے وہ سیاست دان ہو یا تاجر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو انکو بلیک میل کرنے کے لیے ذاتی زندگی پر کردار کشی کی ہرگز اجازت نہ ہو ۔ میڈیا مالکان کے لیے بھی باقائدہ ایک ضابطہ اخلاق جاری ہو جس پر سختی سے عملدر آمد کرکے میڈیا ملازمین اور ورکروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.