Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستان میں نئے صوبوں کا مسئلہ


کسی بھی ملک میں صوبوں کی تعداد میں کمی بیشی کوئی ایسا بڑا ایشو نہیں ہے۔مختلف ممالک مقامی حالات اور عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے انتظامی یونٹس کی تعداد کم یا زیادہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر ایک طرف بھارت میں نئےصوبے بنائے جانے کی مثال ہمارے سامنے ہے تو دوسری طرف فرانس میں صوبوں کی تعداد کم کئے جانے کی مثال بھی موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی صوبے کا چھوٹا یا بڑا ہونا سرے سے عوام کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ عوام کو اپنے مسائل کاحل مطلوب ہے۔ اگر ان کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے رہیں تو ان کو صوبے کے سائز سے قطعاً کوئی غرض نہیں۔ مسئلہ تبھی پیدا ہوتا ہے جب عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے اور انہیں اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کےلئے دور دراز کا سفر کرنا پڑے۔

تاہم اگر وطن عزیز میں حکومت جنوبی پنجاب یا کسی اور نئے صوبے کی ضرورت محسوس کرتی ہے یا کسی صوبے کے سائز کو چھوٹا یا بڑا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ایک اصول بہرحال طے کر لینا چاہئیے۔

اگر دارالحکومت سے دوری کا اصول مان لیا جائے تو ملتان لاہور کا درمیانی فاصلہ ماپنے کے ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ بلوچستان جو پورے پاکستان کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہے اس کے ساحلی علاقے کوئٹہ سے کسقدر دوری پر ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان والے پشاور سے کتنے دور ہیں اور کشمور یا گھوٹکی والے کراچی سے کتنی مسافت پر ہیں۔

اگر ایک نسلی یا لسانی گروہ کو اصول مان لیں تو خیبر پختونخوا میں ہزارہ والے ایک الگ گروہ ہیں جو پشتو نہیں بولتے۔ ان کا اپنا الگ کلچر اور اپنی زبان ہے نیز وہ اپنے الگ صوبے کیلئے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ سندھ میں اردو سپیکنگ کمیونٹی کی یہی صورتحال ہے۔ان کا اپنا کلچر اور اپنی زبان ہے۔ بلوچستان میں پختون اور براہوی الگ نسلی گروہ موجود ہیں۔

ملتان اور نواحی اضلاع میں بولی جانے والی زبان خیبر پختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے علاوہ سندھ کے کئی اضلاع میں بھی بولی جاتی ہے۔ پنجابی زبان کا یہ لہجہ بولنے والوں کو اگر ایک الگ نسلی گروپ تصور کر لیا جائے تومندرجہ بالا اصول کی روشنی میں دیگر صوبوں کے یہ اضلاع بھی مجوزہ نئے صوبے میں شامل کئے جانے چاہئیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا کوئی بھی حامی یہ بات نہیں کرتا۔ شاید ان کو سندھی اور پختون قوم پرستوںکے سخت ردعمل کا اندازہ ہے۔

نئے صوبوں کے سلسلے میں اکثر دوست بھارت کی مثال دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت میں یوپی نام کا بھی ایک صوبہ موجود ہے جس کی آبادی پورے پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ پھر بھی اس کے سائز کو کم کرنے کاکوئی مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح وہاں پر دو دو تین تین کروڑ آبادی کے چھوٹے صوبے بھی موجود ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کا چھوٹا یا بڑا ہونا زیادہ اہم نہیں بلکہ نئے انتظامی یونٹ بنانے کے لئے کئی اور عوامل بھی ہوتے ہیں جوآبادی سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔

بھارت نے آزادی کے فوراً بعد ایک صوبہ کمیشن بنایا تھا۔ جس نے تقریباً دو سال کی طویل ریسرچ اور غوروخوض کے بعد اپنی سفارشات حکومتِ ہند کو پیش کیں جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ملک کے کون کون سے علاقوں میںنئے انتظامی یونٹ بننے چاہئیں۔

ہمارے ہاں حکومت ایک طرف تو پنجاب کو بڑا صوبہ کہہ کر اس کی تقسیم کا پلان بنا رہی ہے مگر دوسری طرف پہلے سے موجود ایک الگ اکائی یعنی قبائلی علاقے کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس سے حکومت کی نیت پرشکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے۔کیونکہ اگر حکومت ملک میں چھوٹے صوبے بنانے میں مخلص ہوتی تو وہ قبائلی علاقے کو ایک الگ صوبے کا درجہ دیتی۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا نہیں بلکہاصل مسئلہ کچھ اور ہے۔

نئے صوبوں کے سلسے میں ایک اور پہلو کو عموماً بحث کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور وہ ہے اخراجات کا معاملہ۔ ایک نیا صوبہ، وزیر اعلیٰ، اسمبلی، سیکریٹیریٹ، وزراء، بیوروکریسی۔ کیا کوئی بھی نیا صوبہ یہ سب اخراجات برداشت کر سکے گا۔جبکہ ملک پہلے ہی معاشی بدحالی کےبدترین دور سے گزر رہا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس سلسلے میں یورپ کے انتہائی ترقی یافتہ ملک فرانس کی مثال کسی مباحثے میں نظر نہیں آتی جس نے چھوٹے انتظامی یونٹس پر اٹھنے والے اخراجات بچانے کیخاطر یکم جنوری 2016 کو اپنے صوبوں کی تعداد تقریباً نصف یعنی 22 سے 12 کر دی ہے۔

وطن عزیز میں گزشتہ کچھ عرصے سے نئے صوبوں کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ملتان، بہاولپور کے علاوہ کراچی اور ہزارہ سے بھی الگ صوبے کی تجاویز اور مطالبات سامنے آئے ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے بہترین حل بھارت کی طرز پر ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانا ہے۔ جو سیاسی، انتظامی،لسانی ، تہذیبی ، ثقافتی اور دیگر تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر اپنی سفارشات طے کرے۔

اس کے علاوہ ایک سب سے آسان ، تیز رفتار اور قابل عمل حل یہ ہے کہ ملک کے تمام ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دے دیا جائے اور صوبائی وزراء کی تعداد مقرر کر کے ان کے غیر ترقیاتی اخراجات محدود کر دئیے جائیں۔ اس سلسلے میں مشرفکے ضلعی حکومتوں کے نظام کے خاکے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اور آخری بات یہ کہ تمام سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور پریس کو اس طرف بھی غور کرنا چاہئیے کہ اگر پنجاب کے جنوبی اضلاع کو الگ صوبے کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو پھر کراچی اور حیدرآباد کو ایک علیحدہ اردو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیسے رد کیا جا سکے گا جبکہ پیپلز پارٹی “مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں” کا نعرہ لگا کر اپنے سخت اور بےلچک موقف کا کئی بار اظہار کر چکی ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کو کیسے ٹالا جا سکے گا۔ جہاں پر کچھ سال پہلےکئی لوگ اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ پھر بلوچستان کے پشتو بولنے والے علاقوں پر مشتمل پختون صوبے کو کیسے روکا جا سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب جنوبی پنجاب کی شکل میں ایک مثال سب کے سامنے موجود ہو گی تو ملک میں مزید کئی صوبوں کے جائز مطالبات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے اور وہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور ملک بدامنی اور لاقانونیت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اسوقت ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ایسی متنازعہ تجاویز پیش کر کے ملک میں انتشار اور عوام میں باہمی نفاق کی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے حکومت کو چاہئیے کہ وہ اپنے متعارف کردہ بلدیاتی نظام کو جلد عملی شکل دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ تحصیل کی سطح پرمضبوط یونٹ بنا کر عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر مہیا کرے اور ان کے روزمرہ مسائل کا حل مقامی طور پر ممکن بنائے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.