Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستان قومی نیوٹریشن سروے


پاکستان میں قومی نیوٹریشن سروے ہوا ہے جس میں شیر خوار بچوں کی پیدائش اور افزائش اور خواتین کی صحت اور خوراک کے بارے میں تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں صرف 48 فیصد مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ شہر ہوں یا دیہات یہ شرح تقریباً یکساں ہیں۔ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ جبکہ پنجاب میں سب سے کم شرح میں مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے صحت کے عالمی ادارے کی معاونت سے آغا خان یونیورسٹی نے یہ سروے کیا ہے۔

سروے میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، فاٹا، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر اور گلگت بلتستان میں ایک لاکھ 15 ہزار گھرانوں سے بچوں، ان کی ماؤں اور 10 سے 19 سال کے لڑکے لڑکیوں کی نیوٹریشن کا موازنہ کیا گیا۔ پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ اس کےعلاوہ 15 فیصد زبردستی، 17 فیصد جزوی طور پر جبکہ 20 فیصد مائیں اپنا دودھ سرے سے پلاتی ہی نہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ 45 فیصد خواتین بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر جبکہ 25 فیصد مائیں 24 گھنٹے میں اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پیدائش سے ایک سال تک مسلسل بچوں کو دودھ پلانے کا رجحان پاکستان میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ میں ہے جہاں یہ شرح 77 فیصد سے زائد ہے۔ جبکہ سب سے کم شرح پنجاب میں ہے جو 62 فیصد ہے۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 74 فیصد، بلوچستان میں 69 فیصد، اسلام آباد میں 74 فیصد، سابق فاٹا میں 71 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 65 فیصد اور گلگت بلتستان میں 72 فیصد ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس سروے کے سربراہ اور طبعی محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ پانچ میں سے ایک گھرانہ نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ دیتا ہی نہیں ہے۔ یہ رجحان صرف شہری علاقوں میں ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے کمیونٹی کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔

’خواتین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پیلوٹی کا دوودھ بچے کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے اور نوازئیدہ بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہیں دینا چاہیے۔ اس کی افادیت کا اگر ماں کو علم نہیں ہو گا تو بچہ کیا کرے گا، روئے گا تو ماں کو یہ احساس ہو گا کہ میرا دودھ ٹھیک نہیں یا پورا نہیں اتر رہا تو اسے کچھ اور دے دے گی۔‘

اس قومی سروے میں ماں کا دودھ پلانے کی مناسب عمر میں بچوں کو ٹھوس، نیم ٹھوس اور نرم غذا فراہم کرنے کی بھی نشاندھی کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ رجحان سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں دیکھا گیا ہے، جہاں یہ شرح 45 فیصد ہے اور دودھ پیتے بچوں کو غذا دینے کا سب سے کم رجحان اسلام آباد کی ماؤں میں موجود ہے جہاں شرح 21 فیصد ہے۔ جبکہ پنجاب میں یہ شرح 35 فیصد، سندھ میں 43 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29 فیصد، بلوچستان میں 22، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں 43 فیصد اور گلگت بلتستان میں 40 فیصد ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ دیہاتوں میں ضروری نہیں کہ مائیں بچے کو ڈبے کا دودھ دیتی ہوں لیکن وہ بھینس کا دودھ دے رہی ہیں۔ چائے اور پانی بھی دیا جا رہا ہے۔ 6 ماہ سے قبل ہی خوراک شروع کر رہے ہیں جس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ ماں کا دودہ دینے سے بچا ہزاروں بیماریوں سے بچ جاتا ہے اس کی نشوونما ٹھیک ہوتی ہے آگے جا کر ماں کو بھی فائدہ ہے بچے کو بھی۔

قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے 40 فیصد بچے سٹنٹ یا لاغر ہیں۔ جو اپنی عمر کے اعتبار سے قدرے کم ذہنی و جسمانی نشوونما کا شکار ہیں۔ جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ صوبائی سطح پر سب سے زیادہ لاغر بچے سابق فاٹا میں ہیں جن کی شرح 48 فیصد ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر بلوچستان ہے جہاں یہ شرح ساڑھے 46 فیصد سے زائد ہے، (دونوں خطے گذشتہ ایک دہائی سے بدامنی اور عسکری آپریشن کا سامنا کر رہے ہیں)۔ اس کے بعد گلگت میں 46 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 40 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 39 فیصد، پنجاب اور اسلام آباد میں لاغر بچوں کی شرح سب سے کم ہے۔ جو 36 اور 32 فیصد ہے۔

پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق سنہ 2001 سے لیکر 2018 تک لاغر بچوں کی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔ سنہ 2011 میں یہ شرح 43 فیصد سے زائد تھی جو اس وقت 40 فیصد سے زائد ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ اسٹنٹنگ میں کمی نہ آنے کی وجہ یہ ہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ’ان بچوں کی صحت کا اور نشوونما کا براہ راست تعلق ان کی ماؤں کی صحت سے ہے، جہاں مائیں کمزور ہیں وہاں بچے بھی نحیف اور لاغر ہیں اور ان کی بڑھوتری ٹھیک نہیں۔‘

ڈاکٹر بھٹہ کے مطابق پاکستان کے جنوبی علاقوں بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاوہ فاٹا میں نحیف اور لاغر بچوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اس کا کچھ حد تک تعلق غربت سے ہے اور کچھ تعلق شاید جاگیردارانہ نظام سے بھی ہے جس میں لوگوں کو اتنا شعور اور اختیارات نہیں ہوتے کہ اپنی صحت اور تندرستی کا خود خیال رکھ سکیں۔ پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے ساڑھے نو فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جن میں لڑکیوں اور لڑکوں کی شرح تقریباً برابر ہے۔ سب سے زیادہ موٹے بچے فاٹا میں اور سب سے کم صوبہ سندھ میں ہیں۔

نیوٹریشن سروے کے مطابق فاٹا میں 18 فیصد، بلوچستان میں 16 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 13 فیصد، خیبر پختونخوا اور گلگت میں 12 فیصد سے زائد پنجاب میں 9 فیصد اور صوبہ سندھ میں پانچ فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔ سروے کے مطابق 18 سے 49 برس کی عمر کی 13 فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں جن کی اکثریت شہروں میں ہے ان کی شرح 17 فیصد ہے جبکہ دیہات میں بھی خواتین اس سے محفوظ نہیں ان کی شرح 11 فیصد ہے۔

سب سے زیادہ موٹاپے کا شکار سابق فاٹا کی خواتین ہیں جن کی شرح 23 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر اسلام آباد ہے جہاں یہ شرح 19 فیصد ہے اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 15-15 فیصد، بلوچستان میں 12 فیصد، سندھ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 10-10 فیصد اور گلگت بلتستان میں سب سے کم یعنی 6 فیصد سے زائد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر کے جو نحیف اور لاغر بچے ہیں آگے جا کر ان میں زیادہ وزن یا موٹاپے کی شرح بڑھ جاتی ہے بلخصوص لڑکیوں اور خواتین میں یہ رجحان ہے کہ دس گیارہ سال کی عمر کے بعد موٹاپا آ جاتا ہے۔

اس کا کچھ تعلق خوراک سے ہے اور زیادہ تعلق ان کی جسمانی نقل و حرکت سے ہے۔ ’ایک دس گیارہ سال کی عمر کی بچی کو ہم نے گھر تک محدود کر دیا ہے اس کی کوئی سرگرمی نہیں کوئی سہولت نہیں۔‘ ڈاکٹر بھٹہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان دوہرا بوجھ لیے چل رہا ایک طرف نحیف اور لاغر بچے ہیں دوسری طرف موٹاپے کا شکار بچے جو پاکستان کے لیے آگے جا کر ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ جو موٹے بچے ہیں ان کے دل اور ذیابطیس کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں پانچ سال کی عمر میں کم وزن بچوں کی شرح 28 فیصد ہے جن میں سے اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے، لڑکوں میں یہ شرح 29 فیصد جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 28 فیصد ہے۔ اسی طرح صوبوں میں سب سے کم وزن بچے سندھ میں ہیں جن کی شرح 41 فیصد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سابق فاٹا ہے جہاں 33 فیصد بچے کم وزن ہیں۔ بلوچستان میں 31 فیصد، پنجاب میں ساڑھے 23 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا میں 23 فیصد بچے کم وزن ہیں۔

پاکستان میں کم وزن خواتین کی شرح 14 فیصد ہے، جن کی اکثریت دیہات سے تعلق رکھتی ہے۔ صوبوں میں سندھ میں کم وزن خواتین کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور سابق فاٹا میں سب سے کم ہے۔ سندھ میں 22 فیصد، بلوچستان میں 14 فیصد، پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریباً 12-12 فیصد گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 10-10 فیصد خواتین کم وزن ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ چاہے غریب آبادی ہو، متوسط طبقہ یا صاحب حیثیت لوگ، خون کی کمی کی شرح سب میں تقریباً یکساں ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں خوراک کا معیار بلخصوص حاملہ خواتین کے لیے انتہائی کم ہے۔ ’وہ چیزیں جو لوگوں کو کھانی چاہییں وہ نہیں کھاتے اور وہ چیزیں جن سے نقصان ہوتا ہے جن میں بازاری اشیا شامل ہیں وہ مروج ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ غدائی کمی پوری نہیں ہوتی۔ حاملہ خواتین میں سے صرف 50 فیصد خواتین کو ایسی غدا ملتی ہے جس سے غذائی ضروریات پوری ہوتی ہوں بچوں میں یہ شرح 20 فیصد ہے جبکہ 80 فیصد بچوں کو وہ غذا نہیں مل رہی جو قابل قبول ہو۔‘

قومی نیوٹریشن سروے میں گھروں میں زیرِ استعمال پانی کے ذرائع اور پانی کے معیار کا بھی جائزہ لیا گیا، یہ پہلی بار ہوا کہ پورے پاکستان کے تمام اضلاع سے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ گھروں سے جو پانی اکٹھا کیا گیا اس میں بیکٹریا چیک کیا گیا تھا اور نتیجہ یہ آیا ہے کہ 50 فیصد میں جراثیم موجود ہیں جو انسانی فضلے سے آتے ہیں۔

’کوئی بھی ایسا صوبہ نہیں جس کے بارے میں آپ کہہ سکیں کہ یہاں پر 70 فیصد پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں پانی کا معیار دیہی علاقوں سے بھی زیادہ خراب ہے۔‘ حکومت کو اس ضمن میں توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے ورنہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہونے کے خدشات ہیں۔
ندیم عباس بھٹی مسقط سلطنت آف عمان
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.