Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستان اور سویڈن میں خوددار ملک کون؟


پاکستان اور سویڈن میں خوددار کون؟

پاکستان اور سویڈن میں پیش آنے والے دو واقعات ہمیں خود بتائیں گے کہ خودداری اور ملکی غیرت کیا چیز ہوتی ہے اور دنیا میں ایک باعزت قوم کے طور پر سر اُٹھا کر کیسے جیا جاتا ہے۔

پہلے واقعے میں ریمنڈ ڈیوس نامی امریکی ٹھیکیدار مزنگ لاہور کے علاقے میں دن دھاڑے ٹریفک میں پھنسے موٹرسائیکل سوار دو نوجوانوں فہیم اور فیضان حیدر کو گولیاں مار کر قتل کردیتا ہے، اس واقعے میں ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب لاہور کے امریکی قونصل خانے سے ایک گاڑی برق رفتاری سے ریمنڈ ڈیوس کو بچانے آتی ہے، اور سڑک کی غلط سائیڈ پر گاڑی چلانے سے ایک اور موٹرسائیکل سوار نوجوان کو روند کر مار دیتی ہے، اس تہرے قتل کے واقعہ پر تمام پاکستانی قوم غم و غصے سے دوچار ہوجاتی ہے، جگہ جگہ مظاہرے ہونے لگتے ہیں، امریکہ مردہ باد کے نعرے لگتے ہیں، ملزم کو ہائی سیکیورٹی میں کوٹ لکھپت جیل کے وی وی آئی پی سیل میں بھیج دیا جاتا ہے، امریکہ ان دنوں اسامہ بن لادن کا پاکستان میں ڈرامہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا، اسلیئے اسکی پہلی ترجیع ریمنڈ کو جیل سے چھڑوا کر واپس لانا بن گیا کیوں کہ اسامہ کے واقعے کے بعد امریکہ کو ریمنڈ ڈیوس کو پاکستانی جیل میں ہی قتل کر دینے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا، فوراً امریکہ اور پاکستان میں ہائی لیول کے روابط شروع ہوجاتے ہیں، پاکستانی سپہ سالار جنرل کیانی عمان میں امریکی ہم منصب کے ساتھ دو گھنٹے سر جوڑ کر بیٹھتا ہے، جسکا ون پوائنٹ ایجنڈا ریمنڈ ڈیوس کو پاکستانی قید سے چھڑوانا ہوتا ہے، دوسری طرف کچھ لوگوں کے بقول دنیا کی دس انٹیلی جنس ایجنسیوں میں نمبر ایک آئی ایس آئی، جسے کے سپاہی کمانڈوز کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جنگل میں پرندوں کا خون پی لیتے ہیں، اسی آئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا اپنی تمام خون پینے والی افرادی قوت کے ساتھ ریمنڈ کو بچانے کے مشن پر کاربند ہوجاتے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان سے باعزت واپسی کی داستان میں پیش آنے والے واقعات کو منظر عام پر لانے میں موصوف کی اپنی کتاب دا کنٹریکٹر کا بڑا عمل دخل ہے۔ کتاب کے مطابق آخری دن کی عدالتی کاروائی میں جج نے ایک شخص کے سوا صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال دیا، وہ شخص آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا تھے جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے اور دوسری طرف اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے رابطے میں تھے، یہاں تک کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں بھی موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے۔ جنرل پاشا نے ہی سخت گیر وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ کو مقدمے سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے، ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بعد ایک انٹرویو میں منظور بٹ کا کہنا تھا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انھیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید رکھا گیا اور کارروائی سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کلائنٹس سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔

کتاب کے مطابق عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو اچانک جج نے عام عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا، تاکہ شرعی قانون کے مطابق کچھ پیسے دے کر ریمنڈ ڈیوس کو چھڑوایا جاسکے، اس فیصلے کے منصوبہ ساز جنرل پاشا اور کیمرون منٹر تھے، جبکہ پاکستانی فوج، صدر زرداری اور نواز شریف کو بھی اس بارے میں بتا دیا گیا تھا کہ اندر اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ جب مقتولین کے عزیزوں نے اس زبردستی کی ڈیل کو ماننے سے انکار کر دیا، تو اچانک آئی ایس آئی کے اہلکار حرکت میں آئے اور انھوں نے تمام 18 عزیزوں کو کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا، ان کے گھروں کو تالے لگا دیے گئے اور ان سے موبائل فون بھی لے لیے گئے۔ جیل میں بچارے لواحقین کے سامنے دو راستے رکھے گئے، یا تو وہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کا خون بہا قبول کریں، نہیں تو۔۔۔آہو۔۔۔ تمام عدالتی کارروائی کے دوران لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا اور بعد میں یہی مجبور لواحقین ایک ایک کر کے خاموشی سے جج کے سامنے پیش ہوتے رہے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتے اور رقم کی رسید لیتے رہے، جونہی یہ کارروائی مکمل ہوئی، ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور ایئرپورٹ پر پہنچا دیا گیا جہاں ایک سیسنا طیارہ رن وے پر ان کا انتظار کر رہا تھا۔

ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی رقم کس نے دی، یہ سوال اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن سے پوچھا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ یہ رقم امریکہ نے بالکل نہیں دی ہے، لیکن بعد میں یہ خبر آئی کہ وہ رقم آئی ایس آئی نے اپنی جیب سے دی تھی،اور بعد میں اس کا بل امریکہ کو پیش کر دیا تھا۔ جنرل پاشا کو اس خفیہ آپریشن کے صرف دو دن بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جانا تھا، اسلئے انکی سرتوڑ کوششوں سے جب یہ معاملہ نمٹا تو انعام کے طور پر ان کی مدتِ ملازمت میں بھی ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور وہ مارچ 2011 کی بجائے مارچ 2012 میں ریٹائر ہوئے۔


قارئین آپ نے دیکھا کیسے دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی کے جنرل صاحب نے ملک وقوم کیلئے اپنی ذمہ داری کا حق بخوبی اور تندہی سے ادا کیا، ایسا ہی ایک واقعہ سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں وقوع پذیر ہوا، اسکی تفصیل پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا میں سر اٹھا کر کیسے جیا جاتا ہے۔


گزشتہ دنوں اساپ روکی نامی امریکی شہری کی سویڈش دارلحکومت سٹاک ہوم میں کچھ لڑکوں کے ساتھ لڑائی ہوگئی، اس واقعہ کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں روکی لڑکوں کو مار رہا ہے، سویڈش پولیس نے روکی کو گرفتار کر لیا ہے، معاملہ اب عدالت میں چلا گیا ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں سے روکی سویڈش جیل میں عدالتی کاروائی کا انتظار کر رہا ہے، عام طور پر سویڈن میں چھوٹے جرائم میں ملوث لوگوں کو جیل میں نہیں رکھا جاتا، جب تک کہ عدالت انہیں جیل کی سزا نہ دے دے، لیکن روکی کیلئے سویڈش پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کرنا فلائیٹ رسک ہے، کیونکہ موصوف سویڈن سے بھاگ سکتا ہے۔

امریکی صدر کا بہت نزدیکی دوست روکی کی ضمانت کیلئے وائیٹ ہاؤس میں مہم چلا رہا ہے، اسکی کوششوں کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سویڈش وزیراعظم سٹیفن لوفوین کو گزشتہ روز فون کیا اور کہا کہ میں امریکی شہری روکی کی ضمانت دیتا ہوں وہ ملک سے نہیں بھاگے گا آپ اسے جیل سے رہا کر دیں، اس بات پر سویڈش وزیراعظم نے جواب دیا کہ سویڈن میں وزیراعظم کو عدالتی معاملات اور پولیس تحقیقات میں دخل اندازی کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن وہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ امریکی شہری اساپ روکی کے ساتھ پورا پورا انصاف ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے ایک ٹویٹ میں سویڈش وزیراعظم کے مدد نہ کرنے کے رویے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے، کہ سویڈن نے افریقی امریکی کمیونٹی کی بےعزتی کی ہے، سویڈن کو امریکی شہریوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئیے۔ اس واقعہ پر سابق سویڈش وزیر خارجہ کارل بلڈت نے امریکی صدر کو ٹویٹر پر جواب دیا ہے کہ میرا خیال ہے امریکی صدر کو اب معلوم ہوگیا ہوگا کہ سویڈن میں قانون کی حکمرانی ہے اور وزیراعظم عدالت اور پولیس کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔
#طارق_محمود
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.