Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




گلگت بلتستان کی تاریخ



گلگت بلتستان دس ضلعوں پر مشتمل 73000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایسا وسیع علاقہ ہے، جسکا بظاہر زمینی طور پر کشمیر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور مظفرآباد سے گلگت آنے کیلئے کے پی کے سے ہو کر آنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان پرانے انڈیا میں شروع دن سے ایک آزاد علاقہ تھا اور اس پر لوکل حکمرانوں کی حکومت تھی۔ انگریز راج کے دوران جموں اور کشمیر کے حکمران زورآورسنگھ نے 1846 میں آٹھ سالہ جدوجہد اور جنگ کے بعد گلگت بلتستان فتح کرلیا اور اسے کشمیر میں زبردستی شامل کر لیا گیا، جو 1947 تک کشمیر میں ہی شامل رہا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پلان کے مطابق ہر علاقے کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ چاہئیے تو پاکستان میں شامل ہوجائے یا چاہئیے تو انڈیا میں شامل ہوجائے۔ کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کے لوگوں سے پوچھے بغیر اسکا الحاق انڈیا سے کر دیا، اور یوں گلگت بلتستان بھی کشمیر کے ساتھ ہی انڈیا میں چلا گیا۔ گلگت کے لوگوں نے اس معاہدے پر احتجاج کیا اور گلگت سکاؤٹس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور گورنر کو اسکے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے رئیس خان کی حکمرانی میں نئی آزاد حکومت قائم کردی۔ اس طرح گلگت بلتستان کے غیور عوام نے خود اپنے بل بوتے پر ڈوگرہ راج سے نہ صرف خود آزادی کی نعمت حاصل کی، بلکہ کشمیر کے ایک تہائی حصے کو انڈیا سے آزاد کرواتے ہوئے سری نگر کے نزدیک تک پہنچ گئے۔

رئیس خان کی حکمرانی میں گلگت بلتستان کی نئی بننے والی حکومت کچھ عرصہ ہی قائم رہ سکی کیونکہ انکے پاس حکومت چلانے کیلئے ریسورسز کم تھے اور انڈین قبضے کا خطرہ بھی ہمہ وقت سر پر منڈلا رہا تھا لہذا گلگت بلتستان کی حکومت نے اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ یہاں کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی کوئی واضح سند موجود نہیں ہے، اور قائداعظم کے ایک خط کے بعد کے پی کے تحصیلدار عالم خان گلگت بلتستان میں پولیٹیکل ایجنٹ بن کر آئے اور وہاں کے ڈی فیکٹو حکمران بن گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے تھے، اور اسی لئے انہوں نے تحصیلدار عالم خان کو اوپن ویلکم کہا، اور یوں یہ علاقہ پاکستانی حکومت کے زیراثر آگیا، اسی دوران پاکستانی فوج اور گلگت سکاؤئٹس نے مل کر 1948 کی پاک انڈیا جنگ میں کشمیر کا کچھ حصہ بھی آزاد کروا لیا اور باقی کشمیر پر بھی چڑھائی شروع کر دی لیکن اس دوران ایک تو انڈیا یو این میں چلا گیا اور دوسرا پاکستان کا چیف آف آرمی سٹاف ابھی انگریز تھا جس نے آگے بڑھتی ہوئی پاک فوج کو واپس بلوا کر جنگ بندی کردی، اور یوں کشمیر پاکستان کے ہاتھ آتے آتے رہ گیا۔ انڈیا نے اقوام متحدہ میں یہ قرارداد پاس کروا لی کہ وہ کشمیر میں اپنی فوج کم سے کم سطح پر لا کر ریفرنڈم کروائے گا جس میں لوگ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا انڈیا کے ساتھ رہنا ہے۔

ایک اور نظریے کے مطابق 1947 میں کچھ عرصہ تک گلگت بلتستان کاغذوں میں آزاد کشمیر کے ساتھ رہا، لیکن عملی طور پر اسکا کشمیر کے ساتھ کوئی براہ راست زمینی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے 1949 میں آزاد کشمیر حکومت نے کراچی معاہدے کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستانی حکومت کے حوالے کر دیا۔ اس معاہدے کے بارے میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو تحفظات ہیں، کیونکہ اس میں گلگت بلتستان کا کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ 1963 میں پاکستان نے سینو پاکستانی فرینٹیئر معاہدے کے تحت شاکس گام کا 2700 مربع کلومیٹر کا علاقہ چائنہ کو دے دیا تاکہ اسے اس مسئلے میں چین کو بھی ایک فریق بنایا جاسکے، اور اگر دنیا کی بڑی طاقتیں زور زبردستی سے کشمیر کو انڈیا کو دینے کا فیصلہ کریں تو چین پاکستان کے موقف کا دفاع کرسکتے۔ حکومت پاکستان نے 1970 میں گلگت ایجنسی اور بلتستان کو سنگل یونٹ بنا دیا گیا اور اسکا نام شمالی علاقہ رکھ دیا گیا۔

گلگت بلتستان کو 2009 میں صدر آصف علی زرداری نے محدود اختیارات دیکر گورنر کے زیر سایہ اسکی اپنی حکومت قائم کردی تاکہ لوگوں کو بہتر طریقے سے شہری حقوق دئیے جاسکیں۔ 2009 کے گورننس آرڈر میں چیف ایگزیٹو کو وزیر اعلی کا نام دیا گیا اور گورنر کا عہدہ بھی تخلیق کیا گیا اور ساتھ میں کابینہ کے لوگ جو پہلے مشیر ہوتے تھے انہیں وزراء بنا دیا گیا، یوں گلگت بلتستان ایک ایسا ڈی فیکٹو صوبہ بن گیا، جسکا گورنر اور چیف منسٹر اپنی کابینہ سمیت تو باقی چاروں پاکستانی صوبوں کی طرح ہی ہیں، لیکن حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے کے طور پر قبول کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ یہاں کے شہری کشمیر کے ساتھ ملنے کی بجائے پانچویں صوبے کے طور پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر فدا محمد نشاد نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ہمیشہ سے ہی ایک آزاد اور مختلف علاقہ رہا ہے، اور کشمیر کے مہاراجہ نے اس علاقے کو 100 سال تک زبردستی اپنی غلامی میں رکھا تھا، جس کی اب کوئی قانونی حیثیت موجود نہیں ہے۔ اس علاقے کی اہمیت میں اس وقت بہت زیادہ اضافہ ہوگیا جب پاکستان کا چین کے ساتھ سی پیک کا معاہدہ ہوا، اور چین نے اس علاقے میں ریل اور سڑکوں کا جال بچھانا شروع کردیا، سی پیک کا معاہدہ ہوتے ہی انڈیا نے چیخنا چلانا شروع کردیا، کہ گلگت بلتستان چونکہ متنازعہ علاقہ ہے، لہذا پاکستان یہاں سے سڑک نہیں نکال سکتا، حالانکہ انڈیا خود جموں، کشمیر، اور لداخ کے علاقوں میں کئی ڈیم اور سڑکیں بنا چکا ہے، اور اب تو اس نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے آئین میں موجود وہ شق جو کشمیریوں کو خاص حقوق دیتی تھی، وہ ہی ختم کردی ہے، اور لوگوں کے احتجاج کو دبانے کیلئے ٹیلی فون، انٹرنیٹ بند کیے ہوئے ہیں اور گزشتہ ایک مہینے سے زائد عرصہ سے کرفیو لگایا ہوا ہے، انسانی حقوق کی جتنی خلاف ورزیاں اس وقت انڈیا کر رہا ہے، اگر کوئی مسلمان ملک کرتا تو امریکہ نے کب کا انسانی حقوق کا بہانہ بنا کر اس پر حملہ کر دینا تھا، یہ انڈیا ہے، جس کے ساتھ امریکہ یورپ کے اربوں ڈالرز کے مفادات وابستہ ہیں، لہذا انڈیا جتنا مرضی ظلم کرلے، اسے سب معاف ہے۔

گلگت بلتستان کا قدرتی حسن و جمال اپنی مثال آپ اور جنت ارضی سے کم نہیں ہے، بلندی سے گرتی ہوئیں آبشاریں، سرسبز میدان، دنیا کی بلند ترین برف پوش چوٹیاں، چیری، بادام، خوبانی، اخروٹ اور چلغوزے کے درخت اسے دنیا میں ایک بلند مقام دیتے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے یہاں کا انفراسٹکچر بہتر ہورہا ہے اور مستقبل میں گلگت بلتستان پاکستان کا ایک بہترین سیاحتی مقام ہوگا اور پوری دنیا سے سیاح یہاں کا رخ کریں گے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.