Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




قومی ترانے کے خالق ابو الاثر حفیظؔ جالندھری کا تعارف


14  فردوسیِ اسلام ابوالاثر حفیظ جالندھری کی شاعرانہ ہی نہیں بلکہ قومی حیثیت بھی محتاجِ تعارف نہیں اور ایک زمانہ اس سے آگاہ ہے۔ ملک و ملت کی جس قدر خدمت اپنی شاعری کے ذریعے حفیظ نے کی اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان اور پاکستانی قوم کے محسنین میں ایک نمایاں مقام کے حامل ہیں۔
حفیظ کی ذاتی زندگی سے آغاز کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ 1900ءمیں پنجاب کے مشہور قصبے جالندھر میں پیدا ہونے والے اس شخصیت کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ آغاز میں کسب معاش کیلئے ریلوے میں ملازمت اختیار کی اور بعد ازاں چھوٹی موٹی ملازمتیں اختیار کیں۔ ساتھ ہی ساتھ علم و ادب سے اپنی بے پناہ دلچسپی کو بھی برقرار رکھا اور مختلف جرائد اور رسالوں میں لکھتے رہے اور قلیل آمدنی کے باوجود علم و ادب کی خدمت دل و جان سے کرتے رہے۔ چنانچہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور ادبی خدمات سے بہت جلد ناموری حاصل کرلی اور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت نے ان کے قدم چومے۔ 1942ءمیں آپ اینٹی فاشٹ پراپیگنڈہ کے شعبہ سانگ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ میں پہلے ڈائریکٹر اور پھر ڈائریکٹر جنرل بنے۔ 1947ءمیں ڈائریکٹر جنرل مورال آرمڈ سروسز آف پاکستان مقرر ہوئے۔ 1955ءمیں فیلڈ ڈائریکٹر آف پبلسٹی ویلج ایڈمنسٹریشن بنے اور 1961ءمیں ڈائریکٹر ادارہ تعمیر نو پاکستان مقرر ہوئے۔
آغازِ قیام پاکستان میں حضرت قائداعظمؒ کے حکم پر جنگِ کشمیر میں حصہ لیا۔ آزاد کشمیر ریڈیو کی بنیاد رکھی۔ جنگِ کشمیر میں زخمی ہوگئے۔ اس طرح میدانِ جنگ کو اپنے خون سے خود بھی لالہ زار بنایا اور قدیم لشکر اسلام کے شعرا کی یاد تازہ کر دی۔ اسی طرح 1965ءمیں محاذِ جنگ پر اگلے مورچوں پر جا کر مجاہدین کا لہو گرماتے رہے۔ جنگوں میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ خود حصہ لینے کے عمل نے انہیں ایک ایسی منفرد حیثیت کا مالک بنا دیا جو کسی اور کو حاصل نہیں۔ حفیظ کا ایک فقیدالمثال کارنامہ تاریخ اسلام کو نظم کرنے کا ہے جو شاہنامہ اسلام کے نام سے مشہور ہے اور آج بھی مذہبی محفلوں میں بڑے اہتمام سے پڑھا جاتا ہے۔ حفیظ کی ایک اور وجہ عظمت انکا مصنفِ قومی ترانہ پاکستان ہونا ہے۔ سینکڑوں ترانوں میں سے حفیظ کے لکھے گئے ترانے کو قومی ترانہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مقامِ افسوس ہے کہ وہ قومی ترانہ جو پاکستان کے طول و عرض اور بیرون ملک جہاں بھی پاکستان کے سفارتخانہ ہو وہاں بھی گونجتا ہے لیکن اس کے مصنف کو اس طرح یاد نہیں کیا جاتا جو اس کا حق ہے۔ اکثر مقامات پر ترانے کے ساتھ اس کے مصنف کے نام کو نہیں لکھا جاتا۔ حفیظ صاحب نے آزاد کشمیر کا قومی ترانہ نہ صرف لکھا بلکہ اس کی دھن بھی خود بنائی۔ قومی ترانہ پاکستان اور شاہنامہِ اسلام کی تخلیق نے حفیظ کو ایک ایسے مقام کا حامل بنا دیا جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ شاہنامہِ اسلام اور ترانے کے علاوہ حفیظ کی بے شمار ادبی تصانیف میں نغمہ زار، سوزوساز، تلخابہِ شیریں، بزم نہیں رزم ،چراغِ سحر، نے بہت شہرت پائی ۔ آپ نے نثر میں بھی کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں ہفت بیکر، معیاری افسانے، نثرانے، چیونٹی نامہ بہت مشہور ہیں۔ آپ نے بچوں کیلئے بھی بےشمار نظمیں اور گیت لکھے۔
اپنی اعلیٰ شعری اور علمی خدمات کے علاوہ انہیں اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکتِ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی بھی بہت فکر تھی اور اس کیلئے انہوں نے مقدور بھر کوششیں کیں۔ جہاں ایک طرف وہ سپاہ کے شانہ بشانہ جنگوں میں حصہ لیتے رہے وہیں انہوں نے نظریہ پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور اسلام مخالف نظریات والے لوگوں پر نہ صرف کڑی نظر رکھی بلکہ ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ معروف شاعر، ادیب اور حفیظ کے فرزندِ مُتبنٰی حمید کوثر کے بقول حفیظ نہ صرف نہایت اعلیٰ پائے کے شاعر اور ادیب تھے بلکہ ایک بہت بڑی نظریاتی قوت بھی تھے جن سے الحاد پسند اور پاکستان مخالف قوتیں خائف رہتی تھیں۔ آپ مرتے دم تک پاکستان دشمنوں سے برسرِپیکار رہے۔

21دسمبر 1982کو لاہور میں انتقال فرمایا۔ انہوں نے اپنی تخلیقات میں چار جلدوں میں شاہنامہ اسلام، نغمہ زاد ‘ سوز و ساز، تلخابہ شریں اور چراغ سحر چھوڑے۔ ان کی شعری کائنات چھ دہائیوں پر محیط ہے اور ان کا یہ دعویٰ درست ہے۔

شعر وادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی باتیں نہیں
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.