Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستانی ڈاکٹر مسیحا یا چور؟ (حصہ دوئم)


حکومت پاکستان زیادہ تر ڈاکٹرز سے سرکاری میڈیکل کالجز میں معمولی فیس لے کر انہیں بہترین تعلیم مہیا کرتی ہے، ان پر اربوں روپیہ خرچ کرتی ہے، تاکہ یہ غریب عوام کو علاج کی سہولیات مہیا کرسکیں، ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹر گمنام ہوتے ہیں، حکومت انہیں سرکاری ہسپتالوں میں نوکریاں دیتی ہے، جہاں یہ عوام کو علاج کی سہولیات دینا شروع کرتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں کام کر کے جب ڈاکٹر مشہور ہو جاتے ہیں، تب یہ اپنے پرائیویٹ کلینک کھول لیتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں سے مریض بہتر علاج کیلئے اپنے کلینکس میں بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ 

ایک وقت تھا جب ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینکس پر صرف نسخہ تجویز کرتے تھے اور مریض ہاہر جہاں مرضی اپنی سہولت کے مطابق ادویات خرید لیتے تھے، وقت گزرتا گیا اور ڈاکٹروں کا لالچ بڑھتا گیا، اب ڈاکٹرز نے اپنے کلینکس کے اندر ہی میڈیکل سٹور بھی کھول لئے ہیں، دو نمبر میڈیسن کمپنیاں غیر محفوظ طریقے کے ذریعے چائنا سے راء میٹریل منگوا کر پاکستان میں انکی پیکنگ کرواتی ہیں، اپنی مرضی کے دام پیکٹس پر پرنٹ کرواتی ہیں، اور ڈاکٹرز سے ڈیل کر کے اپنی دو نمبر ادویات انکے پرائیویٹ کلینکس کے اندر موجود فارمیسیز میں رکھوا دیتی ہیں، ڈاکٹرز میڈیسن کمپنیز سے اپنی غیر قانونی اور غیر انسانی خدمات کے عوض کیش وصول کرتے ہیں یا کمپنیز انکے کلینکس کو رینوویٹ کروا دیتی ہیں، ائرکنڈیشنر یا الٹراساؤنڈ مشین لگوا دیتی ہیں یا نئی کار خرید دیتی ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیز رشوت نہیں دے سکتیں، کیونکہ امریکہ یورپ میں موجود انکے ہیڈآفس سے انکا مالی آڈٹ ہوتا رہتا ہے، لہذا ملٹی نیشنل کمپنیز ڈاکٹرز کو بیرون ممالک میں میڈیکل کانفرنسز کیلئے سپانسر کر دیتی ہیں۔ 

ڈاکٹر کیسے بےایمانی کر کے پیسے کماتے ہیں اسکی ایک چھوٹی سی مثال ایک سائیکیٹرسٹ ڈاکٹر کی ہے جو لاہور میں رہتا ہے اور اسکے اردگرد سو کلومیٹر کے علاقے میں موجود تمام چھوٹے شہروں میں اس نے ایک ایک دن مختص کیا ہوا ہے، ہر روز یہ نئے شہر میں جاتا ہے اور اسکی گاڑی نفسیاتی ادویات سے بھری ہوئی ہوتی ہے، یہ ادویات یہ خود تیار کرواتا ہے اپنی مرضی کی قیمت درج کرواتا ہے اور اس میں نشے کی مقدار عام ادویات سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہے، ایک بار جو مریض اسکی دوائی پر لگ جاتا ہے پھر وہ ساری زندگی کھاتا رہتا ہے، حقیقت میں وہ اس نشے کا عادی ہوجاتا ہے جو ڈاکٹر نے دوائی میں ڈالا ہوتا ہے، دوائی دیتے وقت ڈاکٹر مریضوں کو خود کہتا ہے کہ یہ دوائی باہر بیٹھے ڈسپنسر سے خریدیں، اگر یہاں سے نہیں خریدی تو باہر کہیں سے نہیں ملے گی، آپکو اگلے ہفتے اسی دن پھر یہاں ہی آنا پڑے گا، اسکی دوائی کی قیمت بھی کم ازکم چار پانچ ہزار سے نیچے نہیں ہوتی، مریضوں کا اسکے کلینک کے باہر رش لگا رہتا ہے، اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر کتنے پیسے کما رہا ہے۔ 

ملیریا اور ٹائیفائڈ کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں، جبکہ ملیریا پھیلانے میں ملیریل پیراسائیٹ پلازموڈیم کا کردار ہوتا ہے اور ٹائیفائیڈ پھیلانے میں سالمونیلا بیکٹریا کا کردار ہوتا ہے، پلازموڈیم پر قابو پانے کیلئے اینٹی ملیریل ڈرگز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سالمونیلا پر قابو پانے کیلئے اینٹی بیکٹیریل ادویات یعنی اینٹی بایؤٹکس استعمال کی جاتی ہیں، دونوں بیماریوں میں فرق صرف بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے اور فرسٹ ورلڈ کے ڈاکٹر ایسا ہی کرتے ہیں، پاکستان میں ڈاکٹرز کے پاس لیباریٹری ٹیسٹ کروانے کا وقت نہیں ہوتا لہذا وہ دل کی دھڑکن چیک کرنے کا ڈرامہ کر کے مریض کو ملیریا اور ٹائیفائڈ دونوں کی ادویات لکھ دیتے ہیں، تاکہ جو بھی مرض ہو مریض کو آرام آجائے، ساتھ فوڈ سپلیمنٹ پاؤڈر کا ڈبہ لکھنا نہیں بھولتے، کیونکہ اسی سے تو انکی ایکسٹرا آمدن ہونی ہے۔ 

ملتان سے ایک دوست نے نئی انفارمیشن دی ہے کہ کچھ ڈاکٹرز نے تو مذہبی علماء سے فتوے بھی لے رکھے ہیں کہ میڈیسن کمپنیوں سے پیسے لینا جائز ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بےایمانی کے اس گھناؤنے کاروبار میں کچھ مذہبی علماء بھی شریک ہیں، اس ملک اور اسکے عوام پر اللہ ہی رحم کرے، یہاں مردے کھانے والی گِدھوں کا حملہ ہوا ہوا ہے جو زندہ انسانوں کو نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں۔ 

(ڈاکٹروں کی بےایمانیوں پر لکھے جانے والے حقائق کا دوسرا حصہ۔۔۔۔جاری ہے) 

#طارق_محمود
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.