66

خدائے ایراوتی

پائے برہما سے وجود میں آنے والا گوتم برصغیر پاک و ہند کے شہر لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا مذہب ہندومت تھا۔ لیکن بدقسمتی سے شودر تھا۔ وہ ہندومت کی ذات پات کے لحاظ سے چوتھے اور آخری نمبر پر تھا۔ اس کی زندگی کا مقصد اپنے سے اونچے تین طبقات کی خدمت کرنا تھا۔ حالانکہ اس پر پڑھنا لکھنا حرام تھا اس کے باوجود وہ یہ منتر جپتا رہتا تھا۔
سدا بھوانی داہنے
سن مکھڑے گنیش
پانچ دیو رکشا کریں
برہما وشن مہیش
اس کے نصیب میں صرف شمشان گھاٹ پر مُردوں کی چِتا جلانا تھا۔ یہی اس کی روزی روٹی کا ایک وسیلہ تھا۔ روٹی ، جو زندگی کا پہلا کلمہ ہے۔ کیا کچھ نہیں کرتا انسان اپنے نکھٹو پیٹ کو پالنے کے لیے ، اور جب شادی بیاہ ہوجائے اور بچے ہو جائیں تو پھر پیٹ کے ساتھ پیٹ مل کر ایک خالی کنواں تخلیق کرتا ہے۔ جسے بھرنے کے لیے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔
گوتم تقریبا 35 سال کا کمزور اور دبلا پتلا انسان تھا۔ اس کی زندگی کا ایک طویل حصہ برہمنوں کی خدمت گزاری میں گزرا تھا۔ اس کی حسرت تھی کہ کاش وہ بھی برہمن ہوتا۔ برہما اسے کسی طرح برہمنیت عطا کرتے۔ انسان کو معلوم نہیں کہ اس کے خالق نے اس جہاں فانی میں کیونکر یہ طبقات کی تقسیم کی۔ اور پھر برہمنوں میں بھی تقسیم کردی گئی۔ کچھ سریوپرین برہمن کچھ کنیا کیجا برہمن، میتھیلی برہمن، سرسوت برہمن، اتکلا برہمن اور دیو داسی برہمن ہوئے۔ ہزاروں خواہشات من ہی من میں دہرانے کے بعد آخر وہ خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیا کرتا۔ اے کاش ! کہ لفظ کاش ہی نہ ہوتا۔
انسان کو معلوم ہی نہیں پڑتا کہ اس کی زندگی میں کب کوئی موڑ آنے والا ہے۔ گوتم کی زندگی بھی تبدیل ہوجائے گی، یہ اس نے کب سوچا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے دین کے مطابق تبلیغ کا کام جاری رکھا ہوا تھا۔ تبلیغ میں سب سے بڑا کردار مسلمانوں کے عملی کردار کا تھا۔ زبان تو ہر کوئی چلا لیتا ہے۔ گوتم کو تبلیغیوں نے اعتماد میں لیا اور اس کے دماغ میں سرکشی کے عناصر کو بیدار کیا۔ اس کو دین اسلام کی طرف مائل کیا اور کہا :
” ہم جانتے ہیں کہ تم ہندو ہو اور سب سے پست زات یعنی شودرو سے تعلق رکھتے ہو۔ کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ تمھارے ہی ہندو بھائی، تمھیں اچھوت کیوں سمجھتے ہیں ؟ تمھارا جھوٹا کھایا پیا تو دور وہ اس کی طرف دیکھنا تک پسند نہیں کرتے۔ تم ایک دفعہ کسی برہمن کو چھو لو تو اس پر دو بار نہانا واجب ہوجاتا ہے۔ تمھیں اللہ رب العزت نے آزاد پیدا کیا ہے تو پھر تم کیوں اپنی مقصد حیات ان برہمنوں پر نثار ہونا سمجھتے ہو؟
میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ آ جاؤ دینِ حق کی طرف جو تمھیں یہ حق دیتا ہے کہ تم بھی سب کے برابر ہو۔
گوتم ان تمام باتوں سے بے حد متاثر ہوا اس نے دین اسلام قبول کرلیا اور اس کا اسلامی نام محمد علی رکھا گیا۔
اسی طرح تبلیغیوں نے شودروں کی ایک بڑی تعداد کو انھی دلائل کی بنا پر دائرہ اسلام میں داخل کرلیا۔ لیکن جب ہندوؤں کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے پورے ملک میں ان نو مسلمز کو شدھ کرنے کی تحریک چلائی۔ جس کا مقصد ان نومسلمز کو دوبارہ دائرہ ہندومت میں داخل کرنا تھا۔ اور بغاوت کرنے والوں اور اسلام پر ڈٹ جانے والوں کو سنگٹھن کے حوالے کیا جانا تھا۔
لیکن مسلمان بھی کہاں پیچھے ہٹنے والے تھے۔ انھوں نے اعلان کر دیا کہ جو نو مسلم اپنا دھرم تبدیل کرے گا وہ مرتد ہوجائے گا۔اور مرتد کی سزا موت ہے۔ اس انتشار کی صورت حال میں تمام نو مسلمز کا حال دھوبی کے کَتے کا سا ہوگیا تھا۔
گوتم ( محمد علی ) شدید ڈپریشن کا شکار ہوگیا تھا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔ وہ دین اسلام نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اسلام نے اسے پاتال سے اٹھا کر فلک پر بٹھا دیا تھا۔ لیکن جب انسان کی زندگی میں دوراہا آجائے تو ڈپریشن کے بعد ہسٹیریا اس کو اپنے ساتھ سلا لیتا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر سنگٹھن کے حوالے ہوگیا تو بھی موت ہے اگر مرتد ہوگیا تب بھی موت ہے۔ الغرض موت اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔
اس نے خدائے ذوالجلال کو سجدہ کیا اور برہما سے معافی بھی مانگی اور اس کے بعد ہسٹیریا اسے دریائے راوی پر لے گیا۔ وہاں گوتم نے باقی زندگی راوی کی لہروں کے سپرد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں