Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




وکلا اور ڈاکٹرز کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی وجوہات



پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہی ڈاکٹرز اور وکلا کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھنے کے علاوہ بہت زیادہ عزت بھی دی جاتی ہے.  دنیا میں ایک وقار ہے ان اداروں کا. دونوں انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انتہائی ذمہ داری کے حامل بھی ہیں. مگر کچھ دن پہلے ڈاکٹرز اور وکلا کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئیمیں چونکہ عربوں کی سرزمین پر رہتا ہوں اور زیادہ تر پڑھی لکھی کمیونٹی کے ساتھ واسطہ رہتا ہےاس کے علاوہ کچھ یہاں کے لوکل کالم نویسوں سے بھی جان پہچان ہے اس لیے مجھے ان سے یہ سن کر انتہائی افسوس بھی ہوا جو بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھو پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔
 چند دن پہلے بدھ کی صبح لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور جیل روڈ وکلا اور ڈاکٹروں کی لڑائی کے باعث کئی گھنٹوں تک میدان جنگ بنا رہا۔ خیال رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کی غرض سے آنے والے چند وکلا کا ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جو بدھ کو پیش آنے والے واقعے کا سبب بنا۔ بدھ کو انتظامیہ اور وکلا کے درمیان مذاکرات ہونے تھے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے وکلا گروہ کی شکل میں ہسپتال آئے اور انھوں نے حملہ کر دیا۔ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ہسپتال میں داخل مریض بھی متاثر ہوئے اور حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران تین مریض طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت دو مقدمات درج کیے ہیں۔ پہلا مقدمہ ہسپتال کے عملے کے ایک رکن کی مدعیت میں 250 سے زیادہ وکلا کے خلاف قتلِ خطا، کارِ سرکار میں مداخلت، دہشت پھیلانے، ہوائی فائرنگ کرنے، زخمی اور بلوہ کرنے، لوٹ مار، عورتوں پر حملہ کرنے اور سرکاری مشینری اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
 اردو نامہ سویڈن سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئےہائی کورٹ کے ایک وکیل جہاں زیب کھوکھر ایڈوکیٹ نے   بتایا کہ 23 نومبر کو رانا عدیل اور ان کے تین وکلا دوست اپنی والدہ کی میڈیسن لینے کے لیے ہسپتال  آئے۔ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے وکلا کے لئے ایک الگ ونڈو کا انتظام کیا گیا ہے وہاں پر بھی لوگوں کا بہت رش لگا ہوا تھا  تو رانا عدیل نے ڈاکٹر اور اس کے عملے کے لوگوں کو کہا کہ جو وکلا کی سہولت کے لئے ونڈو بنائی گئی ہے وہاں پر آپ نے سول پبلک کا رش لگا رکھا ہے آپ ہمیں میڈسن دے کر فارغ کریں. اس پر عملے کے ارکان نے انتہائی بد تمیزی سے بولتے ہوئے لائن میں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا. اس بات پر وہاں جھگڑا ہو گیا اور ہسپتال کے عملے کے لوگوں نے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر بہت زیادہ زدوکوب کیا. اس کے بعد وکلا نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی۔
اس کے بعد وکلا نے پر امن احتجاج شروع کر دیا اور انتظامیہ پر زور دیا کہ ڈاکٹروں کو 780A کے تحت گرفتار کیا جائے. پولیس ڈاکٹرز کو گرفتار کرنے کے لئے ہسپتال گئی ہے مگر ڈاکٹرز نے دھمکی دی کہ اگر کسی ایک ڈاکٹر کو بھی گرفتار کیا گیا تو ہم پورے پنجاب کی ایمرجنسی بند کر دیں گےاس وجہ سے پولیس نے ان کو گرفتار نہ کیا۔ صدر رانا اعجاز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بے عزتی کی گئی ہے۔ ہم اپنی لیڈر شپ کے پیچھے کھڑے تھے اور ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ قانون کے مطابق ملزمان کو سزا دلوائی جائے۔ جبکہ دوسری طرف پولیس نے مقدمے میں درج چند دفعات بھی ختم کر دیں اور ان ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے وکیلوں نے عاصم چیمہ صاحب (صدر پنجاب بار کونسل) پر پریشر ڈالا ہوا تھا کہ قانون کے مطابق کارروائی کروائیں۔
قانون  کے مطابق جب ہماری سنوائی کہیں نہیں ہوئی تو ہم پی آئی سی کی طرف گئے. اس کے بعد اردو نامہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سینئر وکیل میاں نصیر احمد کھو کھر کے کہا کہ انتظامیہ نے دونوں پارٹیوں سے مل کر صلح کرا دی اور بات کو ختم کر دیا۔ اس کے دو دن بعد ڈاکٹر عرفان نے ہسپتال کے تمام لوگوں کو جمع کیا اور وکلا کے خلاف شر انگیز تقریر کی اور ناقابل برداشت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وکلا کو ہم نے بہت مارا ہے اور وکلا کی جرات بھی نہیں کی ہماری طرف نظر بھی اٹھا کر دیکھ سکیں. اور اس تقریر کی ویڈیو بنا کر ڈاکٹر عرفان نے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی. جھگڑے کی سب سے زیادہ وجہ یہ ویڈیو بنی. انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بڑی غور طلب ہے کہڈاکٹر اور وکلا دونوں پڑھے لکھے لوگ ہیں اور کیا ایک ڈاکٹر کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ صلح ہونے کے بعد ایسی ویڈیو کو وائرل کریں۔ تاہم تشدد دونوں طرف سے کیا گیا۔ جب ڈاکٹروں نے ہم پر پتھراؤ کیا تو ہم نے جواب دیا لیکن اس کے باوجود بھی چوٹیں صرف وکلا کو آئیں اور گرفتار بھی وکیل ہی ہوئے۔
 صدر پنجاب بار عاصم چیمہ نے بتایا کہ 'پہلے جو معاملہ ہوا تھا اس میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے وکلا کو کمرے میں بند کر کے مارا۔ اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر عرفان نے اچھا قدم اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم معافی مانگتے ہیں وکلا سے لیکن اس کے بعد انھوں نے ویڈیو بنا کر وائرل کر دی اور اس ویڈیو کی وجہ سے وکلا کی ہتک ہوئی جو ہمارے نوجوان وکلا کو بلکل اچھا نہیں لگا۔ گیارہ دسمبر کی صبح ہم نے ہاؤس کا اجلاس کیا اور اجلاس ختم ہو گیا لیکن نوجوان وکلا کا غصہ بہت زیادہ تھا اس لیے انھوں نے کہا کہ ہم نے پی آئی سی جانا ہی جانا ہے. 
انھوں نے مزید بتایا کہ اس ویڈیو میں ڈاکٹر نے جو کہا کہ 'کسی کی جرات نہیں ہے کہ پی آئی سی میں آکر دکھائے، اس جملے سے وکلا کو اشتعال آیا اور انھوں نے کہا کہ ہم جیل روڈ پر جا کر پرامن احتجاج کریں گے۔ جبکہ ہم نے یہی سوچا تھا کہ وہاں جا کر راضی نامہ ہو جائے گا اور ہم واپس آجائیں گے۔
ان کا کہنا ہے ہمارا احتجاج پرامن تھا لیکن جب اندر سے پتھر آنا شروع ہو گئے تو اس کے بعد وکلا اندر گئے۔ عاصم چیمہ (صدر پنجاب بار کونسل) نے دعویٰ کیا کہ ہمارے کسی وکیل نے کسی مریض کو ہاتھ نہیں لگایا اور ہمارے وکلا ہسپتال سے باہر آگئے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر اور ہسپتال سٹاف باہر آیا اور پھر لڑائی شروع ہو گئی۔ ڈاکٹر عرفان کی ویڈیو کے علاوہ ایک ویڈیو حملے کے بعد وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون وکیل کو پی آئی سی کے معاملے پر اشتعال انگیز تقریر کرتے سنا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں خاتون وکیل نے دیگر وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بہن آپ سب کے ساتھ چلے گی وکلا کی عزت بحال کروانے۔ جبکہ بار کے اعلیٰ عہدیداران کو مخاطت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کبھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو ہم نے دیکھا ہے کہ آئی جی صاحب خود بار کے صدر کے پاس چل کر آتے تھے ۔ ہم کمزور ہو چکے ہیں اور اب ہمیں اپنے لیے نکلنا ہے۔
تاہم اس حوالے سے صدر پنجاب بار عاصم چیمہ سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ بدھ کو وکلا کی جانب سے پر تشدد واقعے میں بار کی سیاست کا کتنا عمل دخل ہے تو ان کا کہنا تھا یہ سچ ہے کہ اگلے ماہ الیکشن ہیں اور اس میں ایک نہیں درجنوں امیدوار کھڑے ہوتے ہیں اور اگر کسی امیدوار نے اس معاملے پر وکلا کو اشتعال دلایا ہے اور کہا ہے کہ ہم وہاں جا کر عزت بحال کروائیں گے تو میرا نہیں خیال کے اس واقعے کے بعد وکلا کی عزت بحال ہوئی ہے۔ تاہم وکلا نے کہا کہ احتجاج ریکارڈ کروانا ہمارا حق ہے لیکن ہم لوگوں کا پی آئی سی جا کر لڑنے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہم لڑنا چاہتے تھے۔
ایڈووکیٹ میاں نصیر احمد نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ واقعہ وکلا تاریخ کا سب سے افسوسناک واقع ہے کیونکہ اس کے اندر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب بار کے صدر عاصم چیمہ کا کہنا تھا کہجس جس وکیل کا ہمیں پتہ چلے گا کہ وہ کل کے احتجاج میں پرامن نہیں تھے ان کی ممبرشپ اور لائسنس دونوں کو کینسل کیا جائے گا۔ جبکہ ہم نے ایک وکیل، جس نے اندر جا کر بدتمیزی کی تھی اس کا لائسنس کینسل کر دیا ہے اور جس وکیل کو فائزنگ کرتے دیکھا گیا ہے ہم اسے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا وہ ہمارا وکیل تھا یا نہیں۔ اگر وہ ہمارا وکیل ہوا تو اس کا لائسنس بھی کینسل ہوگا۔
ندیم عباس بھٹی
مسقط سلطنت آف عمان

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.