167

ہمارے معاشرے میں مولوی کا کردار

ایک بندہ ننانوے قتل کرنے کے بعد معافی کا طلبگار ہوا تو اسے کسی نے بتایا کہ فلاں عالم آپکو اللہ سے معافی دلوا سکتا ہے، وہ شخص اس عالم کے پاس جاتا ہے، لیکن عالم صاحب اسے کہتے ہیں کہ تجھے معافی نہیں مل سکتی، وہ شخص غصے میں آ کر اس عالم کو بھی قتل کر دیتا ہے، اب اس نے پورے سو قتل کردیئے ہیں، لیکن اس میں معافی مانگنے کا جذبہ موجود ہے، اسے کہیں سے ایک اور عالم کا پتا چلتا ہے، موصوف اس عالم کی طرف چلنا شروع کرتے ہیں کہ اس دوران عزرائیل روح قبض کرلیتا ہے، اب جنت اور دوزخ دونوں جگہوں کے فرشتے اس شخص کی روح لینے آجاتے ہیں، دونوں میں لڑائی ہوجاتی ہے، آخر فیصلہ ہوتا ہے کہ اس شخص کے گھر اور موت کی جگہ کی پیمائش کی جائے اور عالم کے گھر اور موت کی جگہ کی پیمائش کی جائے اگر عالم والا فاصلہ کم ہو تو جنت کے فرشتے اسے لے جائیں گے اور اگر اسکے اپنے گھر والا فاصلہ کم ہوا تو جہنم کے فرشتے اسے لے جائیں گے، پیمائش شروع ہوتی ہے تو اللہ عالم کے گھر سے فاصلے والی زمین کو سکڑنے کا حکم دے دیتا ہے اور یوں عالم والا فاصلہ کم ہونے پر جنت کے فرشتے اسکی روح لے جاتے ہیں۔۔۔ مولوی صاحب کہانی سناتے ہیں اور لوگ واہ واہ کے نعرے لگا دیتے ہیں، سبحان اللہ سبحان اللہ کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، یہ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نام پر لوگوں کی تربیت ہورہی ہے، لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ جتنے مرضی قتل کردو، جتنی مرضی بدفعلیاں کر دو، معصوم بچیوں سے زیادتی کے بعد انکی لاشوں کے ٹکڑے کردو، خوراک میں ملاوٹ سے آہستہ آہستہ لوگوں کا قتل کردو، رشوت سے لوگوں کا جتنا مرضی جینا حرام کردو، زندگی میں صرف ایک بار ندامت کا ایک آنسو گرا کر نماز صلات وتسبیح پڑھ لو سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ بھی معاف ہوجائیں گے، اللہ غفور الرحیم ہے وہ سب معاف کر دیتا ہے کوئی معافی مانگنے والا تو بنے۔

واہ کیا مذہب ہے کیا تربیت ہے، جو مرضی کرو اور بغیر کسی سزا کے معافی ہی معافی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بےایمانی، فراڈ، چوری، ملاوٹ، بدفعلی، زیادتی، قتل وغارت، رشوت، ناجائز کمیشن خوری، غرض ہر قسم کی بُرائیاں بڑھ رہی ہیں، اور اسکی ایک وجہ مولوی ہے جو یہ کہتا ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا وہ جنتی ہے، اب لوگ کلمہ پڑھ کر سب کام خوشی خوشی کررہے ہیں۔

راقم جان کی امان پا کر صرف کلمہ پڑھ کر جنت کے پرمٹ بانٹنے والے جنت کے ٹھیکیداروں سے کچھ سوالات کرنے کی جسارت کرنا چاہتا ہے:

ایک انسان جب دوسرے کو قتل کرتا ہے، تو اسے معافی اللہ نے دینی ہے یا جس بندے کو قتل کیا گیا اس نے دینی ہے؟ 

جو جنسی درندہ معصوم بچی سے زیادتی کر کے اسکی لاش کے ٹکرے کر کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتا ہے، اسے معافی اللہ نے دینی ہے یا اس معصوم بچی نے؟

جو مولوی قرآن سامنے رکھ کر معصوم بچوں سے بدفعلیاں کرتا ہے اسے معافی اللہ نے دینی ہے یا ان معصوم بچوں نے جنکے ساتھ بدفعلیاں کی گئیں؟

جس انسان کی ملاوٹ شدہ خوراک اور ادویات کھانے سے دوسرے انسانوں کی موت واقع ہوجاتی ہے اسے معافی اللہ نے دینی ہے یا جنکی موت ہوئی انہوں نے؟

ایسے ہی بےایمان، رشوت خور، چور، ڈاکو، قبضہ مافیا، ناجائز منافع خور، ناجائز کمیشن خور اور بھتہ خور کو معافی اللہ نے دینی ہے یا جن سے زیادتی ہوئی انہوں نے؟

حقوق العباد کیا ہیں؟ کیا حقوق العباد میں کوتاہی اللہ نے معاف کرنی ہے یا جنکے حقوق متاثر ہوئے انہوں نے؟ 

اللہ صرف حقوق اللہ معاف کرتا ہے، یعنی عبادات میں کوتاہی، حقوق العباد میں کوتاہی پر معاف کرنا اللہ کا طریقہ نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ایماندار ہے، وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کسی کی حق تلفی ہو، جسکے ساتھ زیادتی کی گئی، جب تک وہ معاف نہیں کرے گا، اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا، چاہے جتنے مرضی کلمے پڑھ لو، حج کر لو، یا مولوی کی بتائی ہوئی عبادات کر لو، اللہ کے ہاں انصاف ضرور ہوگا، یہی ایک یقین ہے جو مسلمانوں کو مذہب کے ساتھ باندھے ہوئے ہے، ہمارے معاشرے میں جرائم کی روک تھام کیلئے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مولوی کی تربیت بھی ازحد ضروری ہے، کیونکہ مولوی ہمارے معاشرے پر ڈائریکٹ اثرانداز ہوتا ہے، اور لوگ اسکی بات مانتے ہیں، جب مولوی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں فرق واضح کرے گا تو عام لوگوں میں اللہ کا ڈر اور خوف بیٹھے گا اور معاشرے میں برائیاں کم ہونا شروع ہوجائیں گی۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں