334

احساس پروگرام اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر

بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام خواتین کے لیے بہت اچھا پروگرام تھا لیکن بدقسمتی سے سیاسی لوگوں کے ذریعے فارمز تقسیم ہوئے اسلیے بہت سارے غیر مستحق لوگ بھی اس میں شامل ہوگئے یہاں تک کہ 22 گریڈ تک کے آفیسران اور انکی بیویاں بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والوں میں شامل رہے ہیں۔

جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے فلاحی کاموں کو غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے غریبوں کی فلاح وہ بہبود کے لیے احساس پروگرام مرتب کیا گیا جس کے ساتھ قائد اعظم کی تصویر لگائی گئی، حکومت چاہتی تو انصاف پروگرام رکھ کر وزیراعظم کی تصویر ساتھ لگا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اسکے ساتھ ہی پروگرام کی سربراہی کے لئے بھی غیر سیاسی اور پروفیشنل خاتون کو چنا گیا جس کا نام ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ پوری دنیا سے ان تین لوگوں میں شامل تھی جنہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سربراہی کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے ڈاکٹر ثانیہ ملکی و بین الاقوامی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہیں، آپ قائد اعظم کے قریبی ساتھی عبدالرب نشتر کی پوتی ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نے آتے ہی سب سے پہلے احساس پروگرام کا عملی خاکہ پیش کیا جس میں بے سہارا اور بے گھر لوگوں کے لیے شلٹر ہومز ، لنگر خانے اور کم آمدنی والے افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ شلٹر ہومز اس وقت پورے پاکستان میں ہر بڑے شہر میں اور بڑے ہسپتال میں موجود ہیں، جہاں لوگ رات گزار سکتے ہیں اور تین وقت کا کھانا بھی ملتا ہے اور لنگر خانے بھی پورے پاکستان میں ہر بڑے شہر میں اور ہسپتالوں میں موجود ہیں، جہاں مفت تین وقت کا کھانا ملتا ہے۔

اس کے علاوہ احساس کفالت پروگرام کے تحت خواتین کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا ہے اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے کاروبار کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس سے ان خاندانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے دئیے جارہے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آڈٹ کیا گیا جس سے 8 لاکھ غیر مستحق افراد کو نکالا گیا جن میں ملازمین اور یہاں تک کہ گریڈ بائیس تک کے لوگ بھی شامل تھے ان سب کو نکال کر مستحق لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔

جب کرونا کی وبا آئی تو مستحق گھرانوں کے لیے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کیا گیا، جس کے تحت فی گھرانہ 12 ہزار روپے دیے جارہے ہیں حکومت چاہتی تو یہی رقم اپنے منتخب ممبران یا پارٹی عہدیداران کے ذریعے بھی کرسکتی تھی لیکن شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے پارٹی اور حکومت کو اس سے علیحدہ رکھا گیا اور مکمل شفاف طریقے سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس رقم کو مستحق افراد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا پروگرام ہے جو مکمل غیر سیاسی اور حکومت کی مداخلت سے آزاد ہے اور مستحق لوگوں کو امداد شفاف طریقے سے مل رہی ہے۔ اسکا کریڈیٹ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو جاتا ہے انہوں نے اپنی انتھک محنت سے اس پروگرام کو کامیاب بنایا اور مزید بھی اسی طرح شفاف طریقے سے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔

تحریر: عمران اللہ مشعل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “احساس پروگرام اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اپنا تبصرہ بھیجیں