350

پاکستانی حکومت کے اچھے کام

جب سے ہوش سنبھالا ہے پاکستان میں کئی قدرتی آفات دیکھی ہیں، کبھی زلزلے دیکھے ہیں، کبھی سیلاب دیکھے ہیں تو کبھی دھماکے، لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہماری قوم ایک جذبے کیساتھ ہر آفت سے مقابلہ کرتی آئی ہے ،کئی حکومتیں آئیں تو کئی گئیں، ہر حکومت اپنے بچوں کو ہی آگے لانے کا سوچتی رہی اور یہی کوشش کرتی رہی کہ اپنے دور حکومت میں اپنے بچوں اور اپنے خاندان کو اسمبلی میں بھر دیں، یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں کہ ہم ہمیشہ سے ہی دو خاندانوں کے غلام رہے ہیں۔ عمران خان میں ہزاروں خامیاں ہونگی لیکن سب سے بڑی بات جو ان پارٹیوں پر بھاری ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے خاندان  کے کسی بھی بندے کو کسی قسم کا عہدہ نہیں دیا جبکہ میری اس بات سے اکثر لوگوں کو اعتراض بھی ہوتا ہے کہ انکا کوئی  خاندان  ہے ہی نہیں، تو میرا جواب ہوتا ہے کہ عابد شیر علی ،اسحاق ڈار یا تالپور جیسے کئی رشتے دار میانوالی سے نکل سکتے تھے جبکہ ہم اکتسابی تو مشہور ہیں کہ ہمارا کوئی رشتہ دار فوج میں کسی عہدے پر ہو ،وکیل ہو سیاست دان ہو تو پورا خاندان تو کیا پورا محلہ ہی اسکا رشتے دار بن کر لوگوں کو دھمکاتا ہے کہ جانتے نہیں ہو ہم فلاں فوجی ،وکیل یا سیاسی شخصیت کے رشتے دار ہیں۔

پاکستان میں پہلی بار کرونا وائرس کی وجہ سے جو رقم دی جارہی ہے یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ پہلی بار احساس ہورہا ہے کہ حکومت بھی عوام کا خیال رکھ رہی ہے جہاں امیر نہیں غریبوں کی مدد کی جارہی ہے، اور ایسا ہونا بھی چاہیے بلا تفریق غریب کی مدد کرنی چاہئے جو حکومت کا فرض ہوتا ہے، لیکن افسوس ہوتا ہے کہ مخالف پارٹیاں اس پر بھی تنقید کر رہی ہیں، اگر خود نہیں دے سکتے تو جو دے رہا ہے اسکی حمایت نہیں تو کم ازکم خاموش ہی رہ کر عزت بنا لیں، آ پ لوگ اسمبلی کی تنخواہیں بڑھتے وقت تو سب ایک صفحہ پر آجاتے ہیں، اپنی ڈیلیں اور بیماریوں کے بہانے کر کے مک مکا پر بھی سب چُپ ہوتے ہیں لیکن اگر عام عوام کو کوئی حقوق ملنے لگیں تو منافقت شروع کردی جاتی ہے۔ جیسا کہ کالا باغ ڈیم نہ بناؤ ہم مر جائیں گے عوام پیاس سے مرتی ہے تو مر جائے انکو صرف عوام سے دشمنی ہے اب جو پیسا دیا جارہا ہے سب جماعتوں کو ہر ادارے کو ساتھ دینا چاہئے تاکہ عوام کو انکے حقوق کا پتا چلے کہ حکومت ہماری محافظ ہوتی ہے ہم ووٹ اور ٹیکس دیتے ہیں تو حکومت کا بھی کچھ فرض ہوتا ہے عوام کا خیال رکھے، لیکن اس میں منافقت ظاہر کر کے عوام کے حقوق روکنے کی کوشش کرنا صرف اپنی سیاست کی خاطر سراسر غلط ہے ۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا اقدام ہے بلکہ حکومت کو غریب لوگوں کی مدد کرنی چاہیے اور ہمیں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے عوام خواہ کسی بھی پارٹی سے  کسی بھی مذہب سے ،یا کسی بھی فرقے سے ہوں انکی مالی مدد کرنا حکومت کا فرض ہے ۔

مجھے خوشی ہورہی ہے کہ پہلی بار باہر بیٹھ کر یہ سننے کو مل رہا ہے کہ پاکستانی حکومت غریب لوگوں کی مدد کر رہی ہے اور خود کو پاکستانی ہونے پر اچھا لگ رہا ہے ورنہ تو یہی سننے کو ملتا تھا کہ آپ پاکستانی باہر سے امداد لے کر اسمبلیوں میں کھا جاتے ہو اور غریب کا حق اس تک کوئی پہنچنے ہی نہیں دیتا ۔کسی کی خوشامد کرنا اپنی فطرت نہیں ہے خواہ کوئی وزیر ہو یا پیر کیونکہ روزی کما کر کھاتے ہیں اور حساب اللہ کو دینا ہے اسلئے زمینی خدا کی کبھی پوجا نہیں کرتے مگر جہاں برائی یا اچھائی نظر آئے وہاں خاموش نہیں رہا جاسکتا اسلئے ثانیہ نشتر اور حکومت کا شکریہ جو پہلی بار باہر بیٹھ کر احساس ہوا اور بچوں کو بتایا کہ دیکھیں ہماری پاکستانی حکومت بھی غریب لوگوں کی ہیلپ کر رہی ہے۔سیلف ریسپیکٹ اور خودداری جیسا کچھ نہیں جتنے مرضی چکر چلا کر دولت اکٹھی کر لو، سب یہی رہ جانا ہے، دعاوں میں یاد رکھیں، اللہ حافظ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں