126

کرونا وبا کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک رائن نے پیر کو کہا کہ ہم عالمی سطح پر وبا کی پہلی لہر کے بیچ میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم ابھی تک اس مرحلے میں ہیں جس میں بیماری زور پکڑ رہی ہے، جنوبی امریکہ، جنوبی ایشیا اور دوسرے خطوں میں کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور بیماری کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ اسلئیے شمالی امریکہ، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور دوسرے خطوں کو اپنے اقدامات میں نرمی کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر رائن عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی پروگراموں کے سربراہ ہیں، انھوں نے وبا کی دوسری لہر سے مہینوں پہلے انتباہ جاری کیا جس سے ان لوگوں کے خدشات کو تقویت ملی جو کاروبار جلدی کھولنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کیسز اور اموات والے ملک امریکہ میں پیر کو میموریل ڈے کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اور ساحل سمندر اور عوامی پارکس میں دکھائی دیے۔ جن ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں ان میں بھارت بھی شامل ہے۔ ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں مسلسل سات دن سے پہلے سے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ مریض اور 4 ہزار سے زیادہ اموات ہونے کے باوجود بھارت میں پیر کو اندرون ملک پروازیں بحال کردی گئیں۔ جنوبی امریکہ کے ملک برازیل میں بھی کیسز اور اموات میں تیزی آئی ہے اور وہ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ دو دن سے برازیل میں امریکہ سے بھی زیادہ اموات ریکارڈ کی جارہی ہیں۔ اس کے بعد امریکہ نے برازیل سے غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی لگادی ہے۔

برازیل میں کیسز کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر رائن نے مشورہ دیا کہ اسے معاشی نقصان کے باوجود لاک ڈاؤن برقرار رکھنا چاہیے۔ برازیل کے صدر بولسونارو لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں اور ان مقامی حکام سے اس پر اختلاف کا اظہار کرتے رہتے ہیں جنھیں نے اپنے علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا میں بدھ سے اسکول کھل رہے ہیں اور لاکھوں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ حکام نے عوام کو پابند کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹیکسیوں میں سفر کرتے ہوئے ماسک ضرور پہنیں۔ اس کے علاوہ ریستورانوں اور انٹرٹینمنٹ کے مقامات سے کہا جارہا ہے کہ ہر آنے والے شخص کو شناخت کریں تاکہ اگر کسی مقام پر وائرس پھیلنے کی اطلاع ملے تو تمام متاثرین کا سراغ لگانا آسان ہو۔ ادھر اسپین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ارکان کو سرحدیں کھولنے پر رضامند ہوجانا چاہیے اور فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سے ملک سفر کرنے کے لیے محفوظ ہیں۔ یونان سیاحوں کی حوصلہ افزائی کے لیے یکم جون سے اپنے جزیروں تک کے سمندری سفر کو سستا کررہا ہے، جبکہ جمہوریہ چیک، سلواکیہ اور ہنگری نے بدھ سے ایک دوسرے کے شہریوں کو قرنطینہ میں رہنے کی شرط کے بغیر سفر کی اجازت دے دیں گے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں 4 جون سے کاروباری مراکز اور دفاتر کھول دیے جائیں گے جبکہ ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کو صحت سے متعلق قواعد یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں