588

ہسپتالوں میں موت کا خوف

اُف خدایا! بلڈ شوگر لیول اتنا کم، تم زندہ کیسے ہو؟

بیاسی سالہ ذیابیطس کی مریضہ جینی کا روٹین شوگر لیول چیک کرتے ہوئے نرس سبینا سٹپٹا گئی، مجھے فوراً ایمبولینس کو فون کرنا چاہئیے، یہ کہتے ہوئے ابھی فون کرنے کیلئے سبینا نے اپنا موبائل پکڑا ہی تھا کہ جینی نے چلانا شروع کردیا، 

خبردار ایمبولینس کو فون نہ کرنا میں ہسپتال نہیں جانا چاہتی، وہ مجھے مار دیں گے?۔

اس احتجاج پر سبینا نے وقتی طور پر فون کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور جینی کا بلڈ شوگر لیول بڑھانے کیلئے گھر میں جو کچھ موجود تھا، اسے کھانے پینے کو دے دیا، لیکن اسکا شوگر لیول کسی صورت بھی بڑھ نہیں رہا تھا، وقت ہاتھوں سے نکلا جارہا تھا، سبینا کے پاس ایمبولینس کو فون کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، ایسا نہ کرنے پر یہ قتل اسکے ذمہ لگ جانا تھا، لہذا اس نے دوسرے کمرے میں جا کر ایمبولینس کو فون کر ہی دیا، دس منٹ بعد ایمبولینس دروازے پر آ موجود ہوئی اور ایمبولینس کے عملے کو اگلا آدھا گھنٹہ جینی کے منتیں ترلے کرنا پڑے اور یہ یقین دلانا پڑا کہ ہسپتال میں اسکی اچھی دیکھ بھال ہوگی اور اسکی زندگی بچ جائے گی، آدھے گھنٹہ بعد جینی ہسپتال جانے کیلئے بمشکل رضامند ہوئی اور ایمبولینس اسے لیکر ہسپتال روانہ ہوگئی۔

سبینا افریقہ کے ملک گھانا سے تعلق رکھتی ہے اور پچھلے دس سال سے سویڈش حکومت کی طرف سے گھروں کے اندر اسٹنٹ نرس کے طور پر بوڑھے انسانوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے، جتنی اموات اس نے پچھلے دو مہینے سے دیکھی ہیں، اتنی شاید گزشتہ دس سالوں میں بھی نہ دیکھی ہوں، ان دو مہینوں میں درجنوں دفعہ سبینا افسردہ ہوئی ہے، روئی ہے، خود ڈیپریشن میں مبتلا ہوئی ہے، اسکی نوکری ایسے بوڑھے افراد کے گھروں میں جا کر مختصر دورانیے کیلئے انکی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے، جو ابھی چل پھر سکتے ہیں، اپنے گھروں میں اکیلے رہتے ہیں اور اولڈ ہاؤس منتقل ہونا پسند نہیں کرتے، جب گھروں میں انکی دیکھ بھال مشکل ہوجاتی ہے اور انکے لئے چلنا پھرنا دوبھر ہو جاتا ہے تب حکومت انہیں اولڈ ہاؤس منتقل کروا دیتی ہے، جہاں انہیں اپنا اپنا ذاتی کمرہ ملتا ہے جہاں ڈاکٹرز اور نرسز چوبیس گھنٹے انکی دیکھ بھال کیلئے موجود ہوتے ہیں۔

سبینا ایک شیڈیول کے مطابق ہر روز پندرہ بیس گھروں میں جاتی ہے، جہاں وہ پندرہ منٹ، تیس منٹ یا کبھی ایک گھنٹے کیلئے بوڑھے افراد کی دیکھ بھال کرتی ہے، اسکے ذمے ادویات دینا، شوگر لیول اور بلڈ پریشر چیک کرنا، گھر کی صفائی میں مدد دینا، بوڑھے افراد کو نہلانا اور انکا پیمپر تبدیل کرنا، یا انہیں قریبی مارکیٹ میں لیجا کر شاپنگ میں انکی مدد کرنا شامل ہوتا ہے، بعض اوقات وہ دس پندرہ منٹ کیلئے مختلف گھروں میں بوڑھے افراد کے ساتھ صرف بات چیت کرنے کیلئے بھی جاتی ہے، تاکہ تنہائی کے شکار بزرگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ اکیلے ہیں اور ان سے بات چیت کرنے والا کوئی نہیں ہے?۔

جب سے سویڈن میں کرونا کی وبا میں تیزی آئی ہے اور ہزاروں اموات ہونا شروع ہوئی ہیں، ستر سال سے اوپر کے بزرگ اس خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اگر وہ کسی اور بیماری میں بھی ہسپتال گئے تو مر جائیں گے، کیونکہ آجکل جو ہسپتال جارہا ہے، ان میں سے کم ہی گھر واپس آتے ہیں?۔ 

پچھلے ہفتے روٹین وزٹ کے دوران سبینا نے محسوس کیا کہ پچاسی سالہ الیگزینڈر شدید پریشانی کا شکار ہے اور رو رہا ہے، اس سے بات چیت سے یہ معلوم ہوا کہ اسے پیشاب کرنے میں تکلیف اور دشواری کا سامنا ہے، سبینا کے بار بار اصرار کرنے کے باوجود الیگزینڈر ہسپتال جانے پر تیار نہ ہوا، کیونکہ اسے بھی یہی خوف لاحق تھا کہ وہ اگر ہسپتال چلا گیا تو زندہ واپس نہیں آئے گا?، سبینا زبردستی نہیں کرسکتی تھی، لہذا وہ اسے کچھ ادویات دیکر دوسرے گھروں کی طرف روانہ ہو گئی، اگلے دن جب سبینا اسکے گھر میں داخل ہوئی تو اس نے الیگزینڈر کو فرش پر گُرا ہوا مردہ حالت میں پایا، اسکا منہ کھلا ہوا تھا، جیسے کہہ رہا ہو، مجھے ہسپتال نہ لیکر جانا میں مر جاؤں گا?، سبینا نے رو کر الیگزینڈر کے دوسرے شہروں میں مقیم بیٹے اور بیٹی کو اسکے مرنے کی اطلاع دے دی اور ہسپتال ایمبولینس کیلئے فون بھی کردیا، تاکہ اسکی لاش مردہ خانے بھیجی جاسکے، اور جب اسکے بیٹے بیٹی کے پاس وقت ہو، تب اسکی آخری رسومات ادا کی جاسکیں?۔

#طارق_محمود

(یہ تحریر اصل واقعات پر مبنی ہے لیکن فرضی ناموں کے ساتھ لکھی گئی ہے، تاکہ کسی کی شناخت ظاہر نہ ہوسکے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “ہسپتالوں میں موت کا خوف

  1. پاکستانی معاشرے اور سویڈش معاشرے کے رسم ورواج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

  2. Keep up the wonderful piece of work, I read few articles on this site and I conceive that your weblog is real interesting and has bands of wonderful info .

اپنا تبصرہ بھیجیں