169

ہماری جمہوریت کی حقیقت

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں عوام کی منشا اور اکثریت سے حکومت منتخب کی جاتی ہے، آج تک سب سے زیادہ مقبول جمہوریت کی تعریف ابراہم لنکن نے کی ہیں جس کے مطابق” عوام کی حکومت عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے” ،مگر حقیقی معنوں کے اندر ہمارے ملک میں حقیقی جمہوریت ابھی تک بدقسمتی سے پنپ نہیں سکی ہے۔ اگر دنیا کی موجودہ تاریخ دیکھی جائے تو مجموعی طور پر جمہوریت پسندیدہ ترین طرز حکومت ہے جس کے ثمرات عوام تک پہنچ بھی جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں صرف چند خاندانوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے جبکہ باقی عوام کو صرف جمہوریت کے نام پر ٹرک کی  بتی کے پیچھے لگایا جاتا ہے اور یہ ابھی تک جاری ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں دو طرز کی حکومتیں چلی آئی ہیں ایک فوجی آمریت تو دوسری نام نہاد جمہوریت جو صرف چند خاندانوں کے لیئے فائدہ مند ہوتی ہے، اگر یہی جمہوریت جس کے لیے سب نام نہاد سیاستدان عملبردار بن رہے انکی اندرونی سیاست دیکھی جائیں تو معلوم ہوگا ہر ایک سے بڑھ کر ایک، سب سے بڑا آمر ہیں. اس کی مثال پاکستان میں اب تک اقتدار میں آنے والی جماعتیں جو وفاق کی سطح پر اور صوبائی سطح پر اقتدار میں رہی ان میں کتنی جمہوریت ہیں ایک نظر دیکھتے ہیں، مسلم لیگ ن میں قیادت بھائی کے بعد چھوٹا بھائی انکے بعد بیٹا’بیٹی پھر پوتا پھر بچے کچھے رشتہ دار تمام اعلی عہدے خاندان میں تقسیم یہاں پر انکی جمہوریت ختم، یہی سلسلہ پیپلز پارٹی کا بھی ہے، والد کے بعد بیٹی بیِٹی کے وصیتی بیٹا اور شوہر ، انکی جمہوریت بھی یہاں پر ختم ہوجاتی ہے۔

 پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں ابھی تک عمران خان موجود ہے آگے اگر کوئی رشتہ دار آجائے لیکن پارٹی لیول پر ہر ایک نے اپنے اپنے خاندان بسائے ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کو دیکھیے جو ابھی تک مولانا فضل الرحمان صاحب کے گھر سے باہر نہیں نکل سکی اور اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی بھی اسنفدیار ولی خان صاحب کے گھر سے باہر نہیں نکل سکی، یہ وہی جماعتیں ہے جو اب تک وفاق اور صوبائی سطح پر اقتدار میں رہی ہیں۔ رہی بات ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی تو وہ اپنی کچھ غلط پالیسیوں کی بدولت خود کچھ منوا نہ سکی ہیں، باقی قیادت میں مورثیت اور دیگر جماعتوان والا نظام نہیں ہے۔ اب آجائیں انکی جمہوریت کی علمبرداری پر تو ماضی کی تاریخ میں کس نے کیا گل کھلایا اس پر لکھتے ہوئے طوالت ہوگی اسلیے موجودہ ماضی قریب کا حال جانچتے ہیں۔

 ہم نے ماضی کے بہت زیادہ تھیوریز اور کہانیاں سنی اور پڑھی ہیں، لیکن اپنی زندگی کے 2018 کے الیکشن سے پہلے اور بعد میں بہت کچھ کافی قریب سے دیکھ بھی لیا ہے، ن لیگ ووٹ کو عزت دو سے لیکر فخر سے 2 صحافی وزیر اعظم بنانے کے پیغام لیکر آنے تک اور پیپلز پارٹی کی 18 ویں ترمیم کو فتح قرار دینے سے نیب قوانین میں ترمیم کے بدلے 18 ترمیم کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہونے تک اور آرمی چیف ایکسٹینش میں سب ایک صف میں جیسے کھڑے ہوئے، یہاں سے انکی جمہوریت نوازی کی اصلیت کھل جاتی ہے۔ اب اگر ہم اپنی موجودہ جمہوریت کا دنیا کی جمہوریتوں کے ساتھ موازنہ کریں تو ہمیں کسی بھی جمہوری نصاب میں جگہ نہیں ملے گی، یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند خاندانوں کی جمہوریت کے نام پر بادشاہت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں