341

COVID-19: ہماری ذمہ داریاں ،حکومت کی ترجیحات اور اصلاح کا ایک موقع

کرونا وائرس (کوویڈ ۔19) کے عالمی سطح پر جاری صحت کے بحران کے دوران اس بات پر غور کرنا فطری ہے کہ اس وبا  کیے بعد  دنیا کیسی ہوگی ؟ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ عالمگیریت کے دور میں یہ ایک بے مثال بحران ہے ، جو اپنی وسعت اور اثرات کے لحاظ سے منفرد ہے۔ اس وقت ممکنہ طور پر آنے والے برسوں میں اس کے اثرات کا درست نقشہ تیار کرنا آسان نہی ہے۔ تاہم موجودہ منظرنامے کا جائزہ مستقبل کے بارے میں حقیقت پسندانہ پیشگوئیوں کے لئے کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ در حقیقت اس نے دنیا کو ایک معاشی بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے جو 2009 کے عالمی معاشی بحران سے کئی گنا بدتر ہے۔ لاکھوں ملازمتوں کا خاتمہ ہوچکا ہے، مختلف کاروبار بند یا بری طرح متاثر ہوچکے اور متعدد کارپوریشنیں تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں، یہ نہ صرف معاشی تباہی ہے بلکہ انسانی بحران بھی ہے۔

بدقسمتی سے اِس بحران نے مختلف غیر معقول اور بے منطقی انسانی رویوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ ابتدا میں پاکستان میں  کچھ خاص گروہوں نے اس وائرس کو مخصوص مسلک اور جماعت سے منسوب کرکے اس وائرس کے فرقےاور مزہب کے تعین کی کوشش کی جس سےسائنسدانوں کو یقینی طور پر اس کی ویکسین تیار کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔ اس مہلک وبا کا سب سے خطرناک پہلو  بے سر و پا خبروں اور افواہوں کا وہ بازار ہے جو تا حال سرگرم ہے۔ مختلف سروے اور اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی کا بیشتر حصہ اس سنگین بیماری کو مغرب کی سازش قرار دیکر اس مہلک وائرس کے وجود کا مسلسل انکار کرتا نظر آتا ہے۔ گزشتہ ماہ لاک ڈاؤن میں ناگزیر نرمی کے دوران حکومت کے وضع کردہ  حفاظتی طریقہ ہائے کار (SOP) کی دھجیاں اڑانے کے ثمرات آج دو لاکھ سے زائد اور روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کی صورت میں حاصل ہوچکے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بدقسمتی سے یہ وائرس تقریباً آبادی کی کثیر تعداد کو نشانہ بنا چکا ہے ۔

چینی کہاوت ہے کہ بحران جتنا  گہرا ہوتا ہے اس میں اتنے ہی بہتر  مواقع موجود ہوتے ہے ۔ ہر معاشرہ اپنی بصیرت اور فہم کے مطابق  بحرانوں سے سبق اخذ کرتا ہے ۔ عوام نے اپنے ظرف کے مطابق اس بحران سے فائدہ اٹھایا ، کسی نے مستحقین کی مدد کرکے اللہ کی رضا خریدلی اور حسب روایت موقع پرست مافیا نے اپنے روائتی حربوں سے اربوں روپےکمائے۔ منافع خوروں کا حفاظتی ماسک کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کا  سلسلہ جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی اور پلازمہ کی غیر قانونی فروخت  تک آ پہنچا ہے۔ حکومت اپنے تمام تر اختیارات اور وسائل کے باوجود اس مافیا کے آگے بے بس ہے۔ 

یہ بحران بھی بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں میں بھی قومی اتفاق رائے نہیں پیدا کرسکا ، مرکزی قیادت فیصلوں میں تذبذب کا شکار رہی اور تاحال کوئی بھی ٹھوس حکمت عملی دینے میں ناکام ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں بظاہر حزب اختلاف کیساتھ روائتی محاذ آرائی اور یکطرفہ احتساب شامل ہے۔ غیر متحرک اپوزیشن بھی اس منظر نامے میں کوئی موثر موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ امر بھی خارج از مکان نہیں ہے کہ حکومت نے یہ تمام محاذ عوام کی توجہ موجودہ انتظامی بحران اور اپنی دیگر انتظامی نااہلیوں سے ہٹانے کیلئے کھولے ہوں !! بہرحال ہمیں کچھ روشن پہلووں کی جانب بھی دیکھنا چاہیئے۔ مزید حوصلہ افزا اور قابل ستائش امر یہ ہے کہ ملک میں وینٹیلیٹرز کی کمی کے پیش نظر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور پی او ایف (POF) اور NRTC کے تعاون سے نوجوانوں اور سائنس دانوں کی شراکت سے مقامی طور پر کم قیمت وینٹیلیٹرز اور دیگر طبی حفاظتی سامان (ماسک وغیرہ )کی تیاری اور برآمد کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

میڈیکل کے شعبہ میں کوویڈ -۱۹ سے صحتیاب افراد کے خون کے پلازمہ پر تحقیق اور متاثرہ افراد پر استعمال امید کی کرن تصور کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کی سنگینی ، بڑھتی ہوئی اموات اور کیسز نے صحت کی محدود سہولیات اور اسپتالوں کا نظام مفلوج کردیا ہے۔ اس صورتحال کا مقابلہ صرف  (WHO) کے تجویز کردہ 14 دنوں کے مرحلہ وار روایتی اور سمارٹ لاک ڈاؤن ، سماجی فاصلہ کی پابندی اور حکومت کی مجوزہ احتیاطی تدابیر اور عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ یہ لاک ڈاؤن حکومت کے تعاون کے مطالبے کا انتظار کیے بغیر  رضاکارانہ طور پر معاشی لحاظ سے متاثرہ افراد کی مدد کرکے کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ بحرانوں اور عام حالات میں عموماً امداد اور چندہ دینے والے ممالک میں پاکستان کا شمار نمایاں طور  میں ہوتا ہے۔ 

دنیا سال 2020 کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھے گی۔ بلاشبہ کوویڈ ۔19 کے بعد دنیا بہت مختلف ہوگی، جہاں ہم کئی نئی اصطلاحات سے روشناس ہو چکے ہونگے۔  توقع کی جا رہی ہے کہ اس بحران سے حاصل ہونے والے قیمتی اسباق سے پاکستان میں تعلیم کے ایک ایسےموثر نظام کے قیام کی ضرورت ہے جس میں طبی تحقیق اور سائنسس پر انحصار زیادہ ہو تاکہ ہماری اگلی نسلیں سازشی نظریات کی بجائے عقل اور منطق پر یقین کرے۔ معیشت کی بحالی اور روانی کیلئے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ڈیجیٹلائزیشن  اور کاروبار کی وسعت اور بقا کیلئے ای کامرس اور مصنوعی ذہانت پر انحصار  شامل ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

COVID-19: ہماری ذمہ داریاں ،حکومت کی ترجیحات اور اصلاح کا ایک موقع” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں