104

انڈین ظلم، کشمیر یوں کی تحریک آزادی اور آئی ایس پی آر کا کردار


آئی ایس پی آر کا کام ہی ففتھ جنریشن وار کو لڑنا ہے جس کیلئے وہ پچھلے آٹھ سال سے دنیا بھر کے میڈیا کو استعمال کرتا چلا آرہا ہے جس میں اخبارات ،ٹی وی ٹاک شوز ،سوشل میڈیا اور شاعری سمیت ہر وہ شعبہ جس کا تعلق دماغ سے ہو یا رائے کو تبدیل کرنے سے ہو آئی ایس پی آر اس کے ذریعے رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ھموار کرتا ہے جسے انڈیا نے ففتھ جنریشن وار کے ذریعے متاثر کیا ہوتا ہے اور یہ لڑائی چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہے اور یہ محاذ چوبیس گھنٹے گرم رہتا ہے آئی ایس پی آر نے اس محاذ پر دشمن کے دانت ھمیشہ کھٹے کئے ہیں جس کا اظہار ان کے اکثر ریٹائرڈ فوجی جرنلز کرچکے ہیں کہ جس طرح رائے عامہ پاکستانی آئی ایس پی آر ھموار کرتا ہے ھمیں اس سے سیکھنا چاہئے۔


آئی ایس پی آر کا یہ متحرک کردار صرف ھمارے ملک میں نہیں ہوتا یہ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن،، کشمیر کے ملی نغمے ،، کو لیکر اس وقت جو بحث ھمارے ملک میں جاری ہے اس کے پیچھے زیادہ تر تو سوشل میڈیا ہینڈلر انڈیا کے ہی ہیں جو دبئی سمیت دیگر ممالک سے جعلی اکاؤنٹوں کے ذریعے اس کے خلاف لکھ بھی رہے اور اس کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں اور پاکستان میں ان کی ذہنیت سے موافقت رکھنے والے کچھ لوگ جن کا تعلق پاکستان سے ہے وہ اسے شئیر بھی کررہے ہیں اور اس پر کمنٹ بھی کر رہے ہیں اور اسی کو ذہن سازی کہا جاتا ہے جن کو یہ بھی نہیں پتہ کشمیر کی حقیقت اصل میں ہے کیا آدھا کشمیر جو ھمارے پاس ہے وہ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت نہیں آیا بلکہ وہ بھی فوج کی حکمت عملی سے ہی ھم نے حاصل کیا اور دوسرا حصہ لینے کیلئے جدوجہد جاری ہے ھماری بدقسمتی رہی ہے کہ ھماری ہر حکومت کی کشمیر پر پالیسی الگ رہی پچھلے دس سالوں میں کشمیر سرد خانے میں رہا ھمارے وزراءاعظم اقوام متحدہ میں تقریر تو کرتے رہے مگر اپنی تقریروں میں کشمیر کو پس پشت رکھا پچھلے دو سالوں میں کشمیر پالیسی میں بہتری آئی ہے اور دنیا بھر میں کشمیر کو اب دہشت گردی سے الگ کرکے دیکھا جارہا ہے جب کہ کچھ عرصہ قبل اس آزادی کی تحریک کو انڈیا کے آئی ایس پی آر اور ان کی حکومتوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت کشمیر کو دہشت گردی سے جوڑ دیا تھا. جس سے ھمارا ملک بیک فٹ پر چلا گیا تھا لیکن اب ملکی تھنک ٹینک دنیا کو باور کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ کشمیر آزادی کی تحریک ہے جو مسئلہ کشمیر کا حل صرف جنگ کو قرار دیتے ہیں انہیں شاید اس مسئلے سے مکمل واقفیت نہیں برصغیر کے رہنے والوں نے انگریزوں سے کونسی جنگ کی تھی جس کے تحت ان سے آزادی ملی 1857 میں ایک ہی جنگ آزادی کی تحریک چلی جو ناکامی سے دوچار ہوگئی اور پھر دو سو سال انگریز نے حکمرانی کی لیکن ان دو سو سالوں میں قوم کے شعراء اور دانشوروں نے اپنی تحریروں میں آزادی کو موضوع بنایا اس پر نغمے لکھے اور جذبہ حریت زندہ رکھا اور بغیر جنگ کئے برصغیر انگریز سے آزاد ہوگیا اس وقت ایسے دانشور نہیں تھے جو علامہ اقبال یا اس سے پہلے سر سید کو سمجھاتے تھےکہ تمہاری سوچ اور تحریروں سے آزادی حاصل ہونے والی نہیں لیکن آج کل ایسے دانشور پیدا ہوگئے ہیں جنہیں آئی ایس پی آر کے معانی سے بھی واقفیت نہیں اور وہ دشمن ملک کے پیجز سے شئیر ہونے والی پوسٹوں کو دھڑا دھڑ پوسٹ کررہے ہیں شئیر کررہے ہیں اور اپنے اداروں کا مذاق اڑا رہے ہیں کچھ ایسے دانشور بھی ہیں جو سب کچھ سمجھتے ہوئے اپنی قلم کا استعمال کچھ غیر ملکی مفادات کیلئے کررہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی وفاداری کسی سیاسی جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن خدارا سیاست ملک کے خلاف نہ کریں ملک کے لئے کریں انڈیا نے مکتی باہنی تحریک پر اس وقت اربوں روپے خرچ کئے بنگالیوں کی ذہن سازی کی انہیں اپنی ہی فوج کے خلاف کیا اور اس کا نتیجہ ھم نے بھگت لیا اب بھی وہی کچھ ہورہا ہے۔


بلوچستان میں سب سے پہلے فوج کے خلاف نفرت کا آغاز ہوا آج پی ٹی ایم جیسی جماعتیں پھر اسی ایجنڈے پر کاربند ہیں آج پھر شیخ مجیب جیسی مسلم لیگ بھارت کو شاید دستیاب ہو اور جو کچھ آج ملک میں ایک ملی نغموں کو لے کر افراتفری پیدا کی جارہی ہے کیا کسی ذی شعور کیلئے اس میں کوئی نشانی نہیں کیا وہ نہیں سوچتا کہ ایک ملی نغمہ کسی پاکستانی کیلئے اذیت کا باعث کیوں بن رہا ہے انڈیا تو اس پر شور ڈال رہا ہے اس کا شور کرنا بنتا ہے پاکستانی ایسا کیوں کررہا ہے یہ ہر محب وطن کے دل میں سوال ضرور اٹھتا ہے پھر پاکستان نے آج سرکاری طور پر مقبوضہ کشمیر کو پہلی بار اپنا حصہ قرار دے کر نقشے میں شامل کردیا یقینی طور پر یہ طویل مدتی جنگ کی جانب ھم بڑھ رہے ہیں جسے لڑنے کیلئے آئی ایس پی آر اپنے محاذ پر کامیابی سے کام کررہا ہے اس لئے خدارا پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس کے پاس ایک مضبوط فوج ہے یہ فوج بڑے بڑے بھیڑیوں کو اچھی نہیں لگتی اور وہ بکریوں کے ذہنوں میں ڈالتے ہیں کہ تم اس مضبوط حصار میں گھٹن محسوس نہیں کررہی یہ مضبوط فوج تو تمہارا چارا بھی کھا رہی ہے اس سے جان چھڑاؤ اور آزاد زندگی گزارو، لیکن دراصل ان بھیڑیوں کی نظر ان بکریوں پر ہی رہی ہے کہ جیسے ہی ان کی حفاظت کرنے والے کمزور ہوں اور ھم اس پر حملہ کریں لیکن ھمارے ملک کے محافظ اپنے عوام کیلئے ھمہ وقت پوری دنیا میں کام کررہے ہیں اور ان کی حفاظت کیلئے روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں کیونکہ جسے دشمن بکریاں قرار دے کر بہکا رہا ہے اسے یہ مرد مجاہد اپنے سر کا تاج سمجھتے ہیں اپنی عوام اور ملک سے محبت کرتے ہیں.مگر پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش نئی نہیں بہت پرانی ہے بس وقت کے ساتھ ساتھ طریقہ اور کردار بدلتے رہتے ہیں اس لئے باحیثیت پاکستانی ھمیں ایسے کرداروں پر بھی نظر رکھنی ہے اور اپنے وطن سے محبت کے جذبے کو ابھارنا ہے ھم جس عہد میں زندہ ہیں اسی عہد میں ایک ملک شام بھی ہے. دشمن نے وہاں کے عوام کو فوج کے مخالف کردیا آج کا شام اور آج سے بیس سال پہلے والے شام کو اگر دیکھیں گے تو آپ کو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا ترقی یافتہ مضبوط ملک آج کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے وہاں بھی عوام اپنی فوج کو بوجھ سمجھنے لگ پڑی تھی اور آج دنیا بھر میں شامی در بدر دھکے کھا رہے ہیں کیونکہ شامی بھیڑیئے کی چال میں پھنس گئے تھے۔
ھمیں اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہیں تاکہ ھم کسی ایسے سانحے کا شکار نہ ہو جائیں جس کا شکار آج شام ہے ۔ اسکے برعکس کشمیر کی تحریک آزادی بہت پروان چڑھ چکی ہے پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر کشمیر کی آزادی کا نعرہ گونج رہا ہے. یکجہتی کشمیرکے نام پر اجلاس ہو رہے ہیں اور اسی سلسلے میں آج وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے یوم استحصال کے موقع پر پیغام دیا ہے کہ بھارت کے زیرتسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاک ڈاﺅن کو ایک سال مکمل ہوگیا مگر کشمیریوں کے دکھ کم نہ ہوئے۔دنیا کورونا کے باعث چند ماہ لاک ڈاﺅن برداشت نہ کر سکی، آفرین ہے کشمیری سال بھر سے صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔بھارت کے ظلم و ستم کی وجہ سے کشمیری لاک ڈاﺅن کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم پر بے حسی عالمی برادری کے خلاف چارج شیٹ ہے۔مشکل ترین حالات میں بھی کشمیریوں کا عزم اور حوصلہ برقرار ہے۔دنیا کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یوم استحصال کے موقع پراپنے پیغام میں کہاکہ کشمیری حق خودارادیت کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مسئلہ کشمیر اب ایک المیہ سے بڑھ کر انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کشمیر کا بحران عالمی برادری کی بے حسی کا نوحہ ہے۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر دنیا خاموش ہے لیکن پاکستان پوری طاقت سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اورکھڑا رہے گا۔ بھارت کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا۔بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا اور آزادی کشمیر کی صبح ضرور طلوع ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں