93

ماں کا مُصّلا

‎یہ ممکن ہے

‎کہ تُم کو لوٹنے میں دیر ہو جائے

‎دئیے بُجھنے کے باعث

‎جانی بُوجھی راہ کھو جائے

‎مرا دل

‎جاگنے کی چاہ کے ہوتے بھی سو جائے

‎بہر صورت ،اگر لوٹو

‎مرے کمرے میں کچھ پَل

‎خامشی سے بیٹھ رہنا تم

‎یہاں رکھی ہوئی ہر شے

‎بہت برسوں سے چُپ چُپ ہے

‎یہ جب باتیں کریں

‎خاموش رہنا، کچھ نہ کہنا تم

‎بس اِن کی گفتگو سُننا

‎ذرا سا کرب سہنا تم

‎۔۔۔

*‎مجھے معلوم ہے*

*‎چُھٹی تمہاری* مُختصر ہو گی

‎اسی اِک آدھ ہفتے میں

‎ہزاروں کام بھی ہوں گے

‎بہت مصروفیت اوڑھے

‎وہ صبح و شام بھی ہوں گے

‎مگر ٹھہرو ،رُکو

‎اِک بات تو سُن لو

*‎مرے کپڑے مرا* *بستر*

*‎سبھی خیرات کر* *دینا*

*‎کتابیں اور تحریریں*

‎بھلے ردی میں دے دینا

‎صفائی گھر کی کروانا

‎ہر اک شے کو اُجلوانا

*‎مگر میرا مُصلا*

*‎ہو سکے تو ساتھ* لے جانا

*‎اسے ہرگز نہ *دھلوانا*

‎یہ مَیلا ہی سہی

‎لیکن مرا برسوں کا ساتھی ہے

‎یہ میرے کرب سے واقف ہے

‎میرا رازداں ہے یہ

‎مرا محرم ،مرا ساتھی

‎مری جائے اماں ہے یہ

‎بظاہر ایک ردی شے

‎مگر جنسِ گراں ہے یہ

‎مری آہ و بُکا

‎رچ بس گئی ہے

‎اس کے ریشوں میں

‎تمہارے واسطے

‎شب بھر دعائیں اس پہ مانگی ہیں

‎مرے سجدوں میں جو ٹپکے تھے آنسو

‎جذب ہیں اس میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ماں کا مُصّلا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں