30

ریاست مدینہ اور جنگل کا قانون

گوجرانوالہ سے لاہور جانے والی خاتون کی گاڑی کا پٹرول لاہور سے پیچھے ہی رنگ روڈ پر ختم ہو گیا جس کے باعث گاڑی رک گئی۔ خاتون باہر نکلی اور 130 پر مدد کی درخواست کے لئے کال کی۔ جواب ملا محترمہ یہ علاقہ موٹروے کی حدود میں نہیں آتا ہم معذرت خواہ ہیں۔ (اوئے بیوقوفو دیبل کونسا حجاج بن یوسف کی حدود میں آتا تھا؟ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر محمد بن قاسم کو ہزاروں کی تعداد میں لشکر دے کر بھیج دیا گیا  ایک عورت کی پکار مدد کی درخواست پر۔۔ کیونکہ ان میں غیرت تھی۔ بات تو غیرت کی ہے ۔ کیا تیری کیا میری عزتیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ اوئے بے شرموں تمہارے اس بوسیدہ سسٹم سے تو بینکنگ سسٹم بہتر ہے جو تمہیں کسی بھی اے ٹی ایم سے تنخواہ نکالنے کی سہولت دیتا ہے۔ بے شرموں تم سنت نبوی کو تو سمجھ نہیں سکتے اے ٹی ایم کے اصول کو ہی اپنا لیتے سمجھ لیتے کہ اگر ہم تنخواہ کسی بھئ اے ٹی ایم  سے نکلوا لیتے تو غیرت کا مظاہرہ بھی کسی حدود میں کر سکتے ہیں.  کیا تمہاری آنکھوں کے سامنے بازار میں کوئی تمہاری عزت تار تار کردے تو کیا تم حدود کا تعین کرو گے؟ اور کیا یہ سڑک دوزخ میں تھی؟ کیا یہ حدود پاکستان میں نہیں تھی؟ تمہارے لئے کافی نہیں تھا کہ تم بھی انسان ہو مسلمان ہو پاکستانی ہو اور جو تم کو مدد کے لئے پکار رہی وہ حوا کی بیٹی بھی پاکستانی ہے مسلمان ہے انسان کے ڈوب مرنے کا مقام  نہیں ہے۔کیا؟ پھر رنگ روڈ پولیس سے رابطہ ہوا تو یہی جواب ملا کہ 6 ماہ پہلے بننے والا یہ رنگ روڈ ہماری حدود میں بھی نہیں آتا۔

ہمارے حکومتی انتظامات اور سکیورٹی انتظامات کا جنازہ تو اسی وقت ہی نکل گیا تھا جب ایک لاچار مسافر خاتون کو ایک آئینی ریاست کے سب سے ترقی یافتہ شہر لاہور میں موجود سکیورٹی ادارے مدد کی درخواست پر کلین چٹ دے رہے تھے کہ ہم معزرت خواہ ہیں ہم ایک حوا کی بیٹی کی مدد کے لئے 10، 20 کلومیٹر تک نہیں پہنچ سکتے۔

اب 17 سالہ نوجوان محمد بن قاسم کا ایک حوا کی بیٹی کی مدد کی پکار پر پورے ملک پر دھاوا اور لشکر کشی کرنا  پھر ملتان تک فتح یہ سب ذکر کیا تو تحریر لمبی ہو جائے گی۔ خاتون نے سکیورٹی اداروں سے مایوس ہو کر اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا تو گھر والے 80 کلومیٹر سفر کو چند قدم کی مسافت سمجھتے ہوئے فوری دوڑ پڑے ۔ کیونکہ ان کے نزدیک اپنی عزت کی حفاظت کسی حد  کی محتاج نہیں تھی۔ اسی دوران شخص جن کو شخص یا انسان کہنا انسانیت کی توہین ہوگی یہ 2 درندے گاڑی کی طرف بڑھے تو خاتون اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اسے کیا خبر تھی لاہور شہر جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی درندے اس طرح سرعام گھومتے ہیں؟

اسے کیا خبر تھی کہ اسی علاقے میں 2 ماہ قبل ایک ڈاکٹر اور اس کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر جو کہ اسکی اسسٹنٹ تھی اسے بھی 5 ڈاکوئوں نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا اور جن کو گرفتار بھئ کیا گیا لیکن مناسب سزا نا دی گئی۔ یہ دونوں درندے گاڑی کی طرف لپکے اور خاتون کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ خاتون نے دروازہ نا کھولا تو ان درندوں نے دروازے کا شیشہ توڑا اور دروازہ کھول کر خاتون اور بچوں کو باہر نکال لیا. بعض زرائع کے مطابق خاتون کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا کیونکہ دروازے کے ساتھ سیٹ پر خون کے نشان بھی ملے ہیں۔ خاتون اور بچوں کو قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر انسانیت کی خوب دھیجیاں اڑائیں گئیں اور بچوں کے سامنے ان کی ماں کا ریپ کیا گیا۔ کیا بیتی ہو گی ان بچوں پر جن کی جنت کو ان کی آنکھوں کے سامنے تار تار کر دیا گیا؟؟۔ زمین پھٹی نا آسمان گرا۔

خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ان درندوں نے ایک لاکھ روپے کی رقم چھینی اور فرار ہوگئے۔۔ اسی اثناء میں خاتون کے گھر والے اس بتائی ہوئی لوکیشن پر پہنچے جہاں پہنچنے میں ہماری سکیورٹی کے نام پر دھبہ فورسز کو جھجک محسوس ہو رہی تھی اور تیری میری کے چکر میں اک حوا کی بیٹی کو درندگی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ جب خاتون کے اہل خانہ پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا تھا اور خون کے چھینٹے پڑھے تھے. گاڑی میں نا ہی بچے تھے نا ان کی ماں۔ اہل خانہ جو کہ پہلے ہی دونوں پولیسوں سے جواب وصول کر چکے تھے ایک بار پھر کوشش کی لیکن پولیس موقع پر نا پہنچی۔ اہل خانہ نے خود خاتون اور بچوں کی تلاش شروع کی اور چھان بین کے دوران قریبی جھاڑیوں میں روتے چلاتے سکیورٹی سسٹم پر لعنتیں بھیجتے خاتون اور بچے ملے ۔ واقع کی ایف آئی آر تھانہ گجر پورہ میں درج ہوئی اور تقریباً 20 مشکوک بندے پکڑنے کا دعوہ بھی ہو چکا ہے. ملزمان کے خاکے بھی تیار ہو چکے اور امید ہے ملزمان بھی جلد گرفتار ہو جائیں گے؟؟ لیکن کیا ان ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے گا؟؟۔ کیا اس متاثرہ خاتون کو انصاف مل سکے گا؟؟۔ جن بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی ماں کو نوچا گیا ، کیا یہ واقع ان کے دماغ سے نکالا جا سکے گا؟؟

کیا پولیس آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کر سکتی ہے؟؟ (کیونکہ 2 ماہ قبل اسی علاقے میں ایک لیڈی ڈاکر عزت سے ہاتھ دو بیٹھی۔) جی ہاں۔ یہ وقت پیچھے تو نہیں لایا جا سکتا۔ لیکن اگر اسی خاتون اور ان بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان درندوں کو پکڑ کر اسی مقام پر لا کر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جمع کر کے ان کو سنگسار کر دیا جائے تو متاثرہ خاتون کو انصاف مل جائے گا۔

بچوں نے اگر ریاست ، قانون کی بے بسی کی چیخیں سنی ہیں تو ملزمان کی آہ و پکار بھی سنیں گے۔ آئندہ پھر 10 سال تک ایسا واقع بھی پیش نہیں آئے گا۔۔کیونکہ جب جنرل ضیاء نے 1980 میں اسی طرح ریپ کے ملزمان کو سرعام پھانسی دی تھی تو سننے میں آتا ہے 10 سال تک ایسا واقع پیش نہیں آیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں