85

کزن میرجز اور مروجہ سائنسی اصول

جب بھی کزن میرج کی وجہ سے پیدا ہونے والی نئی نسل میں بیماریاں پیدا ہونے کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگوں کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ قرآن میں کہیں بھی کزن میرج سے منع نہیں کیا گیا ہے لہذا سائنس کی کیا اوقات کہ یہ اس بات سے منع کرے جسے قرآن نے منع نہیں کیا ہے، یہ رویہ مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ قرآن نے موٹے موٹے اصول بتانے کے بعد عقل کو استعمال کرنے کا سب سے زیادہ حکم دیا ہوا ہے، قرآن میں بہت سی چیزوں سے منع نہیں کیا گیا لیکن ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے سے بہت سی چیزیں سیکھتے ہیں اور انہیں اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً اوور سپیڈ قرآن میں کہیں بھی منع نہیں ہے، پتنگ اڑانے سے بھی منع نہیں کیا گیا ہے، ہیلمٹ کے استعمال کا بھی کہیں ذکر نہیں آیا ہے، فیس بک کے احکامات بھی نہیں ملتے، تو کیا اس بنیاد پر ہم ان حقائق کا انکار کردیں گے؟

سائنس کوئی ایسی چیز نہیں جو باقاعدہ ایجاد ہوئی ہو بلکہ جس دن سے یہ کائنات بنی تب سے ہی سائنس کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔آپ اس کو مذہب کے دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں تو یہ آپ کی تنگ نظری ہے، سائنس پر نہ تو کسی کی اجارہ داری ہے نہ ہی صرف فزکس کیمسٹری یا فلکیات وغیرہ وغیرہ میں ماسٹر یا پی ایچ ڈی کرنے والا ہی سائنسدان کہلائے گا۔ جب ایک انپڑھ آدمی لائٹ کا سوئچ آن کررہا ہوتا ہے یا ایک گھریلو خاتون لکڑیوں میں آگ بڑھانے کے لیے پھونک ماررہی ہوتی ہے تو وہ بھی انجانے میں سائنسی اصولوں کو ہی فالو کررہی ہوتی ہے۔ سائنس (یا سائنسی علم) ہر انسان کی نس نس میں بسا ہوا ہے اس کو مذہب دشمن کے طور پر دیکھنا صرف اور صرف سطحیت اور جذباتیت ہے۔

سائنس یہی ہے کہ آپ اپنی عقل کو استعمال کرو، غورو فکر کرو، مشاہدہ کرو اور جب رزلٹ ایک جیسا ملے تو اسے قانون بنا دو اور یہی سب کرنے کے بعد انسان کو پتہ چلا کہ اگر نسل در نسل کزن میرج ہی ہوتی رہے تو بچوں میں کوئی جسمانی یا نفسیاتی مسائل کے امکانات ہوسکتے ہیں اور اس کی بہت سی مثالیں بھی موجود ہیں اگر یقین نہیں آتا تو کسی چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس بیٹھ کردیکھ لیں یا کسی ہسپتال کا وزٹ کرلیں۔ جہاں اسلام نے کزن میرج سے منع نہیں کیا وہیں اسلام نے خاندان سے باہر شادی کرنے پر بھی کوئی رکاوٹ نہیں لگائی، صرف امکان کی بات ہورہی ہے کہ کزن میرج سے امکان بڑھ جاتا ہے، تو اس میں ضد کرنے والی کیا بات ہے۔ اصل حل یہ ہے کہ آپ لڑکا لڑکی کا شادی سے پہلے تھیلیسیمیا وغیرہ کا ٹیسٹ کروالیں تاکہ بعد کی پریشانیوں سے بچا جاسکے۔ ایسا ہر ترقی یافتہ ملک میں ہوتا ہے ، سعودی عرب میں بھی ہوتا ہے اور یہ ٹیسٹ صرف کزن میرج کی صورت میں ہی نہیں بلکہ خاندان سے باہر رشتہ ہونے کی صورت میں بھی کروالینا چاہیے،

بعض انسانوں کے جین میں کسی بیماری کی شرح بے حد کم ہوتی ہے لیکن اگر ان کے پارٹنر کے جین میں بھی اسی قدر (مائنر ) مسئلہ ہو تو امکان بڑھ جاتا ہے کہ ننھا مہمان دونوں کا مائنر لیکن خراب جین لے کر اس بیماری کا مہلک شکار ہوسکتا ہے جس سے اس کی آگے آنے والی پوری زندگی متاثر ہوگی ہی ساتھ وہ جوڑا بھی پریشان حال ہی رہے گا ۔

بار بار کے مشاہدے سے پتہ چلا کہ اس طرح کے مسائل کزن میرج میں کسی قدر ذیادہ ہوتے ہیں، اگرچہ خاندان سے باہر شادی کرنے میں بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان بیماریوں سے سو فیصد بچا جاسکے، اسی لئے اس امکان سے بچنے کے لیے ڈاکٹر حضرات اپنی ایک رائے پیش کرتے ہیں جسے ہم طعنہ سمجھ کر سائنس کو لتاڑنا شروع کردیتے ہیں، یہ سب میرے ذاتی تجربات پر مشتمل باتیں ہیں کیونکہ میری شادی بھی کزن میرج ہی ہے۔

#عبیدالرحمن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں