147

کرونا وبا میں گدھی (کھوتی) کے دودھ کی مانگ😀

یورپی ملک البانیہ میں پیپر نامی گاؤں کے ایک ڈیری فارم میں ایک کسان صحن میں گدھوں کے آگے گھاس ڈال رہا ہے اور گدھے خوشی سے گھاس چبا رہے ہیں، باہر گدھی کا دودھ خریدنے کیلئے گاہک موجود ہیں، یہ منظر البانیہ میں موجود گدھی کا دودھ بیچنے والے دو میں سے ایک ڈیری فارم کا ہے جسکے مالک کا نام ایلٹن ہے اور اس نے دو سال پہلے صحافت کا شعبہ چھوڑ کر یہ کاروبار اپنالیا تھا۔ انکے ڈیری فارم میں اس وقت چار دودھ دینے والی گدھیاں اور چار عدد حاملہ گدھیاں موجود ہیں جو جلد ہی گدھا ڈیلیوری کے بعد دودھ دینا شروع کردیں گی۔ اس ڈیری فارم میں روزانہ تین لیٹر دودھ حاصل کیا جاتا ہے جو پورے البانیہ کی دودھ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے یقیناً ناکافی ہے، ایلٹن جلد ازجلد گدھیوں کی تعداد 100 تک بڑھانے کا پروگرام بنا رہے ہیں، لیکن یہ کام البانیہ جیسے ملک میں بہت مشکل ہے جہاں تیزی سے دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت کی وجہ سے گدھوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔

اس وقت البانیہ میں ایک عام آدمی کی اوسط ماہانہ تنخواہ 400 یورو تک ہے جبکہ ایک لیٹر گدھی کے دودھ کی قیمت 50 یورو ہے جو یہاں کے لوگوں کیلئے یقیناً بہت زیادہ ہے لیکن لوگ کرونے کی اس وبا میں جان بچانے کیلئے اتنا مہنگا دودھ خریدنے کیلئے مجبور ہیں کیونکہ انہیں ادویات کے ساتھ ساتھ وٹامنز سے بھرپور دودھ چاہئیے جس سے انکی قوت مدافعت میں اضافہ ہوسکے۔

دودھ کی اس اچانک مانگ کی وجہ سے البانیہ جیسے پہاڑی ملک میں گدھوں کی زندگی میں بھی بہار آ گئی ہے، یہاں گدھوں پر بھاری بوجھ ڈھویا جاتا ہے اور انہیں اکثر مار پیٹ کا سامنا بھی رہتا ہے، اب ڈیری فارم میں گدھیاں تازہ گھاس کھا کر آرام فرما رہی ہیں اور یہاں انکا کام سکون سے رہنا اور دودھ دینا ہی ہے۔

البانیہ کے گدھوں کو انکے حقوق ملنا شروع ہوگئے ہیں 😀، لیکن پاکستان میں گدھوں کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ بدستور جاری ہے😢، اگر پاکستانیوں کو گدھی کے دودھ کی افادیت😀 کا اندازہ ہوجائے تو یہاں بھی گدھوں کو انکے جائز حقوق مل سکتے ہیں بشرطیکہ یہ کام ایمانداری سے کیا جائے، اگر نقلی گدھی کا دودھ بکنا شروع ہوگیا اور گدھے کی بریانی اور کباب کھانے کا سلسلہ جاری رہا تو عنقریب پاکستان میں گدھے نایاب ہوجائیں گے😀۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں