78

اولڈ ہاؤس ڈائری : بانوے سالہ جینی کی سالگرہ

جب سے کرونا کی وبا شروع ہوئی ہے سویڈن میں اولڈ ہاؤسز میں موجود بوڑھوں کے لواحقین کو ان سے ملنے پر پابندی لگی ہوئی ہے، ایسا بوڑھوں کی حفاظت کے حوالے سے کیا گیا ہے کیونکہ کرونے کا حملہ ہونے پر نوجوان اپنے مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے بچ جاتے ہیں لیکن بوڑھے لوگوں کا دفاعی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ کرونا وائرس کو شکست دے سکیں لہذا وہ کرونے سے لڑتے لڑتے خود زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں😢۔ کرونے وائرس کا آسان حدف بوڑھے لوگ ہیں اور سب سے زیادہ نقصان بھی ان ہی کا ہوا ہے، ان سے ملنے آنے والے کرونے وائرس کے کیریر بھی ہوسکتے ہیں جو خود تو بچ جاتے ہیں لیکن اپنی لاعلمی کی وجہ سے بیماری کا وائرس اپنے بوڑھوں کے پاس چھوڑ جاتے ہیں جو بعد میں انکی زندگی کے خاتمے کا سبب بن جاتا ہے😢۔ اولڈ ہاؤسز میں کام کرنے والی نرسز اور اسٹنٹ نرسز گزشتہ کئی ماہ سے روزانہ وقوع پذیر ہونے والے بوڑھے لوگوں کے دُکھی واقعات کی چشم دید گواہ ہیں اور یہ واقعات انکی اپنی زندگیوں پر گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں، ان میں سے چند حقیقی واقعات فرضی ناموں کیساتھ لکھ رہا ہوں، میرا مقصد بوڑھے لوگوں کے دکھ شیئر کرنا ہے انکی شناخت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے۔

بانوے سالہ جینی کی آج سالگرہ تھی، پچھلے سال اسے اچھی طرح یاد ہے اسکا بیٹا اور بیٹی اپنے بچوں کے ساتھ اولڈ ہاؤس آئے تھے، جینی نے نئے کپڑے پہنے تھے، اپنے ہاتھوں سے سالگرہ کا کیک کاٹا تھا، اپنے پیاروں سے کئی تحائف وصول کیئے تھے، یہ دن بہت مصروف گزرا تھا، بیٹی بیٹا اور انکے بچے کئی گھنٹے جینی کے ساتھ گزار کر اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اور جینی اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ کب بستر پر گری اور نیند کی وادیوں میں کھو گئی اسے یہ تو یاد نہیں رہا جو چیز اسے یاد رہی وہ اپنے پیاروں کیساتھ گزارا ہوا وقت تھا جو اسکی یادداشتوں میں گھر کر گیا۔ اسکے بعد ظالم کرونا وائرس آگیا اور جینی کی قسمت میں کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کا صرف انتظار کرنا رہ گیا😢۔ آج جینی کی سالگرہ کا دن تھا وہ صبح سے تیار ہوکر بیٹھی تھی ہر آہٹ پر وہ چونک کر بیٹھ جاتی تھی کہ اسکے پیارے آگئے ہیں لیکن اپنے کمرے میں پیاروں کی بجائے نرسز اور ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ پھر افسردہ ہوجاتی تھی، سارا دن اسی انتظار میں گزر گیا شام سے ذرا پہلے نرس کئی تحائف کیساتھ اسکے کمرے میں آئی اور اسے بتایا کہ اسکی بیٹی بیٹا اپنے بچوں کیساتھ نیچے لابی میں آئے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اس سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن کرونا کی وجہ سے اس سے مل نہیں سکتے، لہذا وہ انکے تحفے قبول کر لے، جب کرونا وائرس ختم ہوگیا تو وہ ضرور اس سے ملنے آئیں گے😢۔ جینی ایک ایک تحفے کو اپنی آنکھوں سے لگا رہی تھی چوم رہی تھی، اسکی آنکھوں میں آنسو تھے، اسے پچھلی سالگرہ کا دن یاد آرہا تھا، اسے اپنی بیتی ہوئی زندگی یاد آرہی تھی، جب وہ بہت بڑے عہدوں پر کام کرتی تھی اسکے پاس کسی سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا تھا، آج وہ لاچار اپنے کمرے میں ہے، اسکے پیارے اسے کسی کے ذریعے پیار کرنے کے پیغامات دے کر چلے گئے ہیں، کرونا ختم ہونے پر ضرور ملنے آئیں گے، خدا جانے کرونا ختم ہوگا یا جینی خود اس سے پہلے ختم ہوجائے گی، تب شاید اسکے پیارے تابوت کے شیشے سے اسے نزدیک سے دیکھ سکیں لیکن اس وقت جینی انہیں نہیں دیکھ سکے گی، ایسا سوچتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو تھے😢، انہی آنسوؤں کے ساتھ تحائف اپنے ہاتھوں میں لیئے جینی نیند کی وادیوں گم ہوگئی، اسکی امید ابھی زندہ ہے اور یہ تب تک زندہ رہے گئی جب تک یہ خود زندہ رہے گی۔

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں