60

سویڈن اور پاکستان میں گاڑیوں کی سالانہ انسپکشن کیسے ہوتی ہے؟

سویڈش ٹرانسپورٹ ایجنسی سویڈن میں چلنے والی تمام اقسام کی گاڑیوں کے سالانہ معائنے کے عمل کو سرکاری اور نجی کمپنیوں کی مدد سے کنٹرول کرتی ہے۔ نئی گاڑی خریدنے کے تین سال بعد پہلا معائینہ ہوتا ہے جبکہ مزید دوسال گاڑی چلانے پر دوسرا معائینہ کیا جاتا ہے اسکے بعد بعد ہر سال ہر گاڑی کا معائینہ کروانا ضروری ہوتا ہے اسکے بغیر گاڑی سڑک پر نہیں لائی جاسکتی۔ گاڑیوں کا معائینہ جدید مشینوں کی مدد سے کیا جاتا ہے، جس میں گاڑی کے دھویں میں موجود خطرناک گیسوں کا تناسب چیک کرنا، ٹائروں کی بیرونی سطح پر موجود تہوں کی موٹائی چیک کرنا، گاڑی اوپر اٹھا کر اسکے پہیوں کی حرکت چیک کرنا، اسکی تمام لائیٹس اور انکے زاویے چیک کرنا، موجودہ میٹر ریڈنگ رجسٹر کرنا، تمام سیٹ بیلٹس اور ایئر بیگز کو کنٹرول کرنا اور مختلف اقسام کے دوسرے ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں۔ 

سویڈش ٹرانسپورٹ ایجنسی جسے سویڈش زبان میں ٹرانسپورٹ سٹیریلسن بھی کہا جاتا ہے خود گاڑیوں کے سالانہ معائنے کی یاد دبانی کے ٹوٹسز جاری نہیں کرتی بلکہ اسکے نیچے کام کرنے والی سرکاری اور نجی کمپنیاں اپنی مشہوری کیلیئے گاڑیوں کے معائینے کی مدت ختم ہونے سے تین مہینے پہلے مالکان کو خطوط بھیجنا شروع کردیتی ہیں تاکہ مالکان مقررہ تاریخ سے پہلے اپنی سہولت کے مطابق گاڑی کا معائینہ کروا لیں۔ مقررہ تاریخ گزرنے پر گاڑی کے سڑک پر آنے پر پابندی لگ جاتی ہے، مختلف جگہوں پر لگے کیمروں اور پولیس چیک کی مدد سے ایسی گاڑیوں پر بھاری جرمانے کیئے جاتے ہیں جنکا سالانہ معائینہ مقررہ تاریخ سے پہلے نہیں کروایا جاتا اور انہیں بغیر اجازت سڑک پر لایا جاتا ہے۔

میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ میں اپنی گاڑی کا سالانہ معائینہ آخری تاریخ کے نزدیک کرواتا ہوں، حالانکہ حکومت تاریخ ختم ہونے سے تین مہینے پہلے معائنہ کروانے کی سہولت مہیا کر رہی ہوتی ہے۔ پچھلے سال گاڑی کے معائنے کی تاریخ ختم ہونے سے دو دن پہلے جب میں معائنے کا وقت بک کرنے لگا تھا تو موبائل اپلی کیشن چیک کرنے پر مجھے انکشاف ہوا تھا کہ میری گاڑی بغیر کسی انسپکشن کے مزید ایک سال کیلئے اپروو کردی گئی ہے، ایسا شاید کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی وجہ سے ہوا تھا، بہرحال اسکی وجہ جو بھی تھی میرے لئے اچھی تھی کیونکہ کسی قسم کی فیس دیئے بغیر اور میکینک سے کسی قسم کی غلطیاں دور کروانے کے خرچے برداشت کیئے بغیر مجھے ایک سال مزید گاڑی چلانے کی اجازت مل گئی تھی۔ پچھلے سال مفت سہولت ملنے کی وجہ سے اس سال بھی میرے پاکستانی ذہن میں یہ چیز موجود تھی کہ شاید اس سال بھی ایسا معجزہ رونما ہوجائے اور میں ٹنوں برف پر گاڑی چلا کر انسپکشن کروانے کے عمل سے بچ جاؤں لیکن اس دفعہ آخری تاریخ آئی اور گزر گئی لیکن ایک سال کی تاریخ کی تجدید ہونا تو درکنار مزید گاڑی چلانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ میں گاڑی صرف ایک صورت میں ہی سڑک پر لاسکتا تھا کہ میرے پاس گاڑی کے معائینے کا خط ہو اور میں اس ایڈریس پر جارہا ہوں، لہذا میں نے کسی قسم کی مزید پریشانی سے بچنے کیلئے اپنے گھر کے ساتھ والی گلی میں موجود معائینے والی کمپنی کیساتھ صبح سات بجے والا پہلا وقت بک کیا تاکہ بیس پچیس منٹ میں معائینہ کروا کر وقت پر دفتر اپنے کام پر پہنچ جاؤں، معائینے کیلئے جانے سے پہلے گاڑی پر موجود بےتحاشہ برف اور شیشوں کو صاف کرنے کا عمل کافی بورنگ تھا لیکن مجبوری کے عالم میں ایسا کرنا اب ایک عادت ہوگئی ہے کیونکہ یہاں سردیوں میں تقریباً ہر رات برف پڑتی ہی رہتی ہے اور ہر دفعہ کہیں بھی جانے سے پہلے ہر شخص کو اس صفائی کے ناگوار عمل سے گزرنا ہی پڑتا ہے، لہذا مجھے بھی پندرہ منٹ اس کام پر صرف کرنا پڑے، جب شیشوں کے آر پار نظر آنا شروع ہوگیا تو گاڑی چلا کر معائنے والی جگہ پر لے گیا، بیس پچیس منٹ کے سخت معائنے کے بعد میری خوشی اس وقت غارت ہوگئی جب گاڑی میں دو غلطیاں نکل آئیں اور چھ سو کرونا معائینہ فیس جمع کروانے کے باوجود بھی مجھے تیس دن کے اندر غلطیاں ٹھیک کروا کر دوبارہ آنے کی یاددہانی کا خط تھما دیا گیا، جسکا مطلب تھا کہ میں کارمکینک کے خرچے بھی برداشت کروں اور دوبارہ معائنے کی فیس بھی دوں۔ غلطیاں انتہائی معمولی نوعیت کی تھیں، فرنٹ لائٹس کے نیچے والی دو چھوٹی پوزیشن لائٹس کام نہیں کررہی تھیں اور گاڑی کا ہارن بند تھا، لائٹس سردی کی وجہ سے چیک نہیں کرسکا تھا جبکہ ہارن کبھی بجایا ہی نہیں تھا تو اسکا پتا کیسے چلتا کہ کام کررہا ہے کہ نہیں۔ اب اگلے تیس دنوں میں دونوں کام کروا کر دوبارہ معائنہ کروانا پڑنا ہے ورنہ گاڑی سڑک پر لانے پر دوبارہ پابندی لگ جائے گی😢۔

ناظرین یہ تمام روداد سنانے کا مقصد یہ ہے کہ فرسٹ ورلڈ کے ترقی یافتہ ممالک میں حادثات کو کنٹرول کرنے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے قوانین بہت سخت ہیں جبکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ایسے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے جسکی وجہ سے آئے روز حادثات ہونا اور لوگوں کی جانیں جانا ایک معمول کا عمل بن چکا ہے۔ 

پاکستان میں صوبائی سطح پر گاڑیوں کے معائنے کی سہولت موجود ہے لیکن یہاں سے بہت کم لوگ گاڑیاں پاس کرواتے ہیں اور جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ بھی بغیر گاڑی چیک کروائے پیسے دیکر پاس کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس بھج بغیر ٹیسٹ دیئے پیسے دیکر حاصل کرلیا جاتاہے۔ 

پاکستان میں نوے فیصد گاڑیوں میں پراپر سیٹ بیلٹ  اور ایئر بیگز نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں۔

پاکستان میں ہر ٹریفک حادثے میں اموات ہونے کے بعد صرف یہی کہا جاتا ہے اسکی موت ہی ایسے لکھی تھی فرشتے نے اسکی روح سڑک پر ہی قبض کرنا تھی، لہذا اللہ کا حکم کہہ کر سارا ملبہ اللہ پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں اللہ نے انسان کو عقل دی ہوئی ہے اور اپنی عقل کا استعمال کر کے انسان حادثات اور بیماریوں سے بچ بھی جاتا ہے، مغربی ممالک میں عقل کے استعمال کی ہی وجہ سے حادثات بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں پاکستان میں چاہے گاڑی کے ٹائروں کو دس دس پنکچر بھی لگے ہوں اور وہ سو ڈیرھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ سپیڈ سے چلائی بھی جارہی ہو تب بھی حادثے میں موت ہونے پر سارا ملبہ اللہ پر ڈال دیا جاتا ہے گویا اللہ تھرڈ ورلڈ ممالک میں ہی لوگوں کو ٹریفک حادثات میں مارتا ہے فرسٹ ورلڈ میں لوگوں کو مرنے سے بچا لیتا ہے😢۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے حکمرانوں اور لا اینڈ انفورسمنٹ کے اداروں کو ہدایت دے کہ وہ اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں اور جس طرح کے حفاظتی قوانین فرسٹ ورلڈ کے ممالک میں موجود ہیں ایسے قوانین پاکستان میں نہ صرف بنوائیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں آمین 

#طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں