216

عمران خان کا دورہ سری لنکا اور انڈیا سری لنکا تعلقات میں کشیدگی

پاکستان کے وزیر اعظم عمران کا سری لنکا کا دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب سری لنکا اور انڈیا کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو چکی ہے۔ اس تلخی کی وجہ سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پکشے کی طرف سے انڈیا کے ایڈہانی گروپ کے سری لنکا کی بندرگاہ میں ٹرمینل تعمیر کرنے کا منصوبہ منسوخ کرنا ہے۔ اس ٹرمینل کی تعمیر کے لیے انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی نے خاص طور پر ایڈہانی گروپ کو چُنا تھا۔ سری لنکا کی پورٹ پر ایسٹ کنٹینر ٹرمینل اس ٹرمینل کے بلکل ساتھ تعمیر کیا جانا تھا جو چین نے تعمیر کیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے دورے کے دوران سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا، لیکن سری لنکا اور انڈیا کے تعلقات میں اس وقت مزید تلخیاں پیدا ہو گئیں جب سری لنکا نے انڈیا کی سرحد کے قریب اپنے شمالی جزیروں میں چین کو توانائی دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ شروع کرنے کی اجازت دی جو انڈیا کے لیے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔

ابتدا میں سری لنکا کے حکام نے کہا تھا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی طرح پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی اپنے دورے کے دوران سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے لیکن بعد میں حکام نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے پروگرام میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب وہ پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کریں گے۔اس بات کی نہ تو سری لنکا اور نہ ہی پاکستان کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے خطاب کے پروگرام میں تبدیلی کی کوئی وجہ بیان کی ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ انڈیا ہے جو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے وزیر اعظم نے سری لنکن پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بات کی تو اس سے سری لنکا اور انڈیا کے تعلقات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے. سیاسی تجزیہ کار کسال پریرا نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ’چین کے ایجنٹ‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم کے سری لنکا کے دورے کو چین کے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کسال پریرا کے مطابق سری لنکا پاکستان کے ذریعے چین کو سری لنکا میں مزید سرمایہ کاری کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سری لنکا کی وزرت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اپنے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے علاوہ ’بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم‘ سے بھی ملاقات کریں گے۔پاکستان اور سری لنکا کے وزرائے اعظم کی موجودگی میں دو طرفہ تعاون کی کئی یاداشتوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کے 2021 کے پہلے بیرون ملک دورے میں تجارتی وفد بھی شامل ہو گا جس میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس، فارماسیوٹیکل، ایگرو فوڈ، کھیلوں کی اشیا، جیولری اور آٹو پارٹس کی صنعت کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں