121

پاکستانی اور برطانوی نظام انصاف کا تقابلی جائزہ

برطانیہ میں وکالت ایک شاندار اور پروقار پیشہ یعنی پروفیشن ہے درجہ بندی کے اعتبار سے یہ اس ملک کے دس بہترین پروفیشنز میں سے ایک ہے۔ ساڑھے چھ کروڑ سے کچھ زیادہ آبادی پر مشتمل یونائیٹڈ کنگڈم میں تقریباً ایک لاکھ 95ہزار سولیسٹرز(وکیل) اور سترہ ہزار بیرسٹرز قانون کی پاسداری کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان سولیسٹرز میں 94ہزار مرد اور ایک لاکھ سے زیادہ خواتین ہیں جبکہ ساڑھے ستائیس ہزار سولیسٹرز غیر سفید فام یا نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ برطانیہ کا عدالتی نظام سپریم کورٹ، (کورٹ آف اپیل) ہائی کورٹ، کائونٹی کورٹ، کرائون کورٹ اور مجسٹریٹ کورٹ کے علاوہ مختلف طرح کے ٹرائی بیونلز پر مشتمل ہے۔ ان عدالتوں میں چھ سو ججز متعین ہیں جن میں 30فیصد خواتین جج ہیں ان ججز کا انتخاب لارڈ چانسلر کرتا ہے جج کے عہدے پر فائز ہونے کے خواہشمند سولیسٹرز اور بیرسٹرز سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور جن امیدواروں کو اس منصب کے لئے شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے ان کے پیشہ وارانہ تجربے اور مہارت کے علاوہ ان کے کردار اور مجرمانہ ریکارڈ کی بھی چھان پھٹک اور جانچ پڑتال کی جاتی ہے معمولی بدعنوانی یا کسی قسم کی بے ضابطگی کا سراغ ملنے پر امیدوار کو فہرست سے نکال دیا جاتا ہے اسی لئے اچھے کردار کے حامل اور عدل کے تقاضوں کے معیار پر پورا اترنے والے قانون دان ہی منصف یعنی جج کے عہدے پر فائز کئے جاتے ہیں۔

برطانیہ میں عدالتی نظام کی علامت ایک مجسمہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ اس ملک میں واقعی منصفوں یعنی ججوں کی آنکھوں پر ایک طرح سے پٹی بندھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ امیر غریب، گورے کالے، بااختیار اور بے اختیار، مرد عورت، اپنے پرائے یا دوست دشمن میں تمیز نہیں کرتے بلکہ انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کسی بھی طرح کے فرق اور جانبداری سے ماورا ہو کر کرتے ہیں۔ برطانوی قانون اپنے ہر شہری کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور عدالتیں ان حقوق کی محافظ ہیں اس ملک میں قانون اور انصاف کی بالادستی کی وجہ سے معاشرتی خوشحالی کی بنیادیں مستحکم ہیں اور یہاں نچلی سطح کی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ سطح کی عدالتوں تک فوری اور آسان انصاف کی فراہمی کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔ برطانیہ میں کسی بھی مظلوم کے لئے آخری سہارا عدالتیں ہیں جہاں انصاف کے تقاضوں کی سو فیصد تکمیل کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اسی لئے نہ تو یہاں ملازمتوں کے حصول میں کسی کی حق تلفی ہوتی ہے اور نہ کسی قسم کی اقربا پروری کی کوئی گنجائش ہے، قانون توڑنے والے کسی وزیر سفیر سے لے کر ایک بے روزگار فرد کو بھی ایک ہی کٹہرے میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے نہ تو یہاں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں اور نہ ہی یہاں کسی قسم کی آمریت کے مسلط ہونے یا مارشل لاء لگنے کا امکان ہے۔ اس ملک میں نہ تو جج کسی معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہیں اور نہ کسی قسم کا کوئی سیاسی بیان یا ریمارکس جاری کرتے ہیں کسی بھی سولیسٹر یا بیرسٹر کو عدالت میں پیش ہوتے وقت تک معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا مقدمہ کون سا جج سنے گا۔ نہ صرف اس ملک کا عدالتی نظام قانون و انصاف کی پاسداری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے بلکہ برطانیہ میں قانون کی تعلیم بھی اپنے معیار کے اعتبار سے بے مثال ہے۔

قانون کی بہترین تعلیم کے معاملے میں دنیا کی دس بڑی یونیورسٹیز میں تین برطانیہ میں ہیں جہاں قانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دنیا بھر سے ذہین طلباء یونائیٹڈ کنگڈم آتے ہیں اور عدل و انصاف کی بالادستی کی اہمیت اور افادیت کی تعلیم وتربیت حاصل کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ بانئی پاکستان محمد علی جناح بھی برطانیہ سے بار ایٹ لاء کر کے واپس ہندوستان گئے تھے اور انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے ایک علیحدہ وطن کے لئے قانونی جنگ لڑی اور پاکستان کے حصول کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا… میں جب برطانوی عدل و انصاف کے نظام اور قانون کی بالادستی کے ضابطوں کا موازنہ پاکستان میں رائج قانون اور انصاف کے نظام سے کرتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیز میں عدالتیں اور قانون تو موجود ہیں لیکن ہمارا معاشرہ انصاف اور عدل سے محروم ہے۔ پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سول کورٹ سے سپریم کورٹ تک 4ہزار جج اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں جن کو برطانوی ججوں کے مقابلے میں بہت زیادہ اختیارات اور مراعات حاصل ہیں۔ برطانیہ کی ساڑھے چھ کروڑ آبادی کو 6سو جج میسر ہیں جبکہ اسی تناسب سے پاکستان کی ہر ساڑھے چھ کروڑ آبادی کو ایک ہزار ایک سو جج دستیاب ہیں مگر اس کے باوجود پاکستان کی چھوٹی بڑی عدالتوں میں دو ملین یعنی بیس لاکھ سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہیں اور ان میں سے ہزاروں مقدمات ایسے ہیں جن کی پیروی کرتے کرتے ایک نسل رزق خاک بن چکی ہے اور اب ان کی دوسری یا تیسری نسل ان مقدمات کو بھگت رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے اور جیسے عوام ویسے حکمران اور اسی طرح یہ کہاوت بھی مغرب میں رائج ہے کہ جیسے وکیل ویسے جج۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک لاکھ 61ہزار ایڈووکیٹ ملک کی پانچ بار کونسلز کے رکن یعنی رجسٹرڈ وکیل ہیں جن میں سے تقریباً ایک لاکھ وکیل پنجاب بار کونسل کے رجسٹرڈ ممبر ہیں۔ پاکستان میں قانون کی تعلیم کے حصول یعنی ایل ایل بی کرنے کا جو معیار ہے اور جس طرح کے پرائیویٹ اور غیر معیاری اداروں سے قانون کی ڈگری کا آسان حصول ممکن ہو گیا ہے اور جو بھی نالائق طالب علم گریجوایشن کے بعد اور کچھ نہیں کر سکتا تو وہ ایل ایل بی کرلیتا ہے۔ اس کے بعد مروجہ نظام انصاف سے عدل کی توقع لگانا خود کو فریب دینے کے مترادف ہے۔ ہمارے ملک کے وکیل حضرات کی اکثریت جس طرح سیاسی جماعتوں کی حامی اور آلہ کار بن کر کام کرتی ہے اور اپنی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد جج کے منصب پر فائز ہو جاتی ہے تو پھر ہمیں کسی اور سے شکایت کرنے کی بجائے اپنے نظام کے گریبان میں جھانگ کر دیکھنا چاہیئے۔ برطانیہ میں سولیسٹرزکی ریگولیٹریاتھارٹی ایس آر اے (SRA) اور لا سوسائٹی کے نام سے بیرسٹرز کی ایک ریگولیٹری اتھارٹی بار کونسل کے نام سے موجود ہے اگر کسی کو یہاں کسی وکیل کے بارے میں شکایت کرنی ہو تو وہ اس اتھارٹی سے رجوع کر سکتا ہے اور وکیل کو اس شکایت پرایس آر سے یا لاء سوسائٹی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور الزام درست ثابت ہونے پر سولیسٹر کا لائسنس معطل یا منسوخ ہو سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ہمارے وکیل کسی کو جوابدہ نہیں ہیں چاہے وہ ججوں کو دھمکیاں دیں یا پولیس پر تشدد اور پتھرائو کریں یا بار کونسل کے انتخاب جیتنے پر سر عام فائرنگ کے مرتکب ہوں کوئی ان کو پوچھنے یا بازپرس کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا اور یہی وکیل جب سفارش اور اقربا پروری کی وجہ سے جج کے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں تو پھر مجبور سائل عدالتوں میں دھکے کھانے کے بعد وکیل کرنے کی بجائے جج کر لیتے ہیں اسی باعث دنیا کی 128عدالتوں کی درجہ بندی میں پاکستان کے مسلمان ججوں کا 21واں نمبر ہے جبکہ بیلجئم کے غیر مسلم جج انصاف کی فوری اور آسان فراہمی کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہیں۔

حیرت کی بات ہے بلکہ اب تو یہ حیرت کی بات بھی نہیں رہی کہ جو کام مسلمانوں کے کرنے کے تھے وہ غیر مسلم کر رہے ہیں۔ عصرِ حاضر میں اگر ہم پاکستانی معاشرے کے زوال اور کسی بھی طرح بحران کا تجزیہ کریں تو یہ اٹل حقیقت بہت واضع طور پر ہمارے سامنے آئے گی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہر سطح پر سماجی اور عدالتی انصاف سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے اور جو معاشرے عدل و انصاف سے محروم ہو جائیں ان کے خلاف کسی دشمن کو کوئی سازش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہم کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن عدل و انصاف کا جو درس اللہ اور اس کے رسولؐ نبی آخر الزماں نے دیا ہے ہم نے اسے یکسر فراموش کر دیا ہے۔ ہمارے گھر، ہمارے محلے، ہمارے شہر، صوبے اور ہمارا ملک عدل و انصاف کی بجائے ظلم اور ناانصافی کی تصویر بنتے جا رہے ہیں۔ کتاب ہدایت قرآن مجید میں جتنی بھی قوموں کی تباہی کا ذکر آیا ہے ان میں سے کوئی بھی قوم عبادات یعنی نماز، روزہ، حج یا زکوٰۃ کو ترک کرنے کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئی بلکہ صرف وہ قومیں تباہ ہوئی ہیں جو انصاف کے تقاضوں کی تکمیل میں ناکام ہو گئی تھیں۔ غیر مسلموں نے اپنے معاشروں میں انصاف کی بالادستی کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے جبکہ مسلمان ملکوں میں معاشرتی ناانصافی کا اندھیرا پھیلتا چلا جا رہا ہے اللہ رب العزت ہم سب کے حال پر رحم فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں