40

تئیس مارچ۔۔یوم پیغام

یوں تواس ملک اورقوم کاہرفردجوبقول اقبال ۔۔ ملت کے مقدرکاستارہ ہے۔ہمارے لئے بھی کسی ستارے سے کم نہیںلیکن بڑوں کے دل سے احترام اورچھوٹوں پردل سے شفقت کے باوجوداپنے والدین اوراساتذہ کے علاوہ ہم نے صرف ایک شخص یاشخصیت کے ہاتھ چومے ہیں اوروہ ہاتھ بھی ہم نے اپنی ذات یاکسی مفادکیلئے نہیں بلکہ صرف اورصرف ،،پاکستان،،سے محبت میں چومے ہے۔اس ملک کی تعمیروترقی کیلئے جس نے بھی کوئی معمولی ساکرداراداکیا۔واللہ۔ہم کل بھی انہیں اپنے سرکاتاج اورمحسن سمجھتے تھے اورہم آج بھی اس ملک کیلئے قربانیاں دینے والوں کوجان سے زیادہ عزیزسمجھتے ہیں۔ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے بارے میں لوگ کیاکہتے ہیں۔ہمیں اس سے کوئی غرض اورسروکارنہیں۔ڈاکٹرعبدالقدیرخان پاکستان کوایک ایٹمی قوت بنانے کی وجہ سے کل بھی ہمارے محسن تھے۔ہم آج بھی ڈاکٹرعبدالقدیرخان کواپناایک محسن سمجھتے ہیں اورانشاء اللہ کل بھی اسے ایک محسن سمجھتے رہیں گے۔کئی سال پہلے اسلام آبادکے ایک فائیوسٹارہوٹل میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان سے ہماری ملاقات ہوئی۔ڈاکٹرصاحب کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے ہم فرط جذبات میں ڈاکٹرصاحب کے وہ مبارک ہاتھ جن کی وجہ سے پاکستان ایک ایٹمی قوت اورناقابل تسخیرملک بناچومے بغیرنہیں رہ سکے۔پاکستان کی حفاظت کیلئے سامان فراہم کرنے والوں کیلئے پیار،محبت اوریہ جذبات ہیں ہمارے ۔اب آپ خودسوچیں۔جنہوں نے اس ملک کوبنایا۔جو 23مارچ کے قراردادپاکستان میں پیش پیش رہے۔ان عظیم لوگوں اورقوم کے محسنوں کے لئے ہمارے کیاجذبات اوراحساسات ہوں گے۔؟

یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک 23مارچ کوکبھی بھول نہیں سکے۔دراصل 23مارچ کادن تاریخ میں بڑی اہمیت کاحامل ہے۔اس دن وہ عظیم قراردادپاس ہوئی جس کی بنیاداورروشنی میں پھرایک ایسی لازوال تحریک شروع ہوئی جس تحریک کے نتیجے میں ہم نہ صرف آزادشہری ٹھہرے بلکہ ہمیں ،،پاکستان،،کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے تحفے اورنعمت سے بھی نوازاکہ جس پرہم پروردگارعالم کاجتنابھی شکراداکریں وہ کم،بہت ہی کم ہے۔آزادی کی قدروقیمت کوئی غلامی کے پنجرے میں بندانسانوں سے پوچھیں۔دوسروں کی غلامی اگراتنی آسان ہوتی توہمارے آبائواجدادحضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں قربانیوں کی وہ لازوال تاریخ رقم نہ کرتے جس کی مثال پیش کرنے سے آج بھی دنیاقاصرہے۔ 23مارچ تاریخ کاوہ دن ہے جس دن مسلمانوں نے غلامی کے طوق کوگلے سے اتارپھینکنے کاتہیہ کیا۔23مارچ وہ دن ہے جس دن مسلمانوں نے ایک الگ اورآزادمملکت وریاست بنانے کے لئے اپنی کشتیاں جلانے کی ٹھانی۔ حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میںمتحدومتفق ہوکرمسلمان23مارچ کو اگرگورے انگریزوں اورکالے ہندوئوں کے خلاف اس شان سے سروجان سے نہ گزرتے تو23مارچ کی قراردادلاہورنہ قراردادپاکستان بنتی اورنہ ہی اس قراردادکے ذریعے اس طرح ایک لازوال اوربے مثال تحریک کاکبھی آغازہوتا۔23مارچ درحقیقت بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناح اورشاعرمشرق علامہ محمداقبال کی اس عظیم خواب کادن ہے جس کی تعبیربعدمیں ہمیں ،،پاکستان،،کی صورت میں ملی۔23مارچ 1940کوقائداعظم محمدعلی جناح کی زیرصدارت منظورکی گئی قراردادپاکستان نے تحریک پاکستان میں نئی روح پھونک دی تھی۔آج مودی سرکارکے سائے تلے ہندوستان کے اندرجس طرح مسلمانوں پرزمین تنگ کرکے انہیں نشانہ بنایاجارہاہے اسی طرح 1937کے انتخابات کے بعدبھی مودی کے بھائیوں ہندوبنیوں نے برصغیرکے مسلمانوں کے گردمعاشی،سیاسی،سماجی ومعاشرتی گھیراتنگ کرکے انہیں نشانہ بناناشروع کردیاتھا۔ذات پات،اونچ نیچ اورفرقوں میں بٹے ہوئے ہندوبنیوں نے نہ صرف مسلمانوں پرزندگی تنگ کردی تھی بلکہ دیگراقلیتوں جن میں عیسائی وغیرہ بھی شامل تھے ان کاجینادوبھرکردیاتھا۔ایسے حالات میں مسلمانوں کواپنی مذہبی ،سماجی،معاشرتی ،سیاسی،ثقافتی اورمعاشی روایات اورسرگرمیوں کوپروان چڑھانے میں شدیدمشکلات کاسامناتھا۔طاقت کے نشے میں مدہوش مودی سرکاراورکالے ہندوئوں کے ہاتھوں آج جس طرح بھارت کے اندرمسلمان اوردیگراقلیتیں سکھ کاسانس نہیں لے سکتیں ۔

آج جس طرح انڈیاکے اندردیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کوجینے کاحق نہیں دیاجارہا۔اسی طرح اس وقت بھی ہندوئوں کے علاوہ کسی کویہ حق نہیں دیاجارہاتھاکہ وہ سکھ کاسانس لیکرآزادی سے جی سکے۔ایسے میں مسلمانوں کی مذہبی،سیاسی،سماجی،معاشرتی،ثقافتی اورمعاشی آزادی کے لئے ،،پاکستان ،،جیسی ایک جنت کاقیام قرض توتھاہی لیکن کالے ہندوئوں کے بڑھتے کالے کرتوتوں کی وجہ سے ایک آزاداورخودمختار،،پاکستان،،کاقیام پھرمسلمانوں پرفرض بھی ہوچکاتھا۔یہی وہ فرض تھاجس کی تکمیل کے لئے حضرت قائداعظم محمدعلی جناح،شاعرمشرق علامہ محمداقبال اورمولاناظفرعلی خان سمیت ہزاروں ولاکھوں مسلمان سروں پرکفن باندھ کرنکل پڑے۔پھردنیانے دیکھاکہ اس قرارداداورتحریک کی برکت سے قائداعظم کی قیادت میںمسلمان کس مقام اورشان تک نہیں پہنچے۔23مارچ کویوم پاکستان کے طورپرہم ہرسال مناتے ہیں۔اس دن تقریباًملک کے تمام بڑے شہروں میں قراردادپاکستان کے حوالے سے مختلف قسم کی تقریبات،اجلاس،کانفرنسزاورپروگرامزبھی منعقدہوتے ہیں جس میں یوم پاکستان پرنہ صرف روشنی ڈالی جاتی ہے بلکہ بانیاں پاکستان کوخراج عقیدت بھی پیش کیاجاتاہے۔23مارچ کادن بلاکسی شک وشبہ کے ہمارے لئے اہم بہت ہی اہم ہے کیونکہ اس دن ہی وہ بنیادرکھی گئی تھی جس پربعدمیں پاکستان کی تعمیرہوئی۔اس دن کویوم پاکستان کے طورپرمنانااچھی بہت ہی اچھی بات لیکن اس دن کاجواصل پیغام ہے ہمیں وہ بھی ساتھ سمجھناچاہئیے۔23مارچ یوم پاکستان میں ہمارے لئے کوئی ایک سبق نہیں بلکہ کئی اسباق موجودہیں۔23مارچ کویوم پاکستان کے طورپرتوہم ہرسال کی طرح اس سال بھی دھوم دھام سے منالیں گے لیکن مسئلہ صرف اس دن سے کچھ سیکھنے اورسمجھنے کاہے جونہ اس سے پہلے کبھی ہم نے سیکھااورسمجھااورنہ اب کچھ سیکھااورسمجھاجائے گا۔آج ذاتی وسیاسی مفادات کے لئے جس طرح ہم پارٹیوں،گروہوں،گروپوں،فرقوں اورجماعتوں میں بھٹکے ہوئے ہیں ۔ایک منٹ صرف ایک منٹ کیلئے سوچیں کہ اگر23مارچ کوحضرت قائداعظم محمدعلی جناح،علامہ محمداقبال ودیگرقائدین،بانیان اورمسلمان اس طرح پارٹیوں،گروہوں،گروپوں،فرقوں اورجماعتوں میں بھٹکے ہوتے توکیا۔؟

ہم قیام پاکستان کے خواب کوکبھی شرمندہ تعبیرکرپاتے۔23مارچ کوقراردادپاکستان کے موقع پرہمارے بزرگوں نے اتحاد،اتفاق اوریکجہتی کامظاہرہ کرکے آج سے 81سال پہلے ہمیں یہ پیغام دیاتھاکہ آپ کی کامیابی،فلاح اورخوشحالی اسی میں ہے کہ آپ سب آپس میں متحدومتفق ہوں۔قوم اورقومیت سے بچھڑنے والے کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔آج اس ملک میں ہرشخص نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجدبناکرقوم کوبھلادیاہے جس کی وجہ سے آج ہم ہرجگہ مارکھارہے ہیں۔ سیاسی وذاتی مفادات کیلئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا،گروہوں اورفرقوں میں بھٹکنا،قومی مفادات کوپائوں تلے روندنایہ 23مارچ اوریوم پاکستان کامطلب نہیں۔23مارچ یوم پاکستان کاتوپیغام ہی باہمی اتحاد،اتفاق ،بھائی چارہ اوریکجہتی سے اس ملک کی ترقی ،فلاح ،بقاء اورسلامتی کے لئے آگے بڑھناہے۔سیاست سیاست بہت ہوگئی۔منافقت کاکھیل بھی ہم نے بہت کھیلا۔اب وقت آگیاہے کہ قائداعظم اورعلامہ اقبال کے اس پاکستان کی حفاظت کیلئے ہم سب ایک اورنیک ہوجائیں تاکہ یہ ملک دنیاکے افق پریونہی دمکتااورچمکتارہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں