49

برطانیہ پلٹ پاکستانی ڈاکٹر کی آب بیتی

ـسال 1984ء میں ایم بی بی ایس کرنے کے بعد جب میں نے پاکستان چھوڑا تھا تو میرے خوابوں کی دنیا بہت خوبصورت تھی۔برطانیہ سے مزید اعلیٰ تعلیم کا حصول اور وطن واپس آ کر اپنے لوگوں کی خدمت کا جذبہ میری ہر خواہش پر غالب تھا لیکن اجنبی ملک میں آ کر حالات کو اپنے لئے سازگار بنانا، تعلیمی مدارج طے کرنا اور اپنی مٹی سے جدائی کے دکھ کو سہنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میری لگن سچی تھی اور مسلسل محنت کی عادت نے میرے لئے کامیابی کے ہر رستے کو ہموار کر دیا۔ ایف آر سی ایس کرنے کے بعد چند ہی برس میں مجھے لندن کے ایک بڑے ہسپتال میں امراض قلب کے شعبے کا رجسٹرار بنا دیا گیا۔ برطانیہ کی مصروف زندگی نے مجھے ایسے اپنی گرفت میں لئے رکھا کہ 30برس گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا، اس دوران میرے والدین اور بیوی بھی لندن میں آ گئے لیکن جو خوبصورت، پرامن اور پرخلوص پاکستان میں چھوڑ کر آیا تھااس کی یاد مجھے مسلسل ستاتی اور اپنے قریبی دوست احباب سے بچھڑنے کے غم کا بھی احساس دلاتی رہی۔

میرے والدین بھی اب ضعیف ہو چکے تھے وہ بھی اپنے بہن بھائیوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے تھے۔ مالی آسودگی کی وجہ سے مجھے ہر طرح کی آسائش میسر تھی قدم قدم پر سہولتیں اور آسانیاں تھیں زندگی مزے سے گزر رہی تھی ۔میں ہر دوسرے تیسرے سال والدین کے ساتھ پاکستان جاتا لیکن صرف ایک یا دو ہفتے کے لئے اور زیادہ وقت رشتے داروں کی دعوتیں کھانے اور ان سے گپ شپ میں گزر جاتا۔ میرے کچھ ڈاکٹر دوست مجھے وطن واپسی اور پاکستان میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ اُن کا خیال تھا کہ مجھ جیسے ہارٹ سرجن کی پاکستان میں زیادہ ضرورت ہے۔

میری عمر اب ساٹھ سال ہونے والی تھی چنانچہ میں نے ایک دن والدین اور بیوی سے مشورے کے بعد مستقل پاکستان واپسی کا فیصلہ کر لیا۔میرا ایک قریبی ڈاکٹر دوست مجھے اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں ایک شاندار ملازمت کی پہلے ہی پیشکش کر چکا تھا۔ برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس یعنی این ایچ ایس میں کنسلٹنٹ کی ملازمت کو چھوڑنا آسان نہیں تھا مگر میں نے وطن کی مٹی کا قرض چکانے کی خواہش میں یہ مشکل فیصلہ کر لیا۔ پاکستان پہنچنے سے پہلے میں نے اپنا آبائی گھر کرائے داروں سے خالی کرنے کو کہا تو انہوں نے عدالت سے رجوع کر لیا اور جعلی دستاویزات کے ذریعے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں انہیں یہ گھر کئی سال پہلے فروخت کر چکا ہوں۔ عدالت نے میرے کرائے دار کو حکم امتناعی جاری کر دیا اور مجھے مجبوراً لاہور میں ایک اور گھر خریدنا پڑا۔ میں نے اپنے جس ڈاکٹر دوست کے ہسپتال میں ملازمت شروع کی وہ ہر طرح کی جدید سہولتوں سے مزین تھا۔ علاج معالجے کا معیار بھی بہت اعلیٰ تھا مگر یہ ہسپتال اس قدر مہنگا تھا کہ یہاں صرف کروڑ پتی لوگ ہی علاج اور آپریشن کرانے کے متحمل ہو سکتے تھے۔ اس ہسپتال بلکہ ہاسپیٹل کمپلیکس کا مالک میرا ڈاکٹر دوست اسی طرح کا ایک ہسپتال اسلام آباد میں بھی بنانا چاہتا تھا۔ پہلے تو اس نے باتوں باتوں میں یہ ٹٹولنے کی کوشش کی کہ میں برطانیہ سے کتنا مال بنا کر آیا ہوں اور پھر مجھے اسلام آباد میں ہسپتال کے پروجیکٹ میں پارٹنر بننے کی پیشکش کی لیکن جب اسے یہ اندازہ ہوا کہ میں پاکستان میں کوئی کاروبار کرنے یا مال و دولت کمانے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے لئے آیا ہوں تو اسے بڑی حیرانی ہوئی۔

چند ماہ کی ملازمت کے دوران مجھے احساس ہوا کہ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جو میں 30برس پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔ جائیز و ناجائیز طریقے سے مال ودولت اور اختیارات کا حصول لوگوں کی پہلی ترجیح بن چکی ہے ۔ کچھ پرانے ڈاکٹر دوستوں کو ملنے کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ڈاکٹر بڑے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں اپنے اپنے شعبوں کے انچارج تھے اور ہر جگہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور نام کا سکہ چلتا تھا مگر یہ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں محض چکر لگانے یا صرف حاضری لگوانے آتے تھے۔ان کا اصل بزنس تو پرائیویٹ پریکٹس تھا۔ یہ ڈاکٹرز اتنے مصروف تھے کہ ان کو سر کھجانے کی بھی فرصت میسر نہیں تھی۔ میرے ایک چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر دوست جو کہ ایک سرکاری ہسپتال میں بھی اعلیٰ عہدے پر تھے بلکہ اعلیٰ افسر تھے وہ روزانہ اوسطاً 50مریض بچوں کو اپنی پرائیویٹ پریکٹس میں دیکھتے تھے اور اُن کی معائنہ فیس ڈیڑھ ہزار روپے تھی۔ سرکاری تنخواہ اور مراعات کے علاوہ پرائیویٹ پریکٹس سے ان کی ماہانہ آمدنی کا اندازہ لگاتے ہوئے میرا سر چکرا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر اپنی سرکاری تنخواہ سے جو ٹیکس کٹتا ہے صرف وہ دیتے ہیں پرائیویٹ پریکٹس کی خطیر آمدنی سے ایک دھیلے کا ٹیکس انہوں نے آج تک نہیں دیا۔میں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا کہ آپ کو جتنی سرکاری تنخواہ ایک ماہ بعد ملتی ہے اس سے زیادہ پیسے تو آپ تین چار دن کی پرائیویٹ پریکٹس میں کما لیتے ہیں تو پھر آپ کو اس سرکاری نوکری کے چکر میں پڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ سرکاری ہسپتالوں میں نوکری تو محض ہماری پبلسٹی اور مارکیٹنگ کا ذریعہ ہے۔پاکستان کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی میں جس تیزی سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور نجی ہسپتالوں کا اضافہ ہوا ہے اس نے نہ صرف میڈیکل کے تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کر دیا ہے بلکہ علاج معالجے پر سے بھی عوام کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آبادی میں بے پناہ اضافے کا سدباب نہ تو حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور نہ ہی عوام کو اس تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے خطرناک نتائج کا ادراک ہے۔ میرے وہ تمام ڈاکٹر دوست جو زمانہ طالبعلمی میں یعنی میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے اب اُن میں سے بیشتر سرکاری نوکری کے ساتھ اپنے سرکاری گھروں میں پرائیویٹ پریکٹس کر کے کروڑ پتی اور بہت سے ارب پتی بن چکے تھے اور کچھ نے نجی پرائیویٹ ہسپتال اور لیبارٹریز بنا لی تھیں اور کروڑوں کا کاروبار کر رہے تھے۔ ان ڈاکٹرز کے دوا ساز کمپنیوں سے خوشگوار کاروباری مراسم تھے۔ یہ دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹرز کو ہر طرح کی مراعات فراہم کرتی تھیں اور یہ ڈاکٹرز غیر ضروری طور پر ان کمپنیز کی دوائیں بے چارے مریضوں کے نسخوں یعنی پریسکرپشن میں شامل کر دیتے تھے۔

ایک روز پنجاب کے سیکرٹری ہیلتھ اپنا معائنہ کرانے کے لئے میرے پاس آئے ،اُنہیں دل کا عارضہ لاحق تھا وہ اپنی ہارٹ سرجری سے پہلے مجھ سے مشورہ کرنا چاہتے تھے۔ معائنے کے بعد باتوں باتوں میں میں نے ان سے کہا کہ صاف پانی اور ملاوٹ سے پاک کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کے بغیر پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں صحت کے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا اس سلسلے میں آپ جیسے لوگوں کو کوئی مربوط اور قابل عمل پالیسی بنانی چاہئے وگرنہ پاکستان میں مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھتی چلی جائے گی۔ میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے بیزاری سے کہا کہ یہ سیاستدانوں اور حکومتوں کے کرنے کے کام ہیںہمارے بس میں کچھ نہیں ہے آپ نئے نئے لندن سے آئے ہیں اس لئے آپ کو ہماری مجبوریوں کا اندازہ نہیں ہے۔ اس ملک میں ایک وفاقی سیکرٹری صحت سرکاری رہائش گاہوں میں ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس بند نہیں کروا سکتا، اُن کی آمدنی ٹیکس کے گوشواروں میں نہیں لا سکتا، مریضوں کی میڈیکل ہسٹری کے ریکارڈ کو کمپیوٹر سسٹم سے منسلک نہیں کر سکتا کیونکہ ان سارے معاملات کا تعلق کہیں نہ کہیں ہمارے سیاستدانوں سے جا نکلتا ہے۔ صوبائی سیکرٹری صحت کی یہ بات سن کر میری حیرانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اپنے ڈاکٹر دوست کے ہسپتال میں دو سال کی ملازمت نے مجھے بہت کچھ سکھا دیا اور مجھے احساس ہونے لگا کہ میں اب اس نظام میں مس فٹ (MISSFIT) ہوں۔ عدم تحفظ کے احساس، حد سے زیادہ مہنگائی اور لوگوں کی بے حسی کی انتہا نے میری حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو ماند کر دیا مجھے محسوس ہوا کہ برطانیہ میں 30برس کی زندگی نے مجھے بہت بدل دیا ہے۔میں نے اپنے والدین اور بیوی سے برطانیہ واپسی کے بارے میں مشورہ کیا تو وہ پہلے ہی عاجز تھے۔ میرے بوڑھے والد اپنے آبائی گھر کا کرائے داروں سے قبضہ چھڑانے کے لئے کچہری اور عدالت کے چکروں سے بیزار ہو چکے تھے ۔خدا کا شکر ہے کہ برطانیہ سے پاکستان آتے وقت میں نے اپنی تمام کشتیاں نہیں جلائیں تھیں دو سال پاکستان میں قیام کے تجربے نے مجھے جو کچھ سکھا یا وہ اس نقصان سے زیادہ تھا جو مجھے برطانیہ چھوڑنے سے ہوا تھا‘‘۔یہ اُس ایک ڈاکٹر کا قصہ ہے جو ان دیگر ہزاروں پاکستانی ڈاکٹروں کی طرح ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑ کر واپس پاکستان آ کر ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ پاکستان اور اس میں بسنے والوں کی ترجیحات یکسر بدل چکی ہیں اور خاص طور پر صحت کانظام اور انتظام پہلے سے بھی زیادہ ابتر ہو چکا ہے۔ اب تو معمولی نزلے زکام کے علاج کے لئے بھی ڈاکٹرز اور کمپوڈرز اینٹی بائیوٹک اور سٹیرائیڈز کا نسخہ لکھ دیتے ہیں اور جہاں عوام الناس کی صحت حکومت اور ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہ ہو وہاں رفتہ رفتہ جسم کے ساتھ ساتھ ذہن بھی بیمار ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہم برطانیہ جیسے چھوٹے سے ملک کے ہیلتھ سسٹم کا پاکستان جیسے ملک سے موازنہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ باشعور قومیں کس طرح اپنی ترجیحات میں صحت اور تعلیم کو اولیت دیتی ہیں(یہاں باشعور قوم سے مراد اُن کے باشعور حکمران ہیں)۔برطانیہ میں ہر طرح کا علاج معالجہ، آپریشن اور دوائیں اپنے شہریوں کے لئے مفت ہیں صرف معمولی دوائوں کے لئے برسرروزگار لوگوں کو نسخے کی معمولی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔برطانوی وزیر اعظم بھی علاج معالجے کے لئے اسی سرکاری ہسپتال سے رجوع کرتے ہیں جہاں عام لوگ اپنے کسی علاج یا آپریشن کے لئے جاتے ہیں۔یہاں کی نیشنل ہیلتھ سروس یعنی این ایچ ایس دنیا کی 6بہترین ہیلتھ سروس میں سے ایک ہے جس کا سالانہ بجٹ 140بلین پونڈ ہے۔ 5جولائی 1948ء کو قائم ہونے والے اس ادارے میں ملازمین (بشمول ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر) کی تعداد 13لاکھ ہے جن میں تقریباً 10فیصد عملہ ایشیائی اور 12فیصد سے کچھ زیادہ دیگر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کے دوران این ایچ ایس نے جو قابل قدر خدمات انجام دی ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے لے کر ویکسین لگانے تک نیشنل ہیلتھ سروس جس طرح کام کر رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے برطانوی شہریوں کی صحت کا کتنا خیال ہے اور ان کی زندگیاں این ایچ ایس کو کتنی عزیز ہیں۔ ویل ڈن این ایچ ایس۔٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں