196

چلو عذاب سہیں دوستی کے یونہی سہی

چلو عذاب سہیں دوستی کے یونہی سہی

کہ وہ کسی کا ہوا ہم کسی کے یونہی سہی

ہمیں ہدف ، ہمیں بسمل، ہمیں پہ طعنہ زنی

ستم اسی کے گلے بھی اسی کے یونہی سہی

جگر فگار کرو، 💗دل کو تار تار کرو

یہی صلے ہیں اگر آگہی کے یونہی سہی

میں کب تلک ترے سفاک سچ کا زہر پیوں

وفا کے بول سنا جھوٹ ہی کہ یونہی سہی

مگر وہ لوگ تھے شاداب موسموں کے فراز

مگر وہ خواب تھے نتھیا گلی کے یونہی سہی

احمد فراز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں