173

زکوتہ کیسے کیلکولیٹ کی جائے، کسے دی جائے اور کیسے دی جائے ؟

اپنی زکوتہ اپنے ہاتھ سے دیں، اگر آپ یورپ امریکہ یا کسی بھی امیر ملک میں رہتے ہیں اور پاکستان زکوتہ دینا چاہتے ہیں تو اپنی زکوتہ صدقات خیرات جمع کرتے رہیں سال دو سال بعد جب بھی پاکستان آئیں تو اپنے ہاتھ سے حقدار ڈھونڈ کر زکوتہ ان تک پہنچائیں، جو مسلمان سستی میں اپنی زکوتہ مڈل مین کو دے دیتے ہیں وہ نااہل مسلمان ہیں اپنی زکوتہ ضائع کررہے ہیں، پاکستانی موجودہ حالات کو دیکھیں تو ہمیں یہ بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ اور بےایمانی عام ہوگئی ہے، کچھ لوگوں نے اپنے گھر کا چولہا جلانے کیلئے سوشل میڈیا پر زکوتہ تقسیم کرنے کا ڈرامہ رچایا ہوا ہے ایسے لوگوں سے بچیں اور اپنی زکوتہ خود دیں، چاہے اس میں جتنی بھی دیر ہوجائے، زکوتہ ضائع کرنے سے دیر سے دینا بہتر ہے۔

ہر صاحب نصاب مسلمان کیلئے ایک سال گزر جانے کے بعد اسکے پاس موجود نقد رقم، ساڑھے سات تولے سونا، ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ مالیت کے زیورات وغیرہ کی موجودہ مالیت کا ڈھائی فیصد زکوتہ دینا فرض ہے۔ اگر آپ نے کسی کو قرض دیا ہوا ہے اور اسکی واپسی ہوسکتی ہو تو اسے بھی ٹوٹل رقم میں جمع کرنا ہوگا لیکن اگر آپ نے کسی سے قرض لیا ہوا ہے تو آپ ٹوٹل رقم سے وہ رقم منفی کر سکتے ہیں۔
زکوتہ دینا مذہبی فریضہ ہے جبکہ ٹیکس دینا آپکے مذکورہ ملک کے شہری ہونے کے ناطے ملکی فریضہ ہے ان دونوں کو مکس نہیں کیا جاسکتا۔ زکوتہ سے غریب لوگوں کے چولہے جلتے ہیں جبکہ ٹیکس سے حکومتی مالی معاملات چلتے ہیں۔
اللہ نے سورۂ توبہ کی آیت 60 میں زکوتہ کے آٹھ مصارف بتا دیئے ہیں لہذا صرف انہیں ہی زکوتہ دی جاسکتی ہے، ان مصارف میں مفلسوں اور محتاجوں کو پورے سال کا خرچ دینا یا انہیں انکی اہلیت کے مطابق کاروبار کرنے کیلئے رقم یا آلات خرید کر دینا، زکوتہ جمع کرنے والے اہلکاروں کی تنخواہیں دینا، ایسے غیر مسلم جنکے مسلمان ہونے کا امکان ہو یا ایسے کمزور عقیدہ مسلمان جنکے اسلام سے پھرنے کا اندیشہ ہو انکی دل جوئی کیلئے رقم دینا، غلاموں کو آزاد کروانے کیلئے رقم دینا، مقروضوں کے قرض ختم کرنے کیلئے رقم دینا، اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کیلئے، اور ایسے مسافروں کیلئے رقم دینا شامل ہیں جنکے پاس پیسے ختم ہوچکے ہوں اور انہیں اپنی منزل پر پہنچنا ہو۔
مساجد اور مدارس بنانے میں زکوتہ نہیں دی جاسکتی لیکن مدارس یا سکولوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ پر زکوتہ خرچ کی جاسکتی ہے۔ اپنے بیٹا بیٹی نواسہ نواسی اور ماں باپ کو زکوتہ نہیں دی جاسکتی، انکے علاوہ سب سے پہلے قریبی سفید پوش رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حق ہے بعد میں باقی لوگوں کا نمبر آتا ہے۔

طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں