141

پاکستانی نام نہاد عاشق رسول اور دین اسلام میں عربوں کا کردار.

زندگی کا تقریبًا نصف حصہ یہاں عربوں کی سرزمین میں گزار دیا کچھ عرصہ سعودی عرب میں بھی گزارا عمرے بھی کیے. بیت اللہ کا طواف بھی اللہ پاک حج کرنے کی توفیق بھی دی اور اس عرصے میں نہ کبھی کسی عاشقِ رسول سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی کسی مجاہدِ ختم نبوت سے۔ نہ کوئی گدی نشین ملا اور نہ کوئی صاحبِ طریقت، رہبرِ شریعت، سگ ِمدینہ اور نہ ہی تعمیر و ترقی کا ہیرو۔ نہ کبھی دورانِ محرم اہلِ تشیع کے جلوس اور ریلیاں نکلتے دیکھیں اور نہ ہی کبھی صحابہ کرام کے یومِ وفات اور یوم پیدائش پر جلسے، جلوس اور بلاک ہوتی ہوئی سڑکیں۔ ناں کبھی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے موقع پر جگہ جگہ ٹریفک جام دیکھا اور نہ ہی کبھی کسی پر گستاخی کا الزام لگا کر سر تن سے جدا کرنے والے مجاہد دیکھے. اور نہ ہی مساجد کے باہر کوئی گن مین دیکھا۔

یہاں دنیا کے ہر ملک و مذہب کے لوگ بستے ہیں۔ جسے شراب خانے جانا ہے جائے، جسے مندر جانا ہے جائے، جسے چرچ جانا ہے جائے، جسے مسجد جانا ہے جائے، جسے آٹھ تراویح پڑھنی ہیں وہ اٹھ پڑھے،

جسے بیس پڑھنی ہے وہ بیس پڑھے اور جسے نہیں پڑھنی نہ پڑھے۔ اس کے باوجود بھی یہاں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ جس ملک کا میں رہنے والا ہوں وہاں مذہبی سیزن ختم ہوتے ہیں تو سیاسی سیزن شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی سیاسی پارٹیوں کے جلسے یا دھرنے تو کبھی مذہبی جماعتوں کے۔ کبھی ڈاکٹرز کا احتجاج تو کبھی وکیلوں سلام کا اور کبھی اساتذہ کا۔ کبھی ربیع الاول کے جلوس تو کبھی حسینی ماتم۔ رمضان آیا تو تراویح پڑھنے کے بعد لاوڈ اسپیکر پر پورے محلے کو زبردستی ثواب پہنچانے کی جدوجہد۔ کبھی ناموس رسالت کی ریلیاں، کبھی تاجدار ختم نبوت کے دھرنے تو کبھی سیاستدانوں کا پروٹوکول۔

عورتیں رکشے میں بچے جنتی ہیں، مریض ایمبولینس میں تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔ چلو جی جو مر گیا اسے شہید بولو اور دفنا دو۔ اللہ کے بندو، پہلے خود پر تو اسلام نافذ کرو، پوری دنیا کے ٹھیکدار بعد میں بننا ، اور ہاں فی الحال ہم جیسے نام نہاد غازیوں، مجاہدوں اور عاشقوں کو دنیا ماسوائے نکمی، جھوٹی، فراڈی، بھکاری اور دغاباز قوم کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتی۔ ملک میں پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے کسی کے موٹر سائیکل کو کسی کی گاڑی کو کسی غریب کے رکشہ کو بغیر سمجھے جلا دیا جاتا ہے. کسی کو کچھ علم ہے کہ شام کو وہ اپنے گھر بچوں کے لیے کیا لے کر جائے گا. ایمبولینس کو رستہ نہیں دیا جا تا مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتاہے. کیا یہ ناموس رسالت کے ٹھیکیدار ہیں. جن کو یہ بھی پتہ نہیں کہ انسانیت کیا ہے دنیا کی کسی ریاست میں بھی قانون ھاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ پھر وطن عزیز میں ایسا کیوں ہے. ہمیں تو یقین کریں اپنے ملک میں ہی جانے سے ڈر لگتا ہے ایسے موقع پر تخریب کار عناصر بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں. خدا کے لیے اپنے ملک کے دشمن نہ بنیں. آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں