44

معاشرے میں رضاکاروں کا کردار

ہم لوگوں کی اکثریت کا خیا ل ہے کہ انسانوں کے لئے سب سے اہم اور فائدہ مند چیز مال و دولت ہے۔ اس لئے ہم لوگ زندگی بھر دولت کے حصول کے جتن کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جب ہم کسی کی مدد کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلا خیال ہمیں یہی آتا ہے کہ اگر ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ مال ودولت ہوتو ہم کسی کے کام آ سکتے ہیں، چیرٹی یعنی خیرات دے سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی کی مدد کرنے کا تصورصرف دولت اور مالی اعانت سے جڑا ہوا ہے۔ مغرب اور خاص طور پر برطانیہ میں یہ تصور ذرا سا مختلف ہے۔ اس ملک میں لوگ مالی مدد کے ساتھ ساتھ کئی اور طریقوں سے بھی ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں۔ وہ اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر مختلف تنظیموں اور اداروں کے ساتھ والنٹیئرز یعنی رضاکار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ عصر حاضر میں انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔

اگر کوئی شخص اپنے اس قیمتی وقت کا کچھ حصہ کسی اچھے کام اور مقصد کے لئے وقف کر دیتا ہے تو اس سے بڑھ کر چیرٹی اور کیا ہو سکتی ہے۔ ہسپتال ہوں یا خیراتی ادارے، ماحولیاتی آلودگی کو کم کر نے کے لئے کام کرنے والی کوئی تنظیم ہو یا حیوانات کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل کوئی ایسوسی ایشن، انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والی کوئی آرگنائزیشن ہو یا کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کے مریضوں کی فلاح وبہبود میں مصروف کوئی سوسائٹی، نسلی امتیاز کے خاتمے کے لئے فعال کوئی کونسل ہو یا بوڑھے اور معذور لوگوں کی مدد کرنے والی کوئی فاؤنڈیشن ہر جگہ رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت نکال کر اچھے کام کرنے والے اداروں کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ برطانیہ میں معاشرتی فلاح وبہبود کے لئے رضاکار یعنی والنٹیئر کے طور پر کام کرنا معمول کی ایک بات ہے اور لوگ اسے نیکی کے کام کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر سرانجام دیتے ہیں۔بے روزگار اور ریٹائرڈ لوگ اس کام میں پیش پیش رہتے ہیں مگر ملازمت اور کاروبار کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنی مصروفیت کے باوجود رضاکارانہ کام کرتی ہے۔ برطانیہ میں جب کسی فلاحی ادارے کو رضاکاروں کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ اپنی ویب سائٹ پر اس کا اشتہار لگا دیتا ہے اور بہت سے رضاکار اپنی درخواست بھجوا دیتے ہیں اور ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد مطلوبہ رضاکاروں کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں تقریباً دو کروڑ لوگ ایسے ہیں جو مختلف اوقات میں کسی نہ کسی فلاحی ادارے یا سماجی بہبود کے لئے کام کرنے والی تنظیم کے ساتھ رضاکار کے طور پر کام کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ان رضاکاروں میں اوور سیز پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہماری کمیونٹی چیرٹی دینے کے معاملے میں تو کسی حد تک فراخ دل ہے لیکن کسی اچھے کام کے لئے وقت دینے اور رضاکار بننے کے سلسلے میں وہ مقامی لوگوں یعنی انگریزوں سے بہت پیچھے ہے۔ انگریز اگر کسی کی مالی مدد نہیں کر سکتے تو والنٹیئر بن کر فلاحی اداروں اور لوگوں کے کام آتے ہیں اور وہ ان کاموں کی تشہیر بھی نہیں کرتے۔ بہت سے رضاکار ایسے ہیں جو اولڈ پیپلز ہوم(نرسنگ ہومز) میں بوڑھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ان کے ساتھ تاش، شطرنج، لڈو، کیرم بورڈ اور دیگر ان ڈور گیمز کھیلتے ہیں۔ ان سے گپ شپ کرتے ہیں، ان سے ان کی زندگی کے خوشگوار واقعات، تجربات اور مشاہدات کے بارے میں تفصیلات کو دلچسپی سے سنتے ہیں۔ بہت سے رضاکار مختلف جیلوں میں قیدیوں سے جا کر ملتے ہیں، ہسپتالوں میں مریضوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ والنٹیئرز کی ایک بڑی تعداد جانوروں اور درختوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو اپنا وقت دیتی ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب لوگوں کے ملنے جلنے پر پابندی لگی اور نیشنل ہیلتھ سروس یعنی این ایچ ایس کو رضاکاروں کی ضرورت پڑی تو ٹیسٹ سنٹرز اور ویکسین لگانے کے مراکز میں کام کرنے کے لئے ہزاروں والنٹیئرز میدان عمل میں آ گئے۔

میں نے پہلے بھی اپنے ایک کالم میں اس حیرانی کا اظہار کیا تھا کہ جب ایسٹ لندن کے ایشیائی اکثریتی آبادی والے علاقے میں خون کے عطیات کے لئے نیشنل بلڈ سروس بلڈ بینک کا اہتمام کرتی ہے تو وہاں ہمارے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ وہاں خون کا عطیہ دینے والے گوروں کی قطار لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اوور سیز پاکستانیوں اور کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو برطانیہ آنے والے سیاستدانوں اور بڑے بڑے سرکاری عہدیداروں کی میزبانی میں تو ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ ہوائی اڈوں پر ان کے استقبال سے لے کر ان کے لئے تقریبات کا اہتمام کرنے اور ان کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کے لئے اپنا قیمتی وقت، توانائی اور وسائل کو بے دریغ صرف کرتی ہے مگر ان کے پاس کوئی رضاکارانہ کام کرنے یا والنٹیئرز بننے کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ہمارے لوگوں کے پاس سیاسی بحث مباحثوں اور اپنی پسند کے سیاستدانوں کو سچا اور اچھا ثابت کرنے کے لئے بہت وقت ہوتا ہے۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر خود کو دانشور ثابت کرنے کے لئے وقت کی بہت فراوانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں انقلاب لانے کے لئے ان کے پاس بڑے بڑے منصوبے ہوتے ہیں اور اگر ان کو کسی رضاکارانہ کام کے لئے وقت نکالنے کو کہا جائے تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پاکستان ہو یا برطانیہ ہم لوگوں کی اکثریت معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی اور ان کی شکایت کرنے میں پیش پیش رہتی ہے مگر ان خرابیوں کے خاتمے کے لئے معاونت کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔ اندھیرے کی شکایت کرنے کی بجائے اپنے حصے کا چراغ جلا دینے سے روشنی پھیلنا شروع ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں تعلیم بالغاں کا بڑا چرچا ہوتا تھا۔ گاؤں اور دیہات کے پڑھے لکھے نوجوان اپنے علاقے کے ان پڑھ بزرگوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے لئے رضاکارکے طور پر کام کرتے تھے۔ جنگ کے دنوں میں بہت سے پاکستانی شہری فوج کی مدد کے لئے رضاکار بن کر کام کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ گذشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہوتا چلا جا رہا ہے ان حالات میں ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ایک مہم چلائیں جس میں وہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں۔

پاکستان میں جو جتنا زیادہ غریب اور ان پڑھ ہے اس کے اتنے ہی زیادہ بچے ہیں۔ جو لوگ بنگلوں میں رہتے ہیں ان کے دو یا تین بچے ہیں اور جن کو رہنے کے لئے دو کمروں کا گھر بھی میسر نہیں ان کے پانچ سے چھ بچے ہیں۔ ان حالات میں اگر اور کچھ نہیں تو آبادی پر قابو پانے کی رضاکارانہ مہم تو چلائی جا سکتی ہے۔ اس کام کے لئے ان لوگوں سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ان پڑھ ووٹرز کی کھیپ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے یا ان کے مدرسوں کی نفری بڑھتی چلی جائے۔ اگر پاکستان کی آبادی میں اضافے کا تناسب یہی رہا تو اکثریتی آبادی کو روٹی کپڑا اور مکان کا میسر آنا تو دور کی بات صحت کے سنگین مسائل کی دلدل اور زیادہ وسیع ہوتی چلی جائے گی۔ پاکستان کے خیر خواہوں، دانشوروں اور سیاسی کج بحثوں میں وقت ضائع کرنے والوں کو چاہئے کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافے کی روک تھام کے لئے کوئی آگاہی مہم چلائیں وگرنہ آنے والا وقت تشویشناک امکانات کی خبر دے رہا ہے۔

خدا کرے کے فریب نظر ہو یہ ورنہ

مجھے تو دور سے لشکر دکھائی دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں