80

یہاں کوئی کسی کانہیں

یہاں بڑے آئے اورگئے ۔ ضیاء الحق ،ایوب خان ،ذوالفقارعلی بھٹو،یحیٰ خان ،غلام اسحاق اور پرویزمشرف نہیں رہے تویہ کس باغ اورکھیت کی مولی ہیں کہ یہ ہمیشہ رہیں گے ۔؟ ہمیشہ رہنے والی ذات توصرف ایک اللہ کی ہے باقی توہرچیزاورہرشئے نے ایک نہ ایک دن فناہوناہی ہے۔ یہ قدرت کاقانون ہے کہ جوآج ہیں وہ کل نہیں رہیں گے۔سوچنے کی بات ہے مکے لہرانے والے نہیں رہے تویہ انڈوں کی ٹھوکریاں اٹھانے والے کیسے رہیں گے۔؟فرعون کے لہجے میں سیاسی مخالفین کوللکارنے والے ،،بادشاہ سلامت،،کوہم نے پہلے ہی کہاتھاکہ بادشاہ سلامت یہ کرسی ۔۔یہ اقتداراوریہ کالی ،نیلی اور پیلی شیروانیاں دائمی نہیں۔ یہ آج ہے کل نہیں ہونگی۔ ضیاء الحق ،ایوب خان،یحیٰ خان اورپرویزمشرف بھی کسی وقت اس ملک کے طاقتوربہت طاقتورحکمران تھے ۔ وہ سب آج کہاں ہیں۔۔؟پھردورکیوں جاتے ہیں ۔ماضی قریب میں میاں نوازشریف اورآصف علی زرداری کودیکھیں۔آصف زرداری بھی تواس ملک کے صدراورنوازشریف تین بارعوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایک مضبوط اورطاقتوروزیراعظم تھے ۔ پھران کے ساتھ کیاہوا۔۔؟ اوریہ آج کہاں ہیں۔۔؟یہاں کسی نے ہمیشہ نہیں رہنا۔

دنیاکی طرح اقتدارکی اس دنیامیں بھی جوآتاہے وہ جانے کے لئے ہی آتاہے۔اگرکوئی یہ سمجھے کہ وہ ہمیشہ صدر،وزیراعظم یابادشاہ رہیں گے تویہ اس کی خام خیالی ہے ۔نعوذبااللہ خودکوخداسمجھنے والے فرعون باقی نہ رہے توان چھوٹے موٹے فرعونوں کی پھرکیااوقات۔۔؟ ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اورآج بھی کہتے ہیں کہ یہ کرسی،اقتدار،مال،دولت اورشان وشوکت یہ ہمیشہ نہیں رہتی۔یہ دنیاہی فانی ہے اس لئے یہاں ہرچیزنے ایک نہ ایک دن فناہوناہی ہے۔اس فانی دنیامیں صبح کے امیرکاشام کوغریب اورشام کے فقیرکاصبح کوامیرہوناکوئی حیرت والی بات نہیں۔ اس لئے ضیاء سے لیکرذوالفقارعلی بھٹواورپرویزمشرف سے لیکرنوازشریف تک یہ سب جس طرح ہم نام سے گمنام ہوئے یاوزیراعظم عمران خان سمیت اقتدارکے نئے آنے والے مہمان جس طرح ایک دن ماضی کاحصہ بن جائیں گے اس بارے میںذرہ بھربھی حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہاں عروج کوزوال کل بھی تھااوریہاں زوال آج بھی عروج کے کندھوں پرسوارہے۔پی ٹی آئی کی کوکھ سے راتوں رات ترین گروپ کانکلنایہ اسی،، زوال،، کی عروج کی طرف پیش قدمی ہے۔اب جس دن یہ زوال عروج تک پہنچ گیاآپ یقین کریں پھروزیراعظم عمران خان کے آسمان سے زمین پرآنے میں چندسیکنڈبھی نہیں لگیں گے۔ ہم نے ایسے کئی بڑے بڑوں کویوں لمحوں میںہوااورفضاء سے اوندھے منہ زمین پرگرتے دیکھاہے۔یہاں نہ اس سے پہلے کوئی کسی کاتھااورنہ اب کوئی کسی کاہے۔یہی وہ سچ ہے جسے جھٹلاناکسی کیلئے ممکن نہیں۔پھربھی کسی کویقین نہ ہوتووہ وزیراعظم عمران خان کی جان اورپی ٹی آئی کی شان جہانگیرترین کوہی دیکھ لیں۔کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ ہمیشہ وزیراعظم عمران خان کے دائیں بازوبننے والے جہانگیرترین کبھی اس طرح کپتان کے سامنے آئیں گے۔ اسی لئے ہم کہتے تھے کہ اقتدارآج ہے کل نہیں رہے گی۔وہ فرعون کے لہجے میں کل تک جوسیاسی مخالفین کوللکارکراین آراونہ دینے کی بھڑکیں ماراکرتے تھے آج ایک جہانگیرترین کی وجہ سے اس کی ساری اکھڑختم ہوکررہ گئی ہے۔ آگے کنواں پیچھے کھائی۔سیاست کی تاریک وادیوں میںاصول کاچورن بیچنے والے کپتان اب کیاکریں گے۔؟کسی کواین آراونہیں دوں گاکاشوروغوغاتوسب نے بہت سنا۔اب دنیاحقیقت میں یہ دیکھناچاہیں گی کہ بادشاہ سلامت کسی کو این آراونہ دے کردکھائیں۔

کل تک جوحکومت ایک دھکے کی مارتھی اب وہ ایک ترین کی ماربن کررہ گئی ہے۔کوئی مانے یانہ۔ سچ یہ ہے کہ ترین کاحکومت کے بغیرگزارہ ممکن ہے مگرحکومت کاترین کے بغیرچلناممکن نہیں۔کیونکہ جس دن ترین گروپ نے پی ٹی آئی کی طرف تین پتھرپھینکے اس دن پھراس مضبوط اورطاقت ورحکومت کوایک دھکے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔گڑسے مرتاہوتواسے زہردینے کی کیاضرورت۔یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی سمیت دیگرسیاسی مخالف اس حکومت کوزہردینے سے باربار ہاتھ پیچھے کھینچ رہے ہیں۔ ہم نے بہت پہلے ہی کہاتھاکہ دوسروں کے سہارے پرقائم عمارت کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔اصول کاچورن اگربیچناتھاتوپھرجہانگیرین جیسے سیاسی بیوپاریوں کی خدمات اورسہارالینے کی کیاضرورت تھی۔؟وزیراعظم عمران خان کے کیااصول ہیں اس کاتوہمیں نہیں پتہ لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ بیوپاریوں کے اصول بڑے واضح ہوتے ہیں ۔جس طرف نقصان کاذرہ بھی اندیشہ ہواس طرف اگرباپ بھی ہوتوپھربھی بیوپاری اس طرف نہیں جاتے۔پھروزیراعظم عمران خان توباپ بھی نہیں ایک کپتان فقط ایک کپتان ہیں۔بیوپاری کاکام سرمایہ لگاکرمنافع کماناہے۔یہی کام جہانگیرترین نے کیاہے۔سیاسی منڈی سے لائے گئے ،،لوٹوں،،کی اگرترین نے کچھ زیادہ قیمت وصول کرلی توکیاہوا۔۔؟اصول کے نعروں پرزندگی گزارنے والے کپتان کوکیاپہلے سے یہ نہیں پتہ تھاکہ پی ٹی آئی کے لئے دس روپے لگانے والاترین کل دس کے بدلے پچاس نقد وصول کر ے گا۔؟بیوپاری سب کچھ برداشت کرتاہے لیکن وہ کاروبارمیں نقصان کبھی برداشت نہیں کرتا۔جہانگیرترین نے شوگرکی مدمیں لاکھوں کمائے یااربوں۔اسے وہ اپناحق سمجھتاہے۔اب اگراسے اس منافع وحق کوجائزوحلال قراردینے کے لئے این آراونہیں ملے گاتووہ کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔

کپتان بڑے ضدی سہی لیکن بیوپاری بھی ضدمیں کسی سے کم نہیں ہوتے۔ترین نے کپتان کومشکل بہت مشکل میں ڈال دیاہے۔لوگ تحریک انصاف کی کوکھ سے جنم لینے والے ترین گروپ کوگھرکامعاملہ سمجھ رہے ہیں مگراسے اب گھرتک محدودکرنایارکھنااتناآسان نہیں ہوگا۔ترین گروپ کی پیدائش کے بعداب یاتوکپتان کے اصول بچیں گے یاپھرحکومت ۔ترین کواین آراوملے گاتواصول کاجنازہ نکلے گانہیں ملے گاتوحکومت کے پرخچے ہوامیں اڑیں گے۔ دراصل جہانگیرترین جیسے لوگ پیداہی اس لئے ہوتے ہیں کہ اقتدار،حکومت اورطاقت کوسب کچھ سمجھنے والوں کواپنی اوقات بھی کچھ یادرہیں۔شیروانی پہننے کے بعدکپتان آگے بہت آگے نکل گئے تھے۔دوسروں کوسیاسی انتقام کی آگ میں جھونکتے ہوئے وہ یہ بھی بھول گئے تھے کہ ایک دن اس نے واپس بھی نوازشریف کی جگہ پرآناہے۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے والے جہانگیرترین ساتھ نہیں رہے تون لیگ،پیپلزپارٹی ،جے یوآئی ،جماعت اسلامی اوردیگرپارٹیوں اورگھونسلوں سے چھلانگیں لگاکرآنے والے کیاخاک ساتھ رہیں گے۔؟بس وقت کی دیرہے۔یہ حکومت نہ رہی توپھرچندگنے چنے نظریاتی ورکروں اورپارٹی رہنمائوں کے سواکوئی بھی ساتھ نہیں رہے گا۔کپتان پرزبانی کلامی مرمٹنے والے یہ وزیراورمشیریہ توکرائے کے لوگ ہیں ۔جس دن پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کی صورت میں ان کے مکان خالی ہوگئے یہ اسی دن اپنابوریابسترگول کرکے ن لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، اے این پی، جے یوآئی یاایم کیوایم نامی سیاسی کالونیوں میں کرائے کے نئے مکان ڈھونڈلیں گے۔شائد اسی لئے شاعر نے کہاتھاکہ ،،جن پرتکیہ تھاوہی پتے ہوادینے لگے،،ہماری سیاست میں جہانگیرترین جیسے پتوں کاہوادیناویسے بھی یہ کوئی نئی بات نہیں۔ہماری سیاست سے واقف لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ملک میں سیاست کی پرفریب وادیوں میں ضرورت پڑنے پرمرغی کی بجائے اکثراوقات مرغے بھی انڈے دے دیتے ہیں۔پی ٹی آئی میں ایک نہیں اوربھی بہت سے ایسے جہانگیرترین ہیں جنہیں اب صرف وقت اورموقع کاانتظارہے ۔جس لمحے وقت نے پلٹاکھایاپھرکوئی عمران خان کے ساتھ نہیں رہے گایہ وزیرمشیرسب اپنی اپنی راہ پکڑیں گے کیونکہ یہاں کوئی کسی کانہیں ہوتا۔یہ سب مفادات کی گیم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں