147

برطانیہ میں پاکستانیوں کے رشتے اور شادیاں

انیس سو ساٹھ 1960ء اور ستر کی دہائی میں بلکہ اس کے بعد بھی جو پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن برطانیہ آئے تھے ان میں سے اکثریت کا خیال تھا کہ وہ چند سال دیار غیر میں محنت کر کے پاؤنڈ کمائیں گے اور پھر وطن واپس جا کر کوئی کاروبار کر کے خوشحال زندگی گزاریں گے لیکن ان کا یہ خواب محض خواب ہی رہا۔ ہجرت اور جلاوطنی ان کا مقدر بن گئی۔ اداس گھروں کے بام و در ان کی واپسی کے منتظررہے مگر اس نئے دیس کی آب و ہوا نے انہیں واپس نہیں جانے دیا۔ وطن اور اپنوں کی محبت انہیں ستاتی رہی مگر معاشی مجبوریوں نے ان کی واپسی کے راستوں میں فصیلیں حائل کر دیں۔ وہ پرندے جو اپنے آشیانوں سے دانے دنکے کی تلاش میں نکلے تھے انہیں راستے میں ہی شام ہو گئی۔ وہ ہر روز ڈھلتے سورج کو دیکھ کر اپنے آشیانوں کی طرف لوٹنے کا ارادہ کرتے مگر انہوں نے جہاں پڑاؤ ڈال دیا تھا وہاں آب و دانے کی فراوانی بہت تھی اس لئے وہ رفتہ رفتہ اپنے آشیانوں کو واپسی کا خیال بھول گئے اور انہوں نے پرائے دیس کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا۔واپس اپنے دیس جانے کی بجائے ان لوگوں نے رفتہ رفتہ اپنے بیوی بچوں کو برطانیہ لانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان اوور سیز پاکستانیوں نے یونائیٹڈ کنگڈم کے جس شہر میں پڑاؤ ڈالا وہ وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ گلاسگو سے مانچسٹر اور بریڈ فورڈ سے برمنگھم تک ہی نہیں بلکہ دارالحکومت لندن میں بھی ہمارے لوگوں کے قافلے آتے اور اپنے قدم جماتے گئے۔

ابتدا میں فکر معاش اور خوشحالی کے حصول کی تگ و دو نے انہیں مصروف رکھا۔ اس دوران ان کے بچے ایک اجنبی دیس میں پروان چڑھ کر اس معاشرے کا حصہ بن گئے۔ اس نئی نسل کی سوچ اور ترجیحات اپنے والدین سے بالکل مختلف تھیں۔ البتہ والدین نے ہر ممکن کوشش کی کہ ان کی نئی نسل اپنی تہذیب و تمدن سے وابستہ رہے اور خاص طور پر شادی کے معاملے میں والدین کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ 80ء اور 90ء کی دہائی میں ہزاروں اوورسیز پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اپنی اولاد کی مرضی کے خلاف ان کے منگیتروں کو اپنے آبائی علاقوں سے امپورٹ کیا۔ اپنے قریبی رشتے داروں سے ان کی بے جوڑ شادیاں کیں جس کے نتیجے میں ہماری کمیونٹی کو کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی شادیاں جب اندوہناک انجام تک پہنچیں تو برطانوی ذرائع ابلاغ نے ان جبری شادیوں یعنی فورسڈ میرجز پر خوب واویلا کیا اور ایسی شادیوں کے سدباب کے لئے طرح طرح کے سپورٹ گروپ بن گئے جنہوں نے بہت سی ایسی زبردستی کی شادیوں کو رکوایا۔ کئی برطانوی ادارے بھی اس معاملے میں لڑکیوں کی مدد کے لئے پیش پیش رہے۔ ان گنت تلخ تجربات کے بعد اوورسیز پاکستانی اور کشمیری والدین کی اکثریت اب اپنی اولاد کی شادیوں کے لئے برطانیہ میں ہی ان کے رشتے تلاش کرنے کو ترجیح دینے لگی ہے۔ بہت سے دوراندیش تارکین وطن ایسے بھی ہیں جو اولاد کے مستقبل کے اندیشوں کے خوف سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر عارضی طور پر واپس پاکستان آ جاتے ہیں تاکہ اپنی جوان ہوتی ہوئی اولاد کی مشرقی ماحول میں تربیت کریں اور ان کو مغربی ماحول کی بے راہ روی سے محفوظ رکھیں اور ان کی شادی بیاہ کے انتظامات بھی پاکستان میں ہی کریں۔ ایسے محتاط والدین جب پاکستان جاتے ہیں تو وہ خود اور ان کی اولاد مشکل سے ہی پاکستانی ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی افراتفری، لاقانونیت، عدم تحفظ، بدعنوانی، ناانصافی اور بدامنی سے اُکتا کر چند سال بعد پھر سے برطانیہ آ جاتے ہیں۔ اس ہجرت کے نتیجے میں انہیں بھاری مالی نقصان کے علاوہ پاکستان سے متنفر ہونے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں آباد پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے اس لئے ان کو آپس میں رابطے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں اور پھر ویسے بھی برطانیہ کی مصروف زندگی میں ہر کسی کے پاس اپنے سماجی تعلقات کو استوار کرنے یا انہیں فروغ دینے کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ مگر جب والدین کو اپنی اولاد کے لئے رشتوں کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو انہیں سماجی تعلقات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہنے کے علاوہ مختلف تقریبات اور شادی بیاہ کے پروگرامز میں شریک ہونا شروع کر دیتے ہیں اور یوں ان کا کسی ایسی فیملی سے تعارف کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنی اولاد کی شادی اور رشتے کے معاملات کو آگے بڑھا سکیں۔ بہت سے والدین اس مقصد کے لئے شادی دفتروں اور سماجی تنظیموں سے بھی رابطے کرتے ہیں یا پھر انٹرنیٹ اور شادی کی ویب سائٹس پر رجسٹر ہو کر اپنے اولاد کے لئے اچھے رشتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک بڑا لمیہ یہ بھی ہے کہ یہاں کی نئی نسل اپنی شادی کے لئے والدین کی رضامندی اور فیصلوں پر سر تسلیم خم نہیں کرتی۔ اس ملک میں بسنے والی اکثریتی آبادی یعنی سفید فام لوگوں کے لئے صرف شادی ہی زندگی کا محور نہیں ہوتی وہ شادی کو ایک ایسی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس سے ان کی شخصی آزادی کے سلب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے وہ کسی قسم کے بندھن میں آنے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ مقامی کمیونٹی کے اس طرز زندگی کا اثر ہماری نئی نسل پر بھی پڑا ہے۔ وہ بھی شادی کی ذمہ داریوں سے بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اپنی آزادی اور خودمختاری کو اولیت دینا چاہتے ہیں جبکہ بیچارے والدین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جوان ہوتے ہی اپنی اولاد کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔ اسی سلسلے میں ایک اور تشویشناک رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ برطانیہ میں بہت سی مسلم میرج ویب سائٹس بظاہر تو مسلمانوں کی شادی کے لئے رشتے کی خاطر بنائی گئی ہیں مگر درحقیقت وہ ایک ڈیٹنگ ہیلپ لائن کے طور پر کام کر رہی ہیں اور اس ذریعے سے ان کے کاروبار کو فروغ مل رہا ہے۔ رشتے اور شادی کے نام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کی تلاش میں ان ویب سائٹس پر آئے دن رجسٹر ہو رہی ہے۔ ایسے والدین جو برطانیہ آنے کے بعد یہاں پر اپنے عزیزوں اور شتہ داروں سے لاتعلق رہے یا انہوں نے ایسے علاقوں میں رہائش اختیار کی جہاں ان کے علاوہ ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ انہیں اپنی اولاد کے جوان ہونے پر رشتوں کی تلاش اور شادی کے لئے کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس کے برعکس ایسے والدین جو اپنے احباب اور کمیونٹی میں گھل مل کر رہے یا ایشیائی اور مسلم آبادی والے علاقوں کو اپنا مسکن بنایا ان کی اولاد کے رشتوں اور شادیوں کے معاملات جلد اور خوش اسلوبی سے طے ہو گئے۔

ویسے تو کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن اس کے لئے اپنے لوگوں سے رابطے میں رہنا اور ان سے تعلقات کو استوار رکھنا بھی وقت اور حالات کی اہم ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں آباد مسلمان اور پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل کی شادیاں اور مناسب رشتوں کی تلاش واقعی ایک سماجی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہماری کمیونٹی کے بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے آبائی شہروں یا قومیتوں اور ذاتوں کے نام پر ویلفیئر ایسوسی ایشنز بھی بنا رکھی ہیں۔ یہ تنظیمیں گاہے بگاہے مختلف تقریبات بلکہ فیملی گیدرنگ یعنی خاندانوں کے ملنے جلنے کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ والدین کو اپنی اولاد کے لئے اچھے رشتوں کی تلاش میں مدد مل سکے اور ان کی دوسرے خاندان کے لوگوں سے میل ملاپ کی راہ ہموار ہو جائے۔ ایک زمانے میں برطانیہ آنے والے پاکستانی طالب علموں یا سیاسی پناہ گزینوں کو برطانوی شہریت رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے میسر آ جاتے تھے لیکن امیگریشن کے مسائل حل ہونے کے بعد یا برطانوی شہریت ملنے پر ایسی شادیوں کی قلعی کھل جاتی تھی۔ برطانیہ میں کسی بھی بالغ لڑکے یا لڑکی کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہے یا نہ رہے۔ ان کے فیصلے کو قبول کرے یا نہ کرے اور اگر والدین اپنا کوئی فیصلہ زبردستی اپنی اولاد پر مسلط کرنے کی کوشش کریں تو انہیں قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں برطانوی قانون اولاد کو والدین کے فیصلوں سے بغاوت کا قانونی حق اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔

برطانیہ میں مسلمان کمیونٹی کے لئے اپنی اولاد کے لئے مناسب رشتوں کی تلاش کے علاوہ ان کی شادیوں کی کامیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شادی کے بعد اگر لڑکا، لڑکی یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی آپس میں نہیں بن سکتی یا وہ ایک دوسرے کے لئے غلط انتخاب ہیں تو وہ کسی مصلحت یا مجبوری کے تحت اکٹھے نہیں رہتے گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے یا حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے وہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں یعنی اچھے رشتوں کی تلاش اور شادی ہی ہماری کمیونٹی کا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سماجی المیہ ہے۔ شادیوں کی کامیابی کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلمان اور پاکستانی والدین اپنے بچوں کی تربیت پر پورا دھیان دیں اور ابتدا سے ہی انہیں اپنے مذہب، تہذیب، اخلاقی اقدار اور روایات کا درس اس نفسیاتی اور سائنسی انداز میں دیں کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کریں۔ انہیں اپنی مادری زبان سکھائیں کیونکہ اگر وہ اپنی زبان سے دور ہو گئے تو پھر اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی کٹ جائیں گے۔ والدین کو یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہئے۔ اولاد کی تربیت کا بہترین وقت ان کی ابتدائی عمر ہے۔ ابتدائی عمر میں ہی ان کو اپنے مذہب اور اقدار کی طرف مائل کیا جائے وگرنہ بڑی عمر میں پہنچ کر ہم انہیں اپنے رنگ میں ڈھالنا بھی چاہیں گے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ والدین کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ برطانوی معاشرے میں پروان چڑھنے والے بچے یقینا ان سے مختلف ہوں گے۔ وہ ٹیکنالوجی کے جس دور میں پروان چڑھ رہے ہیں ان کی زندگی اس عہد کے جدید تقاضوں کے مطابق بسر ہو گی۔ ویسے بھی اگر ہماری اولاد کو ہمارے جیسا ہی بننا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اولاد کی بجائے ہمیں ہی ایک اور زندگی عطا کر دیتا۔٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں