196

پاکستان میں زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز

ہمارا ملک پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور دین اسلام میں ہمیں اچھائی کا سبق دیا گیا ہے برائی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔وہ بات الگ ہے کہ اج کا مسلمان موڈرن ہو چکا ہے اکثریت غلط طرف نکل چکی ہے کچھ ناسمجھی میں اور کچھ موڈرن بننے کے چکر میں ایسا کر رہے ہیں۔اب آتے ہیں اصل مضمون پر جنسی زیادتی کے بڑھتے کیسوں میں اصل قصور ہمارے معشرے کا ہوتا ہے کوئی بھی یہ بات اپنے والدین سے نہیں سیکھتا کہ جنسی زیادتی کرنی ہے یا سوچنا ہے بشرط کے والدین تربیت اچھی کرنے والے ہوں ہمارے معاشرے میں جو ہوتا ہے بچوں پر اُسی کا اثر زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ ٹی وی موبائل انٹرنیٹ وغیرہ۔ دنیا میں اچھے برۓ لوگ ہر جگہ موجود ہیں مگر ہر انسان خود یہ اختیار رکھتا ہے اُس کو کس طرف جانا ہے میرے خیال سے فحاشی ہی زیادتی کی اصل وجہ ہے اور فحاشی شروع ہوتی ہے ٹی وی فلمز سے اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے یہاں والدین کا زرا سا قصور یہ ہے کہ آج ہم پیسے کمانے کے چکر میں بھاگ رہے ہیں مگر ہمیں اپنے بچوں کی پرواہ نہیں۔جبکہ ہمیں اپنے بچوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی کر رہے ہیں اور ٹی وی پر کیا دیکھ رہے ہیں اور انٹرنیٹ جو کہ اُن کی سہولت کے لیے لگوایا گیا اُس کا استعمال کیسے کر رہے ہیں۔

پہلے پاکستانی ڈراموں میں ایک سبق ہوا کرتا تھا مگر جب سے چینلز کی دوڑ شروع ہوئی تب سے ڈرامے صرف فحاشی اور عاشقی معشوقی پر ہی بن رہے ہیں اکثر اور ایک بڑی وجہ ہمارے مغرب پسندی کا فیشن بھی ہے عورت فیشن بناؤ سنگھار کس لیے کرتی ہے خود کے لیے یا پھر اپنے شوہر کے لیے نہ کے دنیا کو دیکھانے کے لیے جب عورت خود کو جب دنیا کے سامنے خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے تو پھر خود کا تماشہ بنا لیتی ہے اب کچھ میرے پیارے یہ بھی بول دیتے ہیں کہ شرم و حیا اور پردا انکھ کا ہوتا ہے مانتا ہوں یہ سب مگر اپ جب سامنے کسی کی مٹھائی رکھ دیں ڈبا کھول کر تو کیا جو سامنے بیٹھا ہے وہ نہیں کھاۓ گا ہاں شوگر والا نہیں کھاۓ گا۔عورت مرد پر بلیم گیم کرتی ہے اور مرد عورت پر اس زنا بل جبر یا جنسی زیادتی کی اصل وجہ بہودہ لباس اور غلط سنگت ہے اور مسلمان مرد و عورت کو اللہ پاک نے بےشک ایک جیسا ہی حکم دیا ہے مگر ہم صرف اپنے مطلب تک ہی مانتے ہیں اکثر جنگ ہم میں یہ رہتی ہے کہ مرد انکھ نیچے کر کے چلے اللہ پاک کا حکم ہے اور مرد کہتے ہیں عورت اپنت جسم ڈھانپ کر نکلے۔بات دونوں کی ٹھیک ہے مگر مانتے دونوں نہیں جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ فحاشی ہی جنسی زیادتی کی اصل وجہ میں مگر قصور دونوں طرف کا ہے اور جہاں زنا بل جبر کی بات ہے جیسا کہ بچوں سے جنسی زیادتی یا رہ چلتی عورت سے جنسی زیادتی تو وہاں اُس مرد کا قصور ہے جو ایسا بہودہ عمل کرتا ہے نہ کہ ساری مرد ذات کا عورت بےبس یا مجبور نہیں نہ ہی وہ استعمال کی چیز ہے یہ سوچ ہمارے آقا دوجہاں اخری رسول و نبی محمدؐ کے وقت سے پہلے کے کفر و مشرکین میں پائی جاتی تھی۔جب دین اسلام آیا نبی پاک محمدؐ نے اللہ کا حکم بتا کہ عورت استعمال کی چیز نہیں عورت سنبھال کے رکھنے والی جاندار ہے اُس کے اندر بھی احساس ہے اُس کے بھی حقوق ہیں جیسا مرد کے ہیں بس زرا سا فرق ہے۔

عورت میں ماں بہن بیٹی بیوی سب ہی رشتے موجود ہیں۔اس پر ظلم نہیں کرنا چاہیے نہ ہی اس کی توہین کرنی چاہیے۔میرے پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ۔اپ مغرب کو لے کر۔مت چلیں اپ اپنی ثقافت کو دیکھیں اپنے دین اسلام کی تعلیم کو دیکھ کر چلیں اچھائی برائی کا فرق جانیں اور والدین سے ہاتھ جوڑ درخواست ہے کہ دنیاوی مال کمائی یہ زندگی کا حصہ ہے مگر اپنے بچوں پر بھی نظر رکھین کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں جو آذادی اپ نے اپنے بچوں کو دی وہ ٹھیک استعمال۔کر رہے ہیں کہ غلط اور ہر۔ماں کو یہ بات اپنی اولاد کو۔بتانی چاہیے کہ فحاشی کس۔کو کہتے ہیں اور یہ کیسا بدعمل۔ہے اس کے نقصان کیا ہیں ۔اور ایک درخواست کہ اپنے بچوں کی شادی میں دیر مت کریں جلدی کرنے کی کوشیش کریں اور جب کہیں رشتہ دیکھنے جائیں تو امیر غریب کے لفظ کو اپنے دماغ سے۔نکال۔کر جائیں بیٹیاں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں بس شکل و رنگ کا فرق ہوتا ہے مگر جزبات سب بہن بیٹیوں کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
امید ہے کہ جو لکھا اُس کو پڑھ کر کوئی تو سوچے گا کہ۔ہم کیا تھے اور کیا بن رہے ہیں۔
شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں