81

وقت ہے سدھرجاؤ

سگریٹ کاایک تازہ کش لگانے کے بعدمنہ سے دھواں اڑاتے ہوئے وہ میری طرف گویاہوئے۔جوزوی صاحب جولوگ سگریٹ پیتے ہیں وہ نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی بہت بڑی ناانصافی اورظلم کرتے ہیں۔پتہ ہے سگریٹ کے کیاکیانقصانات ہیں۔؟اس سے نہ صرف ایک اچھے بھلے اورصحت مندانسان کاکام تمام ہوتاہے بلکہ اس منحوس دھویں کے ماحول اورمعاشرے پربھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میں اپنے طورپرہرشخص کوسمجھانے کی کوشش کرتاہوں مگرمجال ہے میری بات کاکسی پرکوئی اثرہو۔مجھے سگریٹ پرلیکچردینے کے بعدوہ صاحب اسی نشست وکمرے میں سگریٹ کی پوری کی پوری ڈبی خالی کرکے نکل گئے مگرمیں پیچھے سوچتے رہ گیا۔ سوچتاہوں کہ جب سگریٹ کے اڑتے دھویں تلے منشیات کے نقصانات بیان ہوں گے توکون ظالم اس پرکان دھرے گایاایسے ارشادات پرعمل کرے گا۔؟

آج اس ملک کے اندرجھوٹ،فریب،چوری چکاری،لوٹ مار،کرپشن ،صفائی ستھرائی، ایمانداری، جرات، بہادری، دیانت، امانت، صلہ رحمی،اتحادواتفاق اورسادگی وشرافت پرلیکچرتوسب دے رہے ہیں مگرافسوس اپنے ہی ان لیکچروں پرعمل کوئی نہیں کررہا۔ جھوٹاجھوٹ اورچورچوری کرتے ہوئے جھوٹ وچوری کے گناہ پرلیکچرتودے گا لیکن نہ جھوٹ بولنے والا جھوٹ سے بازآئے گا اورنہ ہی چوری کرنے والاچوردوسروں کولوٹنے سے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے گا۔نیچے سے اوپرتک ہماراساراسسٹم ہی ایسے لیکچرارز سے بھرا پڑا ہے۔ وزیراعظم سے لیکرگلی محلے میں ریڑھی پرانڈے اورچھولے بیچنے والے تک ہربندہ سرسے لیکر پائوں تک خودخامیوں،کوتاہیوں اورگناہوں میں ڈوباہواہے لیکن پھربھی ہرشخص یہ کہہ رہاہے کہ میں نہیں زمانہ خراب ہے۔ آپ اس ملک میں مغرب سے مشرق،شمال سے جنوب،کراچی سے گلگت، چترال سے کشمیراوروزیرستان سے بلوچستان تک دردرکی خاک چھان کربھی دیکھیں آپ کو ایسا کوئی بندہ نہیں ملے گا جویہ کہے کہ زمانہ نہیں میں خراب ہوں۔ سب سے پہلے ریاست مدینہ کے امیرالمومنین اوراپنے محترم وزیراعظم صاحب کودیکھیں۔ ڈھائی تین سالوں میں اس نے اپنی بدسے بدترین حکمرانی کے ذریعے عوام کودیوارکے ساتھ لگاکر کفن چورکے بیٹے والاریکارڈبھی اپنے نام کرلیاہے لیکن اس کے باوجودوہ آج بھی اٹھتے بیٹھتے یہ کہتے ہوئے دکھائی اورسنائی دیتے ہیں کہ نوازشریف اورزرداری نے اس ملک کاستیاناس کیا۔ مجال ہے کہ یہ صاحب یہ تسلیم کریں کہ اس نے بھی تین سالوں میں لاکھوں اورکروڑوں لوگوں کوکوئی تڑپایااوررلایاہے۔ ماناکہ نوازشریف اورزرداری نے اس ملک کاستیاناس کیالیکن یہ صاحب ایک منٹ کیلئے تواپنے گریبان میں بھی ذرہ جھانک کربتائیں کہ اس نے ڈھائی تین سالوں میں اس ملک کے ساتھ کیاکیا۔؟

پچھلے 73سال میں اس ملک کے اندرکیاہوا۔؟یاکس نے کیاکیا۔؟وہ حساب کتاب تواپنی جگہ لیکن موجودہ تین سال کاحساب کتاب تواسی ایماندارکے سرہے۔دنیامیں نہ سہی ۔روزمحشرتوانہیں ہرحال میں اس کاحساب کتاب اورجواب دیناہوگا۔وزیراعظم کے ساتھ یہی حال وزیروں پھرمشیروں کابھی ہے۔ماضی میں ہرحکومت سے چمٹ کرملک کودیمک کی طرح چاٹنے اورعوام کوبائولے کتوں کی طرح کاٹنے والے یہ وزیرمشیربھی آج اپنے گریبانوں میں جھانکنے اوراپنی ادائوں پرغورکرنے کی بجائے دوسروں کی طرف انگلیاں کرکے کہتے پھررہے ہیں کہ وہ چوراوروہ ڈاکوہیں۔جس ملک میں حکمران سابق حکمرانوں ،سیاستدان مخالف سیاستدانوں،ایم این اے وایم پی اے بلدیاتی نمائندوں، ڈاکٹرزٹیچروں، ٹیچرزڈاکٹروں، تاجرگاہک، گاہک تاجروں،مستری مزدور، مزدورمستری، مالک مزارع اور مزارع مالک کوچور، ڈاکو، جھوٹا، بددیانت، خائن، منافق، دھوکہ باز، لٹیرا، مکاراوراغیارکایارکہیں۔جس ملک میں بقول ہرشخص کے اس سے بڑامتقی،ایمانداراوروفاداراورکوئی نہ ہو۔ جس ملک میں ہرفردخودسب سے بڑاحکمران، وزیر، مشیر، ڈاکٹر، انجینئر، کپتان اورکھلاڑی ہو۔ آپ یقین کریں ایسے ملک کاترقی وخوشحالی کے لحاظ سے کچھ نہیں ہوسکتا۔جس ملک اورمعاشرے میں ہرشخص دوسرے کوشک کی نگاہ سے دیکھتاہووہاں نہ اعتمادکی ہوائیں چلتی ہیں اورنہ ہی ترقی کی کوئی فصل اگتی ہے۔اپنے گناہ اورجرائم بھول کردوسروں کوچورچوراورڈاکوڈاکوکہنے سے اگرکوئی ترقی کرتاتوآج ہم سے بڑے ترقی یافتہ دنیامیں کوئی نہیں ہوتے۔ماں کے پیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی ہم دوسروں کے دامن پرنظریں ٹکاناشروع کردیتے ہیں۔پھردائیں اوربائیں ہاتھ میں تمیزکے بعدتوہماری یہ حالت ہوتی ہے کہ فرض نمازمیں بھی جب ہم اپنے رب سے ہم کلام ہوتے ہیں توایک آنکھ ہماری سجدے کی جگہ پراوردوسری پاس کھڑے نمازی کی جیب پرہوتی ہے۔ جس ملک اورمعاشرے میں ہرشخص خودکوعقل کل اورایماندارسمجھتاہو۔

اس ملک اورمعاشرے کوپھرایسے ہی حالات سے گزرناپڑتاہے جس سے آج ہم گزررہے ہیں۔اس ملک کی تباہی اورخرابی کے ذمہ دارکوئی یحی خان کوقراردے رہے ہیں۔کوئی ناکامی کی یہ چادرایوب خان اورضیاء الحق کے سرڈال رہے ہیں۔کوئی ذوالفقارعلی بھٹوکوبرابھلاکہہ رہے ہیںتوکوئی پرویزمشرف ، نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرف اشارے کرکے انہیں ہربیماری کی جڑگردان رہے ہیں۔میں یہ نہیں کہتاکہ یحی خان سے لیکرزرداری اورنوازشریف تک ان سب کااس ملک کی بربادی میں کوئی ہاتھ اور کردار نہیں۔ چمن میں بہارسے خزاں لانے میں ان سب کاواقعی کوئی نہ کوئی ہاتھ اور کردار ضرور ہوگا لیکن ان کے ساتھ اس چمن کے اجڑنے میں ہاتھ اورکردارہمارابھی یحی خان،ضیاء الحق، بھٹو، مشرف، زرداری اورنوازشریف سے کوئی کم نہیں۔ہم میںسے ہربندہ اپنی جگہ اللہ کوحاضرناظرجان اور قبرحشر کوسامنے رکھتے ہوئے صرف ایک منٹ کیلئے رات کی کسی تنہائی میں سوچیں کہ اس ملک اورقوم کے لئے ہم نے آخرکیاکیا۔؟دوسروں کوچوراورڈاکوکہنے سے پہلے کیاہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانکا اور گناہوں سے داغداردامن کوکبھی دیکھا۔؟ چھاننی اٹھے کے کوزے کوکہے کہ آپ میں دوسوراخ ہے کے مصداق دامن ہمارااپناگناہوںسے چھان چھان ہوتاہے لیکن ہم انگلیاں دوسروں پراٹھاتے ہیں۔چوریاں اورچکاریاںہم خودکرتے ہیں لیکن چورہم دوسروں کوکہتے اورسمجھتے ہیں۔جھوٹ،فریب اوردھوکے کی شکل وصورت میںبے ایمانی کاسرٹیفکیٹ ہماری جیبوں میں پڑاہوتاہے لیکن بے ایمان ہم دوسروں کوکہتے ہیں۔اللہ کے احکامات کی نافرمانی اورنبی کریم ﷺکے مبارک سنتوں سے روگردانی کرکے شعائراسلام کی روزانہ توہین اورمسلمانیت کاجنازہ ہم اپنے ان ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کافری کے فتوے ہم دوسروں پرلگاتے ہیں۔

دوسروں کے تمام غیوب کاتوہمیں پتہ ہوتاہے لیکن اپنے ہرغیب سے ہم آج بھی ناآشناء ہیں۔کوئی مانیں یانہ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک اورقوم کو ہم سب نے ملکرخود  اس نہج تک پہنچایاہے۔اس ملک میں ہرشخص اگرخودمنصف وقاضی نہ بنتاتوآج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔افسوس کامقام یہ ہے کہ اپنے انہی سیاہ کرتوتوں،بداعمالیوں اورناقابل قبول افعال کی وجہ سے 73سال تک منہ کے بل گرنے کے باوجودہم آج بھی راہ راست پرنہیں آسکے۔تباہی وبربادی کے کئی مناظراوراپنے جیسے صحیح سلامت ،ہشاش بشاش اورپہلوان نماہزاروں ولاکھوں انسانوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قبرکی پاتال میں اتارنے کے بعدبھی ہم آج وہیں کے وہیں ہیں۔حالات بدلے،ادواربھی بدلے،مگرایک ہم نہیں بدلے۔ہمارے بے ہودہ خیالات،مفاداتی نظریات اوراللہ کے عذاب کودعوت دینے والے کمالات آج بھی ہمارے دل ودماغ اورذہنوں پراسی طرح سوارہیں۔ جب تک ہم اپنے ان خیالات،نظریات اورکمالات کونہیں بدلتے اس وقت تک دوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔دوسروں کو چوری، چکاری، لوٹ مار،کرپشن،جھوٹ ،فریب اوردھوکے سے روکنے کے لئے ہمیں پہلے خود ان گناہوں اورجرائم کوترک کرناہوگا۔ہاتھوں میں چوری کے لش پش نوٹ پکڑکردوسروں کوچورچورکہنے سے دوسرا تو چور نہیں ہوگا لیکن ایک نہ ایک دن پھراپناتماشاضرورلگے گا کیونکہ یہ دنیامکافات عمل ہے۔ یہاں توجیساکروگے ویساپھرلازمی بھروگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں