58

کیا گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں دیو رہتے ہیں؟

صدیوں سے لوگوں کا ماننا تھا کہ گلگت بلتستان سے اوپر کے پہاڑی میدانوں میں دیو رہتے ہیں. دیو تو شائد ہی کسی نے دیکھےہوں، البتہ یہ ممکن ہے شوسار کی جھیل میں پہاڑوں کے ناچتے سائے دیکھ کر انہوں نے اس جگہ کا نام دیو سائی رکھ دیا ہو.

دیو تو وہاں نہیں تھے لیکن بھورے ریچھ ضرور تھے. انکا شکار اتنا عام ہوگیا کہ حکومت نے 1993 میں اسے نیشنل پارک کا درجہ دے دیا تاکہ قانونی طور پر ان ریچھوں کی بقایا چند کی تعداد کو تحفظ ملے. لیکن اگر آپ کو کوئی کراچی حیدرآباد سے اچانک اٹھا کر دیوسائی کے میدان میں بٹھا دے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا.؟

آپ کو سب سے پہلے سر درد ہوگا، دھڑکن تیز ہو جائے گی. گھبراہٹ ہوگی. دیوسائی 4 ہزار میٹر سطح سمندر سے بلند ہے. 5500 میٹر پر ہوا میں آکسیجن پچاس فیصد تو 8900 میٹر پر تیس فیصد ہوتی ہے. اس لئے آپ کے سردرد تیز دھڑکن کی وجہ دیو نہیں ہوں گے بلکہ آکسیجن کی کمی ہوگی. دل اس اچانک کمی کو پورا کرنے کیلئے تیز دھڑکے گا دماغ کمی کو درد کی شکل میں بتائے گا.

فرض کیا آپ سکون سے بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگیں زیادہ پانی پئیں. جسمانی حرکت نہ کریں تو کچھ ہی دیر میں آپ کا جسم اس نئے ماحول سے مطابقت بنا لے گا. اسے acclimatize ہونا کہتے ہیں. انجانے خوف کی بھی نشانیاں یہی ہوتی ہیں. تیز دھڑکن، تیز سانسیں، پٹھوں کا کچھاو کمزوری کا احساس وغیرہ.

بعض اوقات دماغ وسوسوں کی مشین بن جاتا ہے. نیا ماحول نئے لوگ نیا کوئی کام امتحان بن جاتا ہے. انجانے خوف جن کو ہم نہ بیان کرسکتے ہیں نہ سمجھ پاتے ہیں ہمیں لیکن ڈرا رہے ہوتے ہیں اور ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں. ہم میدان چھوڑ دیتے ہیں. خوف کے یہ سائے بس ہمارے دماغ کے اندر ہی ہوتے ہیں. حقیقت سے ان کا بس اتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا دیو سائی کے ساتھ دیو کا ہے. خود کو حالات سے مطابقت بنانے کا کچھ وقت دیں. آپ کا خود پر کچھ دیر کا یہ قابو ہی اسکا علاج ہے.

ریاض علی خٹک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں