81

ہماری ثقافت اور ہمارے تعلیمی ادارے

بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہماری ثقافت کیا تھی اور ہم موڈرن مغربی پالتو بننے کے چکر میں اپنی پہچان اپنی ثقافت چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے چل نکلے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے دین اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا مگر یہ ٹی وی شوز اور فحش اسٹیج ڈامہ فلمز کی وجہ سے ہماری ثقافت ختم ‏ہوتی جا رہی ہے۔ اور اب اسکول کالج یونیورسٹیوں میں جو ہو رہا ہے اس کو دیکھ کوئی غیر مسلم یہ تو نہیں بولے گا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور یہ مسلمان ہیں۔ مغربی فیشن کو اپنانے کے لیے ہم لوگوں نے اپنا آپ ہی بھلا دیا ہے ہم کیا تھے ہماری ثقافت کیا تھی ہم اپنے بچوں کو اسکول کالجز یونیورسٹیوں ‏میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں مگر وہاں اکثر جگہ پر مجرے اور پارٹیاں کروائی جا رہی ہیں اور ہماری نسل کو مغربی آزادی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے ایسے میں ماں باپ کو سوچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ یہ ‎#فحاشی کےاڈے ہیں یا تعلیم گاہ۔ ہمارے وقت میں صبح دعا ہوا کرتی تھی اور ہفتے ‏میں ایک دن نعت رسولؐ اور حمد اور شاعری کے مقابلے اور تاریخی سوالات کے مقابلے ہوا کرتے تھے اور بچوں کے نالج میں اضافہ ہوا کرتا تھا اب کیا ہو رہا ہے مجرے فیشن شو۔

بھیکاریوں جیسے کپڑے( ‎#پینٹ پھٹی گھٹنوں سے) اور آدھے جسم ننگے ٹائٹ جینز لڑکیوں کی مغربی لباس یہ سب کیا ہو رہا ہے ‏ہماری نسل کو مسلمان سے غیر مسلم تک کا سفر یہ موڈرن تعلیم گاہ کیوں بنا رہی ہے کیا کسی نے غور کیا۔ جناب یہ سب فنڈنگ اور پیسے کا چکر ہے ایسے بہودہ تجربے کیے جا رہے ہیں جس سے کچے ذہین کے بچے تو غلط راستے پر جا رہے ہیں مگر (کچھ والدین) یہ نہیں سوچ رہے کہ مغربی فیشن اور ثقافت اپنانے ‏کے چکر میں ان کی اولاد خراب ہو رہی ہے جیسا کہ۔

1_ماں باپ کی توہین کرنا۔

2_گھر دیر سے واپس انا۔

3_ماں کے سوال کرنے پر بدتمیزی کرنا۔

4_پرسنل زندگی کا بول کر رات کی تاریکی میں جانو مانو کرنا۔

5_ اور پھر لڑکے لڑکیوں کی سوچ مغرب جیسی بننے کا نقصان زنا فحاشی اور بدکاری کی طرف جانا۔

6_ماں باپ کی نافرمانی کرنا بزرگی کی عمر میں گھر سے نکالنا اور اگر گھر میں رکھنا تو توہین کرنا۔

وغیرہ وغیرہ۔

تعلیمی ادارے معاشرے کو سدھارنے کے لئے تھے مگر اب بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں اگر حکومت وقت اور والدین نے اس پر توجہ نہ دی تو یقین کریں آنے والی نسل ہماری مغرب سے دو ہاتھ آگے ہی ‏نکل جاۓ گئی، اس لیے خود پر اور اپنی آنے والی نسل پر احسان کریں ایسے اسکول کالج اور یونیورسٹیز میں اپنی اولاد کو مت ڈالیں جن میں مجرے فحش فیشن شو یا فضول قسم کی پارٹیاں رکھی جاتی ہوں اس سے پیسے ہی برباد ہوں گئے نہ کہ آپ کے بچے تعلیم حاصل کر پائیں گئے، کسی دیسی لبرل کو میری بات سے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چائیے کیونکہ حق بات لکھنا میرا حق ہے اور میرا قلم غلط کو غلط لازمی لکھتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں