پاکستان میں بڑھتے ہوئے زیادتی کیسز

آج کل ہم سوشل میڈیا پر پاکستان میں زیادتی کیسز کی بہت زیادہ ویڈیوز اور فوٹوز دیکھ رہے ہیں، یہ ایک بہت ہی خطرناک ٹرینڈ ہے اور پاکستان کی بدنامی کا سبب بھی بن رہا ہے اس کا قصور وار آخر مرد کو ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ سامنے یہی نظر آ رہا ہوتا ہے مگر ہم یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ ہر تصویر کے دو پہلو ہوتے ہیں خیر میں ان زیادتی کے کیسز کی طرفداری نہیں کر رہا بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ میں اس بےحیائی کی شروعات کہاں سے ہوئی، اس کی نشاندہی کروں اور ہماری ناسمجھ عوام کو یہ بتاؤں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بلکہ اس میں دو ہاتھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

محترم قارئین خواتین و حضرات جیسا کے دین اسلام میں زنا بہت بڑا گناہ ہے اور ہمیں اللہ پاک کی طرف سے سختی سے حکم ہے کہ زنا سے بچو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی دنیاوی سزا بہت سخت ہے دین اسلام کے قانون کے حساب سے اور اخرت میں جو عذاب ملنا وہ الگ سے ہے۔غیر مسلم نے ہمیشہ یہی کوشیش کی کہ کسی طرح مسلمانوں کو دین اسلام سے ہٹا کر دنیاوی عیاشی میں لگا دیا جاۓ اور وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں ہماری ہی جہالت کی وجہ سے۔اج کل موڈرن دور ہے ہر انسان اذادی سے زندگی گزارنا چاہتا ہے۔آذادی بھی وہ کہ نہ تو اُس کے ماں باپ سوال کریں نہ ہی کوئی دوسرا کہ کہاں تھے رات بھر کس کے ساتھ تھے اور کیوں؟

یہ وہ سوال ہیں جن کو آج کل کر توہین سمجھا جاتا ہے مجھے اج بھی یاد ہے کہ ہم جب شام کو پڑھائی سے فارغ ہو کر گراونڈ میں کھیلنے جاتے تھے تو مغرب کی آذان ہوتے ہی کھیل ختم کر دیا جاتا تھا کہ بابا جانی سے ڈانٹ اور مار دونوں کھانی پڑے گئی اور مغرب کی آذان سنتے ہی کھیل ختم کر کے گھر کی طرف دوڑ لگا دیا کرتے تھے پھر بابا کے ساتھ مسجد کی طرف نماز کے لیے جاتے تھے۔اس عمل کا ایک فائدہ تھا کہ ماں باپ کا ڈر تھا دل میں اور برائی کی طرف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے جبکہ آج کل ماں کو بیٹی کا علم نہیں ماں باپ کو بیٹے کا علم نہیں وہ رات بھر کہاں رہے کس کے ساتھ تھے۔اگر سوال کرو تو اگۓ سے اولاد الٹا جواب دیتی ہے۔ یہ قصور کس کا ہے اولاد کا نہیں جناب یہ قصور ماں باپ کی دی ہوئی آذادی کا ہے جو ہم نے موڈرن ہونے کے چکر میں مغرب امریکہ سے نقل کر کے اپنا لیا ہے وہاں تو فیملی سسٹم ہے ہی نہیں وہاں تو شادی کا کوئی رواج نہیں لڑکی 18سال کی ہوئی یا نہیں ہوئی وہ اپنے یار یعنی بوائے فرنڈ کے ساتھ مزے کر رہی ہوتی ہے انکی آدھے سے زیادہ آبادی بغیر باپ کی پیداوار ہے تو جناب آپ کس کی نقل کر رہے ہو اور اپنی اولاد کو کون سی آزادی دے رہے ہو پھر تو زنا زیادتی کے کیس روز ہی سامنے آئیں گئے نہ جب لڑکا لڑکی اکیلے موج مستی کریں گئے تو پھر بہت سے ایسے کیس بھی سامنے آئیں گئے جن میں لڑکا لڑکی پکڑے بھی جائیں اور کوئی تیسرا فرد ان سے جسمانی اور مالی فائدہ اٹھا لے، قصور مرد اکیلے کا نہیں ہے اس جرم میں ہمارا موڈرن بننے کا کیڑا اور ماں باپ کا ہے جو اولاد کو الگ روم موبائل کمپیوٹر تو دے دیتے ہیں مگر چیک نہیں کرتے وہ اِن چیزوں کا استعمال ٹھیک بھی کر رہے ہیں کہ نہیں کیا رات کو غلط اِن چیزوں کا غلط استعمال تو نہیں ہو رہا یا پھر وہ دن میں دوستیاں اور پھر جسمانی حواس تو پوری نہیں کر رہے اس چیزوں سے۔

ہمارے ایک عزیز تھے ڈسپینسر (بخاری صاحب) وہ مزاج کے کافی سخت انسان تھے جب میں 10th کلاس میں گیا تو کمپیوٹر سائیں رکھی ہوئی تھی تو میرے بابا جانی نے ہمیں کمپیوٹر لے دیا تو جب بخاری صاحب کو علم ہوا تو اُنھوں نے میرے بابا جانی اور مجھے گھر بولایا اور کہا کہ کمپیوٹر ایک بہت اچھی ایجاد ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ بری ایجاد بھی ہے اب یہ تم پر ہے اس کا استعمال کیسے کرتے ہو اچھائی یعنی (پڑھائی) کے لیے یا پھر برائی یعنی (گانے فلمز اور فحاشی) کے لیے یہ بات سن مجھے کافی شرم محسوس ہوئی اور بابا جانی کو بھی مگر پھر بخاری صاحب نے کہا کہ یہ بات میں صرف تمھارے گھرانے کی بھلائی کے لیے بول رہا ہوں اولاد کو تم نے بتانا ہے کہ اس کا استعمال کیسے کرے اور ہر روز رات کو ہسٹری چیک کرنی ہے کہ اس کا استعمال غلط تو نہیں ہو رہا۔تب سے آج تک مرحوم بخاری صاحب کی بات میرے دماغ میں گھر کر گئی ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں یہ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ اچھائی کی طرف جانا چاہتا ہے یا برائی کی طرف۔

اتنا سب لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اتنی آزادی نہ دیں کہ وہ کل کو ہمیں کہیں منہ تک دیکھانے کے قابل نہ چھوڑیں، آزادی دیں مگر چیک بھی کرتے رہیں کہ وہ اس آزادی کا فائدہ کیسے اٹھا رہے ہیں کن سے ملتے ہیں، کہاں رہتے ہیں دوستی کیسی ہے کن کے ساتھ ہے۔ زیادتی زنا کے کیسزکو روکنے کے لیے ہمیں اپنے آپ سے شروع کرنا ہو گا اپنی اولاد کو اس گناہ کا بتا کر کے دنیا میں کیسے رسوائی ہو گئی اور اخرت میں کیسا عذاب ملے گا مغربی نقل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جیسے کھوتے کو زیبرا نہیں بنایا جا سکتا ویسے ہی۔

تو مہربانی کریں اپنی اولاد پر نظر رکھیں اور اتنی بھی آزادی مت دیں کے کل کو وہ وہی آزادی وہ آپ کے منہ پر دے ماریں۔

میری باتیں دیسی لبرل اور مغربی فنڈز پر پلنے والی NGOs اور کچھ نوجوان نسل کو بہت بُری لگیں گی، مگر اپنا کام ہے قلم سے سچ لکھنا نہ کہ چاپلوسی کرنا شکریہ۔ اللہ پاک آپ سب کی حفاظت کرے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق دے آمین!