97

افغان صدر کو آخر مسئلہ کیا ہے؟

گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی کابل کے صدارتی محل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوست صوبے میں نئے ایئرپورٹ کا افتتاح کرنے گئے اور ایئرپورٹ کے اندر ہی چند منتخب عمائدین سے خطاب بھی کیا، اس خطاب میں انہوں نے چند ذومعنی جملے کہے جن میں انکے مخاطب افغان طالبان تھے لیکن اصل میں یہ جملے پاکستان کو سنائے جارہے تھے، صدر صاحب ایئرپورٹ میں چھپ کر اپنی تقریر میں طالبان سے سوال کرتے ہیں کہ ۔۔۔
کیا وہ افغانستان کے لیے لڑ رہے ہیں یا وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان دوسروں کے کنٹرول میں چلا جائے؟
اگر طالبان افغانستان سے محبت کرتے ہیں تو وہ وعدہ کریں کہ انہوں نے ڈیورنڈ لائن (پاکستان افغانستان سرحد) کو قبول نہیں کیا ہے۔
وہ وعدہ کریں کہ وہ افغانستان کے پانی کو فروخت نہیں ہونے دیں گے۔
وہ وعدہ کریں کہ وہ دوسروں کے لیے کام کرنے کو قبول نہیں کریں گے۔

یہ سوالات کرنے کے بعد محترم صدر صاحب کا کہنا تھا کہ کسی کو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں وہ رہتے ہیں۔

صدر صاحب کی بوکھلاہٹ طالبان کے اس بیان پر مزید بڑھ گئی ہے کہ طالبان نے افغانستان کے %85 حصے پر قبضہ کر لیا ہے، اس بیان میں حقیقت کتنی ہے یہ تو خدا بہتر جانتا ہے لیکن افغان صدر کا اس قبضے پر اپنی نااہلی چھپا کر سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنا اور پاکستانی بین الاقوامی سرحد پر متنازعہ بیان داغنا سراسر زیادتی پر مبنی ہے، ان سے اپنا ملک تو سنبھالا نہیں جارہا اور محترم پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، دوسری طرف پاکستان کو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے موجودہ افغانی لڑائیوں میں نیوٹرل رہ کر اپنی سرحدیں مضبوط بنانی چاہئیں، افغانستان نہ کبھی پہلے پاکستان کا خیرخواہ تھا نہ آئندہ ہوگا، یہاں جس کسی کی بھی حکومت آئے گی انہوں نے پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کے خواب ہی دیکھنے ہیں لہذا پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ اس دفعہ ایک بھی پناہ گزین اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دے، اگر ہمیں پہلے تیس لاکھ افغانوں کو پناہ دینے پر شاباش نہیں ملی تو آئندہ بھی نہیں ملنی، الٹا پناہ گزینوں کے بھیس میں دہشت گرد پاکستان میں تباہی مچانے ضرور آسکتے ہیں🥲🥲۔

طارق_محمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں