110

یوم یک جہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟

پچھلے 90 سال سے ہر سال 13 جولائی کو کشمیر سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیری اور پاکستانی یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں۔ 13 جولائی 1931 کو مہاراجہ کشمیر کے ظالم سپاہیوں نے سری نگر جیل کے باہر اذان دینے والوں کو یکے بعد دیگرے شہید کردیا تھا، یہ اذان 22 مؤذنوں نے اپنی جان دے کر مکمل کی تھی، جبکہ اس موقع پر بے شمار مسلمانوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ 13 جولائی کی قربانیوں کی یہ داستان بعد میں نہ صرف کشمیریوں کی تحریک آزادی کی بنیاد بنی بلکہ آج تک اس دن نے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ کشمیری ہر سال یہ دن اس نیت سے مناتے ہیں کہ وہ ایک دن انشااللہ انڈیا کے ریاستی جبر واستبداد سے نجات حاصل کرلیں گے۔ ہندوستان پچھلے 74 سال سے 8 لاکھ فوج کے ساتھ کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے اور ایک لاکھ کشمیری شہید کرنے کے باوجود کشمیریوں کا عزم و حوصلہ پست کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انڈین وزیراعظم مودی نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف یوم شہدا کی تعطیل ختم کردی تھی بلکہ 26 اکتوبر کو نام نہاد یومِ الحاق کے موقعے پر سرکاری تعطیل منانے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ ان تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھی غاصب ہندوستان کشمیریوں کی شناخت اور تاریخ مسخ کرنے میں ناکام رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیری عوام میں بھارتی ریاست سے نفرت مزید بڑھ رہی ہے۔

پاکستانی صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے یومِ شہدائے کشمیر پر اپنے پیغام میں کشمیری بھائی بہنوں کو سلام پیش کیا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کا تسلیم شدہ حق خود ارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اس موقع پر کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے 22 بیٹوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں نے ان دن کی مناسبت سے کشمیریوں کیساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ 

سویڈن اور فن لینڈ میں پاکستانی سفیر جناب ڈاکٹر ظہور احمد صاحب نے ایمبیسی کے ٹوئیٹر اور فیس بک پیج پر مقبوضہ کشمیر کے 22 بیٹوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایک دن انشااللہ کشمیر کے شہداء کا خون رنگ لائے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھی آزاد کشمیر کی طرح آزادی کی صبح طلوع ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں