118

ہمارے معاشرے میں موجود مصنوعی خواجہ سرا

مالک کائنات نے ہر جاندار چیز کو جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے:

‏یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-

ترجمہ : اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پھیلا دئیے۔

‏قدرت اپنی طاقت کا اظہار انسان اشرف مخلوقات کو دنیا کے رموز سمجھانے کے لیے

‏یا یوں کہہ لیجئے کہ بنی آدم کو غور و فکر کرنے کے لیے انھی میں سے کچھ کو ادھورا بنا کر بھی کرتی ہے لیکن بنی آدم اسے پیار سے خواجہ سرا کہنا شروع کردیتے ہیں، دیگر الفاظ بھی اس جنس کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور یہ ادھورا پن والی صنف خواتین و حضرات دونوں میں پائی جاتی ہے۔ خواجہ سرا خواتین میں بھی ہوتی ہیں اور مردوں میں بھی، لیکن معلومات کا فقدان یا تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی نشان دہی نہیں ہو سکتی۔

میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک خاتون خواجہ سرا دیکھی ہے، اس جنس نے کوئی بھی مردانہ پیشہ اپنانے کی بجائے ناچ گانے کو ہی ترجیح دی ہے۔اسلام میں ناچ گانا منع ہے لیکن دین سے لاعلمی کی بدولت کچھ دھاہیاں قبل یہ شادی بیاہ اور دیگر شادمانی کے مواقع پر مدعو کیے جاتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شادیوں میں شرکت کم ہو گئی تو متبادل ذریعہ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے اس طبقہ کے بیشتر افراد نے بھیک مانگنی شروع کر دی ہے۔

‏اب آج کے اس کالم کے اہم مسئلے کی طرف آتے ہیں، اس طبقے کی آمدن کو دیکھتے ہوئے کچھ مرد حضرات نے اپنا عضو کٹوا کر خود کو خواجہ سرا بنا لیا اور اس طرح مصنوعی خواجہ سرا بھی میدان میں آ گئے یہ مرحلہ بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے اور اس میں جان جانے کا خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ پھر یوں ہوا کہ اس قافلے میں خوبصورت مرد بھی شامل ہونے لگ گئے، وہ ہر لحاظ سے مکمل مرد ہوتے ہیں صرف خواتین کا لباس ، میک اپ اور چہرے ، بازوؤں پر سے بال انتہائی تکنیک سے اتار لیتے ہیں اور عام دیکھنے والے افراد کو ان کی پہچان نہیں ہو سکتی ان افراد کی کثیر تعداد جرائم پیشہ ہوتی ہے۔

ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں کہ یہ خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی خوشی کی تقریب میں گئے اور واپسی پر کسی بھولی بھالی لڑکی کو ساتھ لے گئے، یہ منشیات فروش بھی ہوتے ہیں یہی افراد خواجہ سراؤں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ مقامی پولیس کے تعاون سے ایسے افراد کا قلع قمع ممکن ہے لیکن معاشرے کی عدم توجہی اور رشوت کے عام ہونے کی وجہ سے یہ افراد قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔

‏ایسے مصنوعی خواجہ سرا لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

‏معاشرے کو ایسے افراد کے خلاف قانون کی مدد لے کر بیخ کنی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں دیگر جرائم کی طرح اس ناسور کو بھی ختم کیا جا سکے۔

‏⁧#حبیب_خان⁩

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں