66

کامیاب زندگی کا حصول کیسے ممکن ہے؟

دیو ہیکل بوئینگ 747، ایک 71 میٹر لمبا جہاز ہے. پانچسو سے اوپر سواریاں لے کر یہ کسی ائیر پورٹ پر ایسے ہی نہیں اتر جاتا بلکہ گراونڈ پر موجود کنٹرول ٹاور کے ساتھ مل کر ایک مکمل اپروچ بناتا ہے. ہوا کی طاقت اور سمت کے مطابق انجن کی طاقت سیٹ کرتا ہے. کیونکہ فائنل اپروچ ہمیشہ ہوا کے مقابل کرنی ہوتی ہے. رن وے کلئیر ہے زمین ہموار ہے اور 7500 فٹ طویل رن وے دستیاب ہو تب ہی یہ لینڈنگ گئیر کھولتا ہے.

آج آپ کو اچانک کوئی کہہ دے ایک کلومیٹر دوڑنا ہے. آپ چند سو گز کے بعد سانس سانس ہوں گے. دل بے ترتیب دھڑک رہا ہوگا. جسم ہانپ ہانپ کر بتا رہا ہوگا یہ مجھ سے نہیں ہوگا. اور آپ بیٹھ جائیں گے. بیٹھنا مسئلہ نہیں مسئلہ ہمیشہ وہ مائنڈ سیٹ بنتا ہے جو یہ مان لیتا ہے کہ میں اب دوڑ نہیں سکتا. جبکہ غلط صرف ہماری اپروچ ہوتی ہے.

آج آپ فیصلہ کریں میں نے ایک مہینے بعد ایک کلومیٹر دوڑ لگانی ہے. آپ روزانہ صبح شام دوڑنا شروع کر دیں. تب بھی آپ کی سانس زیر و زبر ہوگی لیکن تب آپ کے پاس وقت ہوگا جو اپنی تربیت اور تیاری کر کے روزانہ چند گز بڑھاتے بڑھاتے مہینے بعد اسے ایک کلومیٹر کیلئے تیار کر لے گا.

ہماری عملی زندگی میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جو ہمارا ایک مائنڈ سیٹ بنا لیتا ہے جو عمل سے پہلے ہی اعلان کرتا ہے یہ مجھ سے نہ ہوگا. اپنا یہ مائنڈ سیٹ ہم اپنی اپروچ بدل کر ری سیٹ کر سکتے ہیں. یاد رکھیں یہ بڑے بڑے جہاز بھی اڑنے کیلئے ہوا کو پشت پر اور لینڈنگ کیلئے ہوا کو منہ پر سہہ کر ہی کامیاب پرواز کرتے ہیں. ہوا آپ کے کنٹرول میں نہیں لیکن آپ کی اپروچ آپ کا انتخاب ہے. آپ کا مائنڈ سیٹ آپ کی زندگی کا انجن ہے. اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہے تو اپنی اپروچ بدلیں. اسے محنت اور استقامت کی تربیت دیں.

ریاض علی خٹک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں