فطرت انسانی

فطرت کا معنی خلقت ، جبلت اور ساخت (طبعی حالت) ہے، انسان اپنی پیدائشی حقیقت کو مد نظر رکھے تو اسے سب سے پہلے اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ خالق کائنات نے اسے پیدا کیا ہے اسلئے بحیثیت مخلوق اس کی خالق کے ساتھ ایک نسبت ہے۔ جبلت جسے آپ عادت بھی کہہ سکتے ہیں لیکن عادت سیکھنے سے آتی ہے اور جبلت اس کے مزاج میں شامل ہوتی ہے

لیکن جبلت اور عادت کے سرزد ہونے کا طریقہ تقریباً ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ ساخت ایسی طبعی حالت کو کہتے ہیں جو کسی صنف سے مطابقت رکھتی ہو۔ جب یہ تینوں عوامل یک جا ہو کر ردعمل دیتے ہیں تو اسے فطرت کا نام دیا جاتا ہے۔ جب حضرت انسان اپنے خالق کا عبد یا بندہ بن کر عاجزی اور انکساری کو اپناتا ہے اورحکم بجا لاتا ہے تو عین فطرت کے وہ عمل کر رہا ہوتا ہے اور اپنی جبلت کے تحت وہ اپنے کام بھی سرانجام دیتا ہے اور اپنی ساخت یا ہیئت کے مطابق اپنی ہی نسل کی مخلوق میں مل جل کر رہتا ہے لیکن ان ساری صفات پر عمل کرنے میں شیطان مداخلت کرتا ہے اور اس کی توجہ خالق کی طرف سے ہٹانے کے لیے مختلف تدابیر اور حربے آزماتا ہے اور انسان کواس کی جبلت کے برعکس کام کرنے پر مجبور کرتا ہےاور مختلف ترغیبات دیتا ہے اور انسان انفرادی طور پر اپنی ساخت سے ہٹ کر ایسے کام کرنے شروع کر دیتا ہے کہ اسے دیگر انسان غیر فطری جانتے ہوۓ رد کر دیتے ہیں اور معاشرے میں اس کی حیثیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

دین اسلام کو اسی لیے دین فطرت بھی کہتے ہیں کہ وہ بنی آدم کو اس کی اصل کی پہچان کرا کے اس کے راستے کا تعین کرتا ہے اور اسے ایک منظم معاشرے کا حصہ بناتا ہے۔ آج کے دور میں انسان کا شیطان سے زیادہ رابطہ بھی غیر فطری عوامل کی وجہ سے ہو گیا ہے اور انسان غیر منظم ہو کر معاشرے میں فساد کا سبب بننے لگا ہے۔ انسان نے مزاج اور فطرت کے خلاف پائے جانے والے راستے کا تعین کر لیا ہے جس سے فتنہ فساد ، بے راہ روی ، لالچ اور سبقت لینے والے وقتی فوائد کو مد نظر رکھ کر اپنے راستے کی رہنمائی خالق کائنات سے لینے کی بجائے خود ساختہ قوانینِ اور رواج کو اپنا کے لیتے ہیں۔ نتیجتاً آج دنیا مختلف تنازعات اور لغویات کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

کچھ دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ فطرت بدلی جا سکتی ہے میں کسی حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ پیدائش کے بعد لاشعوری دور میں انسان کو اپنی فطرت سے دور رکھا جا سکتا ہے اور بعض دفعہ انسان کے مزاج کو اور جذبات کو تسکین پہنچانے والی اشیاء اور حرکات اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن جلد یا بدیر اسے حقیقت کا ادراک ہو ہی جاتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ بوجہ اس ماحول سے خود کو الگ نہیں کر سکتا، اس وجہ کی بھی تھوڑی وضاحت کر دوں لالچ اور خوف یہ دونوں ایسے عناصر ہے کہ ان پر قابو پانا انتہائی مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے اور یہی بربادی کی ابتداء اور انتہا کرتے ہیں۔