88

،،گا ؤ ں ،،کے نام

گاؤں سے شہر آ ئے ہو ئے ابھی ہما رے جمعہ جمعہ اٹھ دن بھی نہیں ہو ئے تھے کہ ایک دن محلے کی مسجدکے لا ئو ڈ سپیکر پر کسی ،،اماں جی،، کے مرنے کااعلا ن ہوا۔گا ئوں کی مسجد سے جب بھی اس طرح کاکوئی اعلان ہوتاتوہماری ماں کی ہچکیاں بندھنے کے ساتھ پھر آنسوبھی موسلادھار بارش کی طرح برسنے لگتے۔ ماں سے واقعی کسی کاغم برداشت نہیں ہوتاتھا۔ گاؤں میں دوربھی کوئی ماتم ہوتا توآنسوماں کے ضرور چھلک پڑتے۔ شہر کے شور وغوغا میں ایک انجان اماں جی کی وفات کااعلان سن کر ماںاپنے ضبط پرقابو نہ رکھ سکیں اوراعلان سنتے ہی زوروقطاررونے لگیں ۔ پھوٹ پھوٹ کررونے سے دل جب تھوڑاہلکااورآنسوتھم گئے توہم نے پوچھا ۔ ماں جی ۔ یہ شہر ہے گا ئوں تونہیں کہ آپ ہراعلان پر اس طرح آنسوبہایاکریں گی ۔ماں نے اس وقت جوبات کی وہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔ماں بولی ۔پتر ۔دکھ، درد اورغم کاکوئی قوم ،قبیلہ، حسب نسب ،گائوں اورکوئی شہر نہیں ہوتا ۔غم صرف غم ہوتا ہے ۔یہ چاہے گا ئوں میں ہویاپھرشہرمیں ،امیرکاہویاپھرکسی غریب کا۔اس کے بعد ماں جب تک زندہ رہیں اس نے شہر میں بھی گا ئوں کے اس ماحول وروایات کوبھی ہمیشہ زندہ رکھا۔کوئی قر یب مر تا یا دور،اپنا ہوتا یا کوئی بیگانہ ۔ہر ماتم اور غم پرماں جی کے آنسو ضرور نکلتے۔سچ تو یہ ہے کہ ماں کی زندگی میں ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم شہر میں رہ رہے ہیں یاپھر گائوں میں۔لیکن جب سے ماں ہمیں چھوڑکراللہ میاں کے پاس گئی ہیں تب سے شہر ہمیں اب صرف شہرہی لگ رہاہے۔آج بھی اسی شہرمیں محلے کی اسی مسجدسے روزنہ جانے ،،انتقال پر ملال ،،کے کتنے اعلانات ہوتے ہیںاورنہ جانے اسی محلے میں روزکتنے گھروں میں ماتم برپا ہوتاہے مگرہم کیا۔۔؟

محلے میں ہمارے آس پاس اورآڑوس پڑوس میں رہنے والوں میں سے کسی کوبھی اس کی کوئی خبراورکوئی پرواہ نہیں ہوتی۔اس کے برعکس گا ئو ں آج بھی وہی گائوں ہے ۔ما نا کہ جد ید سائنس ،انٹرنیٹ ومو بائل کی بہتات یاسہو لیات نے آ ج ہر گا ئوں،دیہات اورہرعلاقے کوبھی شہرکے قر یب لا کھڑا کردیا ہے مگرخو شی کی بات یہ ہے کہ ان جد ید سہو لیا ت ،واہیا ت اور نت نئے رسو ما ت کے با و جودگا ئو ں کا ،،میر اغم تیراغم،،و الاوہ پرانا ماحول ،نظام اورروایات آج بھی اسی طرح قائم ودائم ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ وقت گز رنے کے ساتھ گا ئوں کے حالات بھی بد ل بہت بد ل چکے ہیں ۔شہر وں کی طرح اب گا ئوں میں بھی کوئی چیز خالص نہیں ملتی بلکہ اکثر گا ئوں تو اب شہری مصنو عات اورایجا دات پرہی چل رہے ہیں ۔شہرو ں کی طر ح اب گا ئو ں اور دیہات میں بھی مکئی کی روٹی ،ساگ اور لسی کی جگہ مٹن،چکن اور بریانی سے مہمانوں کی تو اضع کی جا تی ہے ۔

مٹی کے گھروں کی جگہ بھی شہری اینٹوں،سر یا ،سیمنٹ اورنیلے پیلے پینٹ نے لے لی ہے ۔اور تو اور۔۔وہ دیسی مرغیاں جوانڈوں کے ساتھ ایمر جنسی میں یخنی کے کام آتی تھیں اوروہ خالص دیہاتی مرغے جو تہجد کے لئے لوگوں کواٹھانے کا فریضہ کبھی سرانجام دیاکر تے تھے اب تووہ مر غیاں اور مرغے بھی کہیں پہاڑوں اوربیابانوں میں گم سے ہوگئے ہیں ۔ان کی جگہ بھی اب گا ئوں ا ور دیہات کے کھیتوں و کھلیانوں میں وزیراعظم پا کستان والی مرغیاں اور مرغے دند ناتے پھر رہے ہیں ۔اس کے علا وہ بھی گا ئوں اور دیہا ت پر شہر کا اور بھی بہت رنگ چڑھا ہوا ہے ۔شہر کے تندور،ہو ٹل، مارکیٹس،حجام کی دکان اور نئے نئے شہر ی پکوان سمیت وہ کو نسی چیز ہے جو آج گائوں اور دیہات میں نہیں لیکن ان سب کے با وجود وہ آپس کا تعلق ،بھائی چار ہ،مشتر کہ رو ایات ،رسم وراج آج بھی سب کے درمیان اسی طرح قائم ہیں ۔گا ئو ں کا ہر شخص اور فرد آج بھی دو سرے کے دکھ ،درد اور غم کو اپناغم سمجھ رہاہے ۔شہر میں تو ایک گھر میں جنازہ پڑاہوگا اورساتھ متصل دوسرے گھرمیں ڈول اورباجے بجائے جا رہے ہوں گے لیکن گا ئوں میں آج بھی ایسا نہیں ۔کسی کے گھر ماتم ہو سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ ہفتے اور مہینے تک پھرپورے گائوں میں کوئی ڈول یا باجابجے۔شا د ی بیا ہ میں شر یک ہونے کے لئے کسی کے پاس ٹائم ہو یا نہ ۔۔کو ئی شر کت کر ے یا نہ ۔لیکن غم چا ہے کسی کا بھی ہو یا کسی کے گھر بھی ہو ۔اسے گا ئوں کا ہر شخص آ ج بھی اپنا غم سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ماتم پر پھر پو رے گا ئوں میں سو گ کاعالم ہوتا ہے ۔

شہرمیں تو آ ج بھی رہنے وا لوں کو اپنے آس پاس اورآڑوس پڑوس کاکوئی پتہ نہیں ہوتا۔ساتھ والے گھر میں کیا ہوا۔؟ یا کیا ہورہا ہے۔؟یاپڑوسی کے غریب بچوں نے کچھ کھایا پیا ہے کہ نہیں ۔واللہ شہر وں میں ہمارے جیسے نام کے اکثر پڑوسیوں کواس کا کو ئی پتہ بھی نہیں ہو تا۔ لیکن گا ئو ں میںہر گھنٹے دوگھنٹے بعدایک دو سرے کی خیر خبرلینا اورخیر یت د ریافت کرنے کا رواج آج بھی عام ہے ۔شہر میں کسی سے پو چھیں ۔بھائی کیسے ہیں ۔؟توو ہ مو نچھوں کو تائو دیتے ہو ئے کہے گا ۔جیسا بھی ہوں تمہیں کیا۔؟مگر گا ئوں میں نہ کو ئی مو نچھوں کو تا ئو دیتا ہے اور نہ ہی سیر کی جگہ کوئی پائو۔شہر میں تو جنازہ کسی اپنے کا نہ ہو تو کوئی کند ھا بھی نہیں دیتا لیکن گا ئوں میں صرف اپنوں نہیں بلکہ غیروں کے جنازوں کو بھی ایک نہیں ہزاروں کند ھے مل جا تے ہیں ۔گا ئو ں اور گا ئوں کے لو گوں کی یہی چند خاصیتیں دیہا ت کے ایک ان پڑھ اور جاہل دیہا تی کو بھی انسان اورانسانیت سے عاری شہر کے ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر، پو لیس افسر، سرمایہ کار، تاجر، بیوروکریٹ اورسیاستدان سے ممتاز کردیتی ہیں۔

رنگ بر نگی قمقوں ،خو بصورت بازاروں،بڑی مارکیٹوں،نا ئٹ ووائٹ کلبوں اور عا لیشا ن محل وتا ج محل کی وجہ سے لوگ شہر وں سے پیار کرتے ہیں لیکن ہمیں آج بھی اپنے کھنڈر نما گائوں پر ناز ہے جس نے شہر کے مقابلے میں ہمیشہ کھڑکتی دھوپ میں ہمیں سا یہ اور آند ھی وطو فان میں سہا را دیا ۔ہم اس گا ئوں کو کیسے بھو لیں جس گا ئو ں نے ہمیں ہمیشہ پیار ،محبت اور سکون دیا ۔شہر میں تو آ ج بھی کسی سے پانی کے چند گھو نٹ مانگو تو وہ حسب نسب ،قوم قبیلہ پو چھے بغیر پانی کاایک گھو نٹ بھی نہیں دیتے لیکن گا ئو ں میں دشمن کو وقت پر کھانا بھی بغیر مانگے مل جاتا ہے ۔شہر وں کی رو نقیں اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی روایات ،کلچر ،ثقافت اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو بچانے کے لئے ان شہر وں کو بھی گا ئو ں ماڈ ل دینا ہو گا۔جب تک ہم گا ئوں کی وہ خالص محبت،پیار،بھائی چارہ اوردکھ دردکویہاں شہروں میں بھی عام نہیں کرتے تب تک ہمیں زندگی میں سکون کبھی نہیں ملے گا۔مانا کہ زندگی کی ہر سہولت آج شہر میںمو جو د ہے لیکن سکون پھر بھی گا ئوں کی زند گی میں ہے۔واللہ ۔گا ئوں کے مقا بلے میں آ ج بھی ان رنگا رنگ شہر وں کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔یقین نہ آئے توشہر کے اس شوروغوغا سے اپنے گا ئوں کی طرف نکل کر دیکھیں ۔آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور دل کو سکون نہ ملا تو پھر کہنا ۔کیو نکہ گا ئوں ہمار اہو یاتمہارا ۔گا ئوں آخر گا ئوں ہی ہے ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں