143

ہوشیار خبردار

اللّٰہ پاک نے انسان سمیت اپنی تمام مخلوقات کو دنیا میں کسی نہ کسی مفاد کے لیے پیدا کیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بنی نوع انسان اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بھی رب کریم کے رموز کو سمجھ نہیں سکا ہے۔ میرے ایک عزیز دوست، جن کا ایک بیٹا مجنون (دماغی توازن درست نہیں) ہے، ایک دن اپنے گھر گوشت لائے اور بیگم کو اصرار کیا کہ اپنے ہاتھوں سے بنائیں تاکہ سالن کی لذت دوبالا ہو جائے، انکے گھر کے تقریباً دس افراد تھے سو گوشت بھی وافر مقدار میں لائے۔ بیگم نے بھی اپنی پوری عقل و فہم کو استعمال کرتے ہوئے سالن تیار کیا اور تیار کرنے کے بعد ڈھانپ دیا۔ جب دوپہر کو سب لوگ جمع ہو گۓ تو محترمہ نے سالن ڈالنے کے لیے برتن سے ڈھکن اٹھایا تو برتن انھیں یقین دلا رہا تھا کہ مجھ میں تو کچھ بھی نہیں۔

محترمہ حیرت اور پریشانی کے عالم میں کبھی برتن کو اور کبھی خاوند کو دیکھتیں۔ خاوند کے استفسار پر بیگم نے صورتحال سے آگاہ کیا تو خاوند کے ذہن میں پہلی بات یہی آئی کہ مجذوب بچہ کھا گیا ہے۔ غصے سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔ انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس پاگل بچے کو مارنا شروع کر دیا۔

گھر کے افراد نے مشکل سے اس بچے کی جان چھڑائی۔ اور بیگم نے فوراً متبادل بندوبست کیا۔ اور مہمانوں کو کھانا کھلایا، اس کے بعد ان کے گھر میں عجیب وغریب واقعات ہونے لگے، کبھی کسی بند کمرے کے اندر آگ لگ جاتی تو کبھی چارپائیاں جل کر خاکستر ہو جاتیں، اہل خانہ کے علاؤہ قریبی رشتہ دار بھی بہت پریشان تھے، مجھے بھی معلوم ہوا تو میں بھی انکے گھر چلا گیا۔مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسے بھی ہو سکتا ہے، خیر میں ان کے گھر ایک صوفے پر بیٹھ کر گفتگو میں مصروف تھا کہ اچانک مجھے ایک صاحب نے جو کے میرے بالکل سامنے بیٹھے تھے مجھے بازو سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے دور لے گۓ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو صوفے نے آگ پکڑ رکھی تھی، یا حیرت پھر تو یقین کرنے کے سوا چارہ نہیں تھا، بہرحال کچھ دنوں بعد معلومات ملیں کہ کسی بزرگ ہستی کو گھر پر بلایا گیا اور انھوں نے گھر پر دم کیا اور اہل خانہ کو منع کیا کہ آئندہ اس بچے کو کچھ نہ کہیں۔

‎#حبیب_خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں